انٹرنیٹ کی اسپیڈ جیسے مسائل کو کیسے حل کیا جائے؟

انٹرنیٹ کی اسپیڈ جیسے مسائل کو کیسے حل کیا جائے؟

پاکستان سمیت دنیا بھر میں کورونا کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کے پیش نظر جہاں تعلیمی ادارے غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیے گے ہیں۔ وہیں ملازمت پیشہ افراد کو بھی ورک فرام ہوم یعنی گھر سے کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

اسکول بند، کاروباری مراکز کی بندش، گلیاں ویران اور گھر آباد، ایسے میں گھر سے آفس کا کام کرنا ملازمت پیشہ افراد خصوصاً شادی شدہ افراد کے لیے کسی چیلنج سے کم نہیں۔ گھر سے کام کرنے والے افراد کا ماننا ہے کہ اگر آپ کو گھر میں خاموشی اور تنہائی میسر ہے تو آپ کی آدھی سے زیادہ مشکلات تو ختم ہوگئیں۔

ان افراد کا دوسرا بڑا مسلہ انٹرنیٹ اسپیڈ ہے، چونکہ گھر سے فرائض منصبی انجام دینے کے لیے تیز رفتار انٹرنیٹ کا ہونا بے حد ضروری ہے۔ کورونا وائرس کے باعث ہونے والے لاک ڈاون سے انٹرنیٹ صارفین کی تعداد میں کافی اضافہ ہوا ہے جس کے بعد صارفین انٹرنیٹ کی سست رفتاری کا گلہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ گھر سے کام کرنے والے افراد خاص طور پر اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔

علینہ ضیا نجی ٹی وی چینل کے ڈیجیٹل ڈپارٹمنٹ سے منسلک ہیں اور آج کل گھر سے کام کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گھر سے کام کے کافی فوائد ہیں، ٹریفک جیسے مسئلوں سے گزر کر دفتر پہنچنے سے بچ جاتے ہیں۔ علینہ ہر روز اپنے وقت پر گھر سے کام کا آغاز کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دفتر جیسی سہولیات گھر میں میسر نہیں ہو سکتیں لیکن تاحال انہیں انٹرنیٹ اسیڈ کے علاوہ خاص مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

دوسری جانب تعلیم کے شعبے سے وابستہ افراد بھی گھر سے کام کرنے کے حوالے سے شکایات کرتے نظر آتے ہیں۔ مریم ایک نجی اسکول کے ساتھ وابستہ ہیں، انہیں روزانہ کی بنیاد پر لیکچر ریکارڈ کر کے معاون اساتذہ کو بھیجنا ہوتا ہے، جنہیں وہ بچوں کے والدین تک پہنچا دیتے ہیں۔ مریم کے نزدیک یہ نسبتاً آسان ہے لیکن اس میں والدین کو بھی بچوں کے استاد کا کردار نبھانا پڑتا ہے جو ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے۔

انٹرنیٹ کی اسپیڈ جیسے مسائل کو کیسے حل کیا جائے؟

ٹیلی کمیونیکیشن سے متعلق ایک معروف ویب سائٹ نے گھر سے کام کرنے والے افراد کو پیش آنے والے انٹرنیٹ اسپیڈ جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے کچھ ٹپس / مشورے دئیے ہیں، جو درج ذیل ہیں۔

گھر سےکام کرنے والے افراد سب سے پہلے تو اس بات کو یقینی بنائیں کہ انہیں پیش آنے والے مسائل انٹرنیٹ سے متعلق ہی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ گھر سے کام کر رہے ہیں اور آپ کے کام کرنے کی رفتار بہت سست ہے تو ممکن ہے آپ کے کام میں کوئی رکاوٹ درپیش ہے۔ لہذا پہلےاس کی یقین دہانی کر لیں کہ اصل مسئلہ کیا ہے؟ اور یہ انٹرنیٹ سے متعلق ہی بھی کہ نہیں؟

کوشش کریں کہ کام کے اوقات میں ساری غیر متعلقہ ڈیوائسز کو اپنے روٹر سے منقطع کردیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ لیپ ٹاپ سے کام کر رہے ہیں اور انٹرنیٹ کی رفتار کم ہے تو موبائل یا ٹیبلیٹ پر انٹرنیٹ بند کردیں، جس سے لوڈ کم ہوتا ہے اور انٹرنیٹ بہتر چلتا ہے۔ یاد رکھیں کہ بیک وقت جتنی ڈیواسز کا ایک انٹرنیٹ سے رابطے میں ہوں گی اتنا ہی لوڈ زیادہ ہوگا۔

کوشش کریں کہ آپ کا ورک اسٹیشن یا کام کرنے کی جگہ روٹر کے قریب ہو۔

روٹر یعنی انٹرنیٹ ڈیوائس کو کسی اونچی جگہ پر رکھیں جہاں سے وہ انٹرنیٹ کے سگنل کو ٹھیک طرح کیچ کرسکے۔

Nazesh Hassan

پاکستان ٹرائب کی ادارتی ٹیم کا حصہ رہنے والے نازش حسن سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ وہ ماس کیمونیکیشن کی گریجویٹ اور سیاسی، سماجی اور انسانی دلچسپی کے موضوعات پر لکھتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *