اٹھارہ سو پاونڈ ہیں، تیرے کو چاہیے کیا؟ – قاضی نصیر عالم

اٹھارہ سو پاونڈ ہیں، تیرے کو چاہیے کیا؟ – قاضی نصیر عالم

پتہ نہیں جودھا بائی کے دودھ کی نسل در نسل منتقل ہونے والی تاثیر کا کرشمہ ہے یا حقیقت۔ لیکن میں نے ہندو لڑکیوں کو انتہائی نرم دل پایا ہے۔ وفا کی جیسے مورتیاں ہوں۔ ان میں سے ایک کے والد ممبئی میں شیو سینا کے ایم ایل اے تھے۔ وہ مہینہ دو مہینہ اکھڑی سی رہی۔ ۔پھر نوبت با ایں جا رسید کہ ان کے آپس کے جھگڑے بھی مابدولت نمٹانے تھے۔ قاضی، ‘سم ون کیپٹ یور نیم ویری رائیٹلی’ اس کا یہ جملہ آج بھی کانوں میں گونجتا ہے۔

واقعات تو بہت سے ہیں لیکن ایک واقعہ نہ آج تک بھول پایا ہوں نہ کبھی بھولے گا۔ ہوا یہ کہ ایک کلاس فیلو دوست کے بھائی کی پاکستان میں اچانک حادثے میں موت واقع ہوگئی۔ پانچ دن یونیورسٹی جانے کے بعد دو دن کی جاب سے اتنے ہی پیسے بچتے تھے کہ سگریٹ، گاڑی کی انشورنس، گھر کا کرایہ اور گروسری خریدی جا سکے۔ اوپر سے بھاری بھرکم فیس۔ سب ہی کنگلے تھے۔ ارد گرد پوچھا تو امید بر نہیں آئی۔

قریب تھا کہ چپ کر کے بیٹھ جاتا کہ واجد کو فون کیا اور صورتحال بتائی۔ اس نے ایک عجیب ہی بات کہی۔ کہنے لگا یار قاضی جب اپنے اوپر آتی ہے نا تو بندے کو سارے راستے پتہ ہوتے ہیں جب کسی اور کا معاملہ ہو تو بندہ بڑے مزے سے کہہ دیتا ہے کہ کیا کر سکتے ہیں۔ کچھ پیسے میں بھیج رہا ہوں باقی اپنی کوشش کرو۔ اس کی بات نے ہلا کر رکھ دیا۔ اگر یہی صورتحال مجھے درپیش ہوتی تو میں کیا کرتا۔

بس پھر ساری ملی و قومی غیرت کو ایک طرف رکھا اور دوسرے ڈیپارٹمنٹ کی ایک ہندو لڑکی کو فون ملایا۔
کہاں ہو ؟؟
ڈنر کرنے آئے ہوئے ہیں بولو سب سیٹ ہے نا؟ اس نے پوچھا
اکاونٹ میں پیسے کتنے پڑے ہیں؟ میں نے بنا کسی تمہید کے پوچھا۔
اٹھارہ سو پاونڈ ہیں تیرے کو چاہیے کیا؟ بول؟؟ اس نے جواب دیا۔
مجھے حیرت کا جھٹکا لگا کہ یار اتنی صاف گوئی؟ کہہ سکتی تھی کہ سو دو سو ہونگے۔ اتنی سمجھدار تو وہ بھی تھی کہ اکاونٹ اور پیسوں کا کیوں پوچھ رہا ہے۔
اب تیسرا سوال پوچھا۔ تمہاری فوری ضرورت کے کتنے ہیں ؟؟
دو ڈھائی سو پاونڈ بس۔ باقی کا مسلۂ نہیں اگر کہو تووہ بھی میں مینیج کر لوں گی۔ اتنے میں کام چل جائے گا یا میں کسی سے لے لوں۔
میں نے کہا نہیں یہ کافی ہیں اسی شب اس سے پیسے وصول کیے دوست کے ٹکٹ کٹوائے اور اسے لندن چھوڑنے چلا گیا۔

مزید پڑھیں: بے شک میں ظالموں میں سے ہوں – افشاں نوید

وقت گزر گیا۔ایک حسین یاد دل پر نقش ہو کر رہ گئی۔ آج اس نے ٹائمز آف انڈیا کا لنک بھیجا جس میں کرونا کے دوران ہندوؤں کو راشن نہ دینے کی خبر تھی اور پوچھا؟؟
از دس ٹرو؟؟
دل میں آیا کہ اپنے بیس سال کے ہندو پڑوسی سے جا کے بات کروا دوں کہ بتاؤ اتنے عرصے میں تمہیں ہم سے کوئی تکلیف پہنچی۔ کون سا ایسا موقع تھا کہ تمہیں ضرورت پڑی اور ہم تمہارے ساتھ نہیں کھڑے تھے۔ لیکن ایسا کچھ نہیں کیا۔

میں نے الخدمت فاونڈیشن کی طرف سے مندوروں اور چرچ میں کیے جانے والے جراثیم کش اسپرے وغیرہ کی اسے تصاویر بھیجیں اور بتایا کہ الخدمت اور جماعت اسلامی دونوں کو گوگل کر لینا۔ فار رائیٹ پولیٹکل پارٹی ہے یہ۔ اور یہ سرگرمیاں اسکی ہیں۔
سو الخدمت از پارٹ آف رائیٹ ونگ؟؟
اس نے تصویریں دیکھنے کے بعد پوچھا۔
میں نے کہا گوگل سے پوچھو وہ بتائے گا کتنی رائیٹ ونگ جماعت ہے۔
اس سادہ طبیعت کی تو تسلی ہو گئی لیکن پڑوس میں بیٹھے تمام لوگوں کو اس وقت وہ ہی بتا سکتے ہیں جو اس کار خیر میں شریک ہیں۔

الخدمت عالمگیر ٹرسٹ سمیت جتنے ادارے ہیں وہ اس حوالے سے بھی خصوصا اپنی سرگرمیوں کو بھی اجاگر کریں اور جہاں کہیں کوئی کمی ہے تو اسے دور کریں۔ اللہ کی مخلوق بہت تکلیف میں ہے۔ اور ہاں یہ جو چرچ کی تصویریں ہیں نا۔ اس میں اسپرے کرنے اپنا ایک بہت پیارا اویس یوسفی بھی اپنی الخدمت کی پوری ٹیم کے ساتھ گیا تھا۔ ہمارے علاقے میں چرچ گرودوارہ اور مندر ایک دوسرے سے متصل ہیں لیکن اس روز تینوں ہی بند تھے۔

دو چار روز پہلے کوئی ہفتہ بھر کی قید کے بعد کسی کے بیل بجانے پر نیچے آیا۔ سیڑھیوں کے ساتھ لگی سینی ٹائزر کی بوتل سے محلول ہاتھوں پہ مل کے دروازہ کھولا اور اسے ہاتھ ملائے بغیر رخصت کر رہا تھا کہ اویس یوسفی اپنے پورے ٹولے کے ساتھ آن پہنچا اور گلے ملنے پر اصرار کیا۔ وہ پورا دن علاقے کی مساجد اور عبادت گاہیں دھونے کے بعد اب جراثیم کش اسپرے کرنے نکلے ہوئے تھے۔ ایک لمحے کو میں نے سوچا کہ ہفتے بھر کی احتیاط کا بھرکس نکلنے والا ہے۔ پھر سوچا اگر ان سے ملنے کے بعد ہی موت آنی ہے تو یہ اتنا برا سودا نہیں۔ پھر سب سے ہاتھ بھی ملایا اور گلے بھی ملا۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *