چلو آسانیاں بانٹتے ہیں ۔ ۔ ۔

چلو آسانیاں بانٹتے ہیں ۔ ۔ ۔

وقت جس قدر تیزی سے گزر رہا ہے انسانی خیالات و احساسات بھی اسی تیزی سے بدل رہے ہیں۔ انسان کی سوچ مشینی اور اعمال روبوٹک ہوچکے ہیں۔ وقت کی رفتار کے ساتھ خود کو بدلنا اور اپنے خیالات و اطوار کو عصر حاضر کے تقاضوں کے ہم آہنگ کرنا قطعاً مضائقے والی بات نہیں۔

انسان کو دنیا میں سر اٹھا کر جینے کے لئے، اپنی زندگی کو ہر طرح کی آسائشوں سے مزین بنانے کے لئے وقت کی رفتار کے ساتھ چلنا پڑتا ہے۔ مگر کیا اس تیز رفتاری میں انسان کو اس قدر محو ہو جانا چاہیے کہ اسے یہ احساس نہ ہونے پائے اس کے اردگرد اس کے بھائیوں، عزیزوں، احباب اور دوستوں میں کوئی کسی پریشانی سے تو دوچار نہیں؟ عین ممکن ہے کہ کسی کی پریشانی کی وجہ آپ یا آپ کا کوئی عمل ہو۔

تیز رفتاری اسے دوڑتی زندگی کے ساتھ بھاگتے ہوئے ہر انسان اپنی زندگی پرآسائش چاہتا ہے۔ مگر وہ یہ بھول رہا ہے کہ اس بھاگ دوڑ میں اس کے دوست اور عزیز واقارب پیچھے رہتے جا رہے ہیں۔ یقیناً کچھ ایسی ہی صورتحال سے ہر دوسرا بندہ دوچار ہے۔ گاؤں کی نسبت شہر کے رہائشی اس سے زیادہ اور جلدی متاثر ہو رہے ہیں۔ لوگوں میں دوسروں کے لئے سوچنے کا احساس ناپید ہوتا جارہا ہے۔

آج کل لوگ ایک دوسرے کے لیے اچھا سوچنے کی بجائے دوسرے کی ٹانگ کھینچنے اور دوسروں کے لئے گڑھے کھودنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔ وہ اس بات سے یکسر نا واقف ہیں کہ بلآخر وہ گڑھا انہی کا مقدر ہو گا۔ آج کا انسان اس بے حسی کو عملی زندگی یعنی پریکٹیکل لائف کا نام دیتا ہےاور خود ایک پریکٹیکل انسان ہونے کا دعویدار ہے جو اس کے لیے باعث فخر ہے۔

تاہم ایک لمحے کو سوچیں کہ کیا کسی شخص کی ٹانگ کھینچنا، ضرورت مند کی حاجت سننے کے لئے دو منٹ انتظار نہ کرنا، اپنے دوستوں اور احباب کی خیریت دریافت نہ کرنا، ان کی خوشی اور دکھوں میں شریک نہ ہونا، کیا ایک کامیاب اور مکمل زندگی کا ضامن ہوسکتا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو یقیناً ہمیں دوبارہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ یہ مکمل زندگی کیا ہوتی ہے؟ کامیاب انسان کون ہوتا ہے؟

کیا ایک مکمل اور کامیاب زندگی ایسے ہوتی ہے جس میں اطمینان قلب نہیں، ذہنی سکون اور خوشی نہیں۔ یقین رکھیں کہ مشکل کشا اور حاجت روا صرف وہ ذات باری تعالٰی ہے جس کا کوئی شریک نہیں، جس کے احکامات کے سامنے پریکٹیکلزم کا راگ الاپنے والوں کا یہ تصور حیات فضول ہے، وہ چاہے تو کوئی محتاج کسی غنی کے ہاتھوں کو نہ دیکھے۔ مگر وہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے دے کر بھی، لے کر بھی۔

 اللّٰہ تبارک وتعالیٰ نے انسان کو دوسرے انسان کی مدد کا وسیلہ بنایا۔ اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا کہ زمین میں چلو پھرو اور اس کا فضل تلاش کرو۔ اللّٰہ کا فضل کیا ہے؟ محض روزی روٹی یا اپنی زندگی کی آسانی؟ ہر گز نہیں حقیقتاً اللّٰہ کا فضل تو وہ نیکی ہے جو ہم اسکے کسی حاجت مند بندے کے کام آکر کما سکتے ہیں۔ یہ ایسا فضل ہے جس کے سامنے ہر آسائش زیر، ہرکامیابی ڈھیر اور ہر خوشی بے معنی ہے۔ گھروں سے نکلتے ہوئے اللّٰہ کے فضل کو ڈھونڈتے رہا کریں اور جہاں مل جائے اسے کبھی گنوانا نہیں چاہیے۔

کسی ضرورت مند کی مدد کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں، چاہے وہ مالی طور پر ہو، طاقت سے ہو، یا پھر وقت دے کر۔ جی ہاں! آپ کے قیمتی وقت میں سے بہت تھوڑا سا وقت، چاہے دس منٹ ہی کیوں نہ ہوں! لوگوں کی داد رسی کریں، ان کے لیے وقت نکالیں، کسی کو منزل تک پہنچائیں اور کسی کی مشکل آسان کریں۔ یقین مانیے وہ دس منٹ آپ کی زندگی کے سب سے مفید دس منٹ ہیں!

کوشش کریں کہ کسی کی زندگی میں آسانی نہیں پیدا کرسکتے تو مشکلات بھی نہ کریں۔ کسی کو پیچھے دھکیل کر آپ خود کبھی آگے نہیں بڑھ سکتے۔ لہذا اس قسم کی سوچ اور اعمال سے خود بھی بچنا چاہیے اور اپنے حلقہ میں بھی ایسی کاروائیوں کی حوصلہ شکنی کرنی چاہئے۔ بحیثیت مسلمان ہمارا فرض بنتا ہے کہ اپنے اردگرد خود سے جڑے لوگوں کی پریشانی کو اپنی پریشانی سمجھیں اور ان کی تکلیفوں کو اپنی تکالیف سمجھتے ہوئے دور کرنے کی کوشش کریں۔ بقول اشفاق احمد

ہم میں وہی زندہ رہے گا جو دلوں میں زندہ رہے گا،اوردلوں میں وہی زندہ رہتے ہیں جو خیر بانٹتے ہیں،آسانیاں بانٹتے ہیں۔

آمنہ فرید

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *