پاکستان مخالف پروپیگنڈہ کرنے والے کو لینے کے دینے پڑ گئے

پاکستان مخالف پروپیگنڈہ کرنے والے کو لینے کے دینے پڑ گئے

سوشل میڈیا باالخصوص ٹوئٹر پر پاکستان مخالف پروپیگنڈہ کرنے والے کینیڈا میں مقیم طارق فتح نامی شخص کو اپنی پروپیگنڈہ مہم کے دوران اس وقت سبکی کا سامنا کرنا پڑا جب اس نے ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اس سے متعلق دعوی کیا جو غلط ثابت ہو گیا۔

انڈیا کی حمایت اور اسلام مخالف پروپیگنڈہ کی شہرت رکھنے والے طارق فتح کو اس وقت لینے کے دینے پڑے جب اس نے ایک ویڈیو شیئر کی۔ ویڈیو کے ساتھ طارق فتح نے لکھا کہ ‘ایک پاکستانی ماں نے پولیو رضاکاروں کو گھر میں داخل نہیں ہونے دیا اور ان پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ان پر چلاتی رہی۔

طارق فتح کی جانب سے پروپیگنڈہ ٹویٹ کیے ہوئے چند گھنٹے گزرے تھے کہ پاکستانی اداکارہ مہوش حیات ویڈیو کی حقیقت سامنے لے آئیں۔

یہ بھی جانیں: ایجوکیٹڈ، ان پڑھ یا برابر: کس جوڑے کی زندگی اچھی گزرتی ہے؟

اپنی جوابی ٹویٹ میں انہوں نے طنز کرتے ہوئے لکھا کہ اس معاملے پر توجہ دینے کا شکریہ، آئندہ کچھ ایسا کریں تو پہلے سورس کی تصدیق کر لیا کریں۔

ویڈیو بننے کی اصل وجہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ یہ میری فلم ‘لوڈ ویڈنگ’ کا ایک منظر ہے۔ اس میں دکھائی دینے والی پولیو رضاکار میں ہوں جب کہ دوسری خاتون بھی اداکارہ ہیں۔

حکومت پاکستان کی جانب سے تمغہ امتیاز حاصل کرنے والی اداکارہ کی جوابی ٹویٹ کے بعد دیگر سوشل میڈیا صارفین نے بھی طارق فتح کے اس عمل کی مذمت کی۔ متعدد صارفین کا کہنا تھا کہ طارق فتح پاکستان کے مخالفت میں اندھے ہو کر صحیح اور  غلط کی تمیز بھی کھو چکے ہیں۔

مزید جانیں: انسان بوڑھا نہیں ہوتا مجلس اسے بوڑھا بنا دیتی ہے، نہایت دلچسپ حکایت

مہوش حیات کے ہاتھوں طارق فتح کے پروپیگنڈے کی اصلیت کھولنے والی جوابی ٹویٹ کو کچھ ہی دیر میں چھ ہزار سے زائد ٹوئٹر صارفین نے ری ٹویٹ کیا۔ جب کہ لائک اور ریپلائی یا دیگر طریقوں سے گفتگو کا حصہ بننے والوں کی تعداد 20 ہزار سے زائد رہی۔
یہ بھی جانیں: گرفتار فرد پر تشدد، آئین پاکستان کیا کہتا ہے؟

 

اعجاز خان نامی صارف نے طارق فتح کی پروپیگنڈہ ٹویٹ پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ‘میم اس آدمی نے بس کوئی چول ہی مارنی ہوتی ہے وہ مار دی، یہ وہ لوگ ہیں جن کےبارے میں کہا گیا “دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا “۔

سلیم بیکانیر والا نامی صارف نے گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے لکھا طارق فتح کلی طور پر غلط ہے۔ وہ نفرت پھیلاتا ہے۔ اس کا دعوی ہے کہ وہ بائیں بازو کا سے تعلق رکھتا ہے لیکن انتہا پسند انڈین حکومت کے مسلم مخالف اقدامات کو سپورٹ کرتا ہے۔ ٹی وی پر بیٹھ کر اسی مذہب (اسلام) کے خلاف بات کرتا ہے جس سے تعلق کا دعوی رکھتا ہے۔


محمد اسلام خان نامی ایک صارف نے لکھا کہ ‘مہوش یہ لوگ صرف کاپی پیسٹ والے ہیں ان کو صرف تنقید سوجھی ہے ‘۔

سوشل میڈیا صارفین کے ہاتھوں درگت بنتی دیکھ کر طارق فتح کو اپنی ٹویٹ کے ساتھ ٹوئٹر ٹائم لائنز سے فرار ہونا پڑا۔ سچ سامنے آنے کے بعد ہونے والی مسلسل تنقید کے بعد اس نے اپنی پروپیگنڈہ ٹویٹ ڈیلیٹ کر دی۔

پاکستان مخالف پروپیگنڈے کی شہرت رکھنے والے طارق فتح کو اپنی ٹویٹ ڈیلیٹ کرنا پڑی
پاکستان مخالف پروپیگنڈے کی شہرت رکھنے والے طارق فتح کو اپنی ٹویٹ ڈیلیٹ کرنا پڑی

پاکستان ٹرائب کا یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں

ٹوئٹر پاکستانیوں میں مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارمز میں سے ایک ہے۔ اس سوشل نیٹ ورک پر موجود پاکستانی ناصرف سیاسی حالات و واقعات پر تبصرے کرتے ہیں بلکہ زندگی کے مختلف گوشوں سے تعلق رکھنے والے موضوعات پر بھی بے لاگ تجزیے و تبصرے کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

پاکستان ٹرائب کی خبریں/ویڈیوز/بلاگز حاصل کرنے کے لیے واٹس ایپ پر ہمارے ساتھ شامل ہوں

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *