خیبرپختونخوا کے نئے میٹرک پاس صوبائی وزیرتعلیم کیوں خاص ہیں؟

خیبرپختونخوا کے نئے میٹرک پاس صوبائی وزیرتعلیم کیوں خاص ہیں؟

خیبرپختونخوا میں اصلاحات، ترقی، میرٹ پر عمل اور اسٹیٹس کو کے خاتمے کے نعروں سے اقتدار میں آنے والی تحریک انصاف کی حکومت نے صوبائی کابینہ میں تبدیلیاں کرتے ہوئے تعلیم کی وزارت ایک میٹرک پاس فرد کے حوالے کر دی۔

پاکستان ٹرائب کو دستیاب اکبر ایوب خان کے ریکارڈ کے مطابق پی کے 40 ہری پور ون سے منتخب ہونے والے رکن اسمبلی نے 1988 میں میٹرک کا امتحان پاس کیا تھا۔ اس کے علاوہ ان کی کوئی تعلیمی قابلیت اسمبلی ریکارڈ میں بھی درج نہیں ہے۔

یہ بھی دیکھیں: اسد عمر بھی ‘دوسروں کے کام پر سیاست چمکا’ رہے ہیں؟

ہری پور سے منتخب ہونے والے رکن صوبائی اسمبلی اکبر ایوب خان اس سے قبل کیمونیکیشن اینڈ ورکس کے محکمے کے صوبائی وزیر تھے۔ انہیں یہ عہدہ 30 اگست 2018 کو صوبائی کابینہ کے پہلے اعلان کے موقع پر دیا گیا تھا۔

سابق آمر اور صدر رہنے والے جرنل ایوب خاب کے پوتے یوسف ایوب ولد شوکت ایوب خان 2018 کے الیکشن میں تحریک انصاف کے ٹکٹ پر رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ایک پی ٹی آئی وزیر کارکردگی پوچھنے پر جھنجھلا گئے، دوسرے کو انڈا پڑ گیا

49 سالہ اکبر ایوب خان، اپنے دادا ایوب خان کے گھرانے کی تسیری نسل ہیں۔ ان کے دادا کے بعد ان کے چچا گوہر ایوب خان بھی ن لیگ سمیت دیگر وابستگیاں رکھتے ہوئے رکن اسمبلی اور وزیر رہ چکے ہیں۔

اکبر ایوب خان کے کزن عمر ایوب خان تحریک انصاف حکومت میں وفاقی وزیر ہیں۔ وہ اس سے قبل ق لیگ کے ٹکٹ پر بھی رکن قومی اسمبلی رہ چکے ہیں۔

پاکستان ٹرائب کا یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں

ہفتے کے روز خیبرپختونخوا کے وزیراعلی محمود خان کی جانب سے صوبائی کابینہ میں درجن بھر تبدیلیوں کا اعلان کیا گیا تھا۔

صوبائی کابینہ میں تبدیلیوں اور ایک میٹرک پاس فرد کو تعلیم کی وزارت حوالے کیے جانے پر سوشل میڈیا صارفین نے غصے اور طنز کا اظہار کیا۔ سینئر صحافی اور ٹیلی ویژن میزبان محمود جان بابر نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ایک میٹرک پاس فرد کو وزیر تعلیم بننے پر خوش آمدید کہیں۔

اکبر ایوب خان کو تعلیم کی وزارت دیے جانے پر سوشل میڈیا کے ردعمل میں تنقید کرنے والوں کے ساتھ پی ٹی آئی کے حمایتی صارفین فیصلے کا دفاع بھی کرتے رہے۔

خیبرپختونخوا کے وزیراطلاعات شوکت یوسفزئی نے اکبر ایوب کی نئی وزارت اور میٹرک تعلیم کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے قبل پرائمری پاس بھی وزیرتعلیم رہ چکے ہیں۔

صوبائی کابینہ میں کیا تبدیلی کی گئی؟

خیبرپختونخوا کابینہ میں ردوبدل اور توسیع کرتے ہوئے اقبال وزیر اور شاہ محمد کو صوبائی کابینہ میں بطور وزیر شامل کیا گیا ہے۔ اقبال وزیر کو وزیر ریلیف اور شاہ محمد کو وزیر ٹرانسپورٹ بنایا گیا ہے۔

یہ بھی جانیں: ایجوکیٹڈ، ان پڑھ یا برابر: کس جوڑے کی زندگی اچھی گزرتی ہے؟

خلیق الرحمان کو وزیراعلی کا مشیر برائے ہائر ایجوکیشن، عارف احمد زئی، شفیع اللہ، ریاض خان، ظہور شاکر، وزیر زادہ، احمد خان سواتی، غزن جمال اور تاج محمد معاونین خصوصی ہوں گے۔

وزیر زادہ چترال سے پی ٹی آئی کے اقلیتی رکن ہیں۔ عارف احمد زئی کو معدنیات اور غزن جمال کو ایکسائز کا محکمہ حوالے  کیا گیا ہے۔ وزیر بلدیات شہرام ترکئی کا قلمدان تبدیل کر کے انہیں وزیر صحت بنادیا گیا جب کہ وزیر صحت ہشام انعام اللہ کی وزارت تبدیل کر کے انہیں سماجی بہبود کا محکمہ دیا گیا ہے۔

مشیر تعلیم ضیاء اللہ بنگش کا قلمدان تبدیل کر کے آئی ٹی کا محکمہ دیا گیا ہے جب کہ معاون خصوصی آئی ٹی کامران بنگش کو محکمہ بلدیات کا قلمدان حوالے کیا گیا ہے۔

پاکستان ٹرائب کی خبریں/ویڈیوز/بلاگز حاصل کرنے کے لیے واٹس ایپ پر ہمارے ساتھ شامل ہوں

فوزان شاہد

مطالعہ اور لکھنے کا عمدہ ذوق رکھنے والے فوزان شاہد پاکستان ٹرائب کے ڈپٹی ایڈیٹر ہیں۔ وہ سیکیورٹی ایشوز سمیت سماجی، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر لکھتے ہیں۔ Twitter: @FawzanShahid

One thought on “خیبرپختونخوا کے نئے میٹرک پاس صوبائی وزیرتعلیم کیوں خاص ہیں؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *