لمبی تقریر کیوں نہیں کی؟ – ڈاکٹر ظفر اقبال

لمبی تقریر کیوں نہیں کی؟ – ڈاکٹر ظفر اقبال

محمد بن عروة یمن کا گورنر بن کر شہر میں داخل ہوا۔ لوگ استقبال کے لیے کھڑے ہوئے تھے۔ لوگوں کا خیال تھا کہ نئے گورنر صاحب لمبی چوڑی تقریر کریں گے، محمد بن عروہ نے صرف ایک جملہ کہا اور اپنی تقریر ختم کر دی۔

وہ جملہ :
“لوگوں یہ میری سواری میری ملکیت ہے اس سے زیادہ لے کر میں واپس پلٹا تو مجھے چور سمجھا جائے”

یہ بھی پڑھیں: ‘سانوں کوالا لمپور بلا کے آپ نیازی کتھے رہ گیا’

یہ عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ کا سنہرا دور تھا۔ محمد بن عروہ نے یمن کو خوشحالی کا مرکز بنایا۔

جس دن وہ اپنی گورنری کے ماہ و سال پورا کرکے واپس پلٹ رہا تھا لوگ ان کے فراق پر آنسو بہا رہے تھے۔ لوگوں کا جم غفیر موجود تھا۔ امید تھی کہ لمبی تقریر کریں گے۔

پاکستان ٹرائب کا یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں

محمد بن عروہ نے صرف ایک جملہ کہا اور اپنی تقریر ختم کر دی۔

وہ جملہ:

“لوگوں یہ میری سواری میری ملکیت تھی۔ میں واپس جا رہا ہوں میرے پاس اس کے سوا کچھ نہیں ہے” ۔

پاکستانیو! اپنے وزیر اعظموں ، ججوں، سیاستدانوں اور سرکاری افسران کے آنے اور جانے والے دن کا تقابل کرو۔ بس !

پاکستان ٹرائب کی خبریں/ویڈیوز/بلاگز حاصل کرنے کے لیے واٹس ایپ پر ہمارے ساتھ شامل ہوں

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *