جب تک سُرخے تھے تو یک رنگ تھے – قاضی نصیر عالم

جب تک سُرخے تھے تو یک رنگ تھے – قاضی نصیر عالم

جب تک سُرخے تھے تو یک رنگ تھے، جچتے تھے۔۔ بھلے لگتے تھے۔۔

اس لیے بھی کہ کوئی واضح رنگ رکھتے تھے۔۔

ہارون بھائی ان میں سے ایک تھے۔ ساتھ جاب کرتے تھے، آج کل ایک موقر انگریزی روزنامے سے وابستہ ہیں۔۔ ان کے والد اس وقت سول ایوی ایشن میں انتہائی اعلی عہدے پر فائز تھے۔۔ لیکن کبھی سرکاری گاڑی میں آتے جاتے دیکھا نہ کوئی پھوں پھاں۔۔ انکساری اور وضع داری کا مجسم پیکر تھے ہمیں انگریزی کی کوئی مشکل کریڈ ترجمہ کرنے میں دقّت پیش آتی تو ہارون بھائی پیشانی پہ شکن ڈالے بغیر حاضر ہوتے۔

ہماری سگریٹ ختم ہو جاتیں تو ہارون بھائی کی کیپسٹن بلا دریغ پھونکتے۔۔ طالب گجر (بعد ازاں چوہان) نے اپنے کشف سے اندازہ لگایا کہ وہ برا نہیں مانتے اس لیے پیتے رہو بعد ازاں معرفت کے کسی لمحے میں اسے ہی یہ ادراک ہوا کہ جب ان کی سگریٹ ختم تو سمجھو ان کا آج کا کوٹہ ختم پھر وہ انگلیاں چٹخاتے رہیں گے لیکن مزید سگریٹ نہیں لیتے اس لیے اب ان کی سگریٹوں پہ ہاتھ ہلکا رکھنا ہے۔۔

یہ بھی دیکھیں: اب آن لائن نکاح بھی کیا جا سکے گا

ہم اپنے وقت کے پنڈت، بتوں سے امیدیں لگائے بیٹھے تھے اور وہ لگتا تھا خدا سے بھی نومید ہیں۔ بحث مباحثہ ہوتا اور ان کا پلا بھاری پڑتا تو ہم چڑانے پہ آ جاتے وہ برا منائے بغیر مسکراتے رہتے اگلے گھنٹہ میں پھر کوئی کریڈ ترجمہ کے لیے ان کے پاس لیے حاضر ہوتے اور وہ نجیب آدمی اسی محبت کے ساتھ مدد کے لیے حاضر ہوتا۔۔

پتہ نہی وہ روزے رکھتے تھے یا نہیں، ہم نے کبھی تجسس نہیں کیا لیکن چند دیگر لوگوں کے برعکس رمضان میں انہیں دفتر میں سگریٹ نوشی کرتے نہیں دیکھا۔۔ گفتگو ایسی ہوتی کہ دس مختلف الخیال لوگ بیٹھے ہوتے اور سب ہی لطف اندوز ہوتے۔۔

پاکستان ٹرائب کا یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں

برسوں بعد ایک دن پریس کلب میں ملاقات ہوئی میں نے معزرت کی اور اعتراف کیا کہ بتوں سے امیدیں غلط تھیں اس معاملے میں آپ درست اور آپ کی رائے درست تھی۔۔

دوسرے سُرخے آفتاب بھائی تھے برمنگھم میں ملاقات ہوئی اور ایک طویل عرصہ ساتھ رہا، ایک آنچ کی کسر نہ رہ جاتی تو وہ وقت کے ولی ہوتے۔۔ ایک زمانہ حیدر آباد میں ہیومن رائیٹس کمیشن کے ساتھ وابستہ رہے۔۔ اور ہزاروں ہاریوں کو وڈیروں کی نجی جیلوں سے بازیاب کرایا۔۔ ایک دن ہنستے ہوئے کہنے لگے یار وہاں لوگ سوچتے ہوں گے، این جی او کا ایجنٹ تھا اب برطانیہ میں مزے کر رہا ہو گا اور یہاں ہم مزدوری ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔۔

یہ بھی پڑھیں: ایک پی ٹی آئی وزیر کارکردگی پوچھنے پر جھنجھلا گئے، دوسرے کو انڈا پڑ گیا

ایک دن پوچھا آفتاب بھائی آپ پیتے ہیں۔۔؟ ایک دم کھلکھلا کے ہنس پڑے پھر بولے، یار پتہ نہی کیوں یہ تاثر اتنا پختہ ہوگیا کہ جو سرخا ہو گا وہ پیتا بھی ہو گا۔  میں نے زندگی میں کبھی چکھی بھی نہیں، پھر کہنے لگے یار بعض معصوم تو اس چکر میں بھی ہمارے پاس آجاتے تھے کہ یہاں آزاد ماحول ہے اور لڑکیوں سے دوستیوں کے مواقع خوب ہیں جب وقت گزرتا تو خود اپنی سوچ پہ ہنستے تھے۔۔

کتنی ہی کتابیں تھیں جو میں نے ان کی ترغیب پر پڑھیں

ایک روز پوچھا

آفتاب بھائی کیا آپ کو لگتا ہے مرنے کے بعد جنت اور دوزخ ہو گی۔۔؟

تھوڑی دیر خاموشی کے بعد کہنے لگے یار سچ بتاؤں تو مجھے نہیں لگتا کہ ایسا کچھ ہو گا۔۔

یہ بھی جانیں: پنجاب کے اسکولوں میں موسم سرما کی تعطیلات کا نیا نوٹیفکیشن جاری

کچھ وقت گزرا تو دیکھا سفید شلوار قمیض اور ٹوپی پہنے سڑک پہ رواں دواں دکھائی دیے، پوچھا کہاں سے آ رہے ہیں؟ کہنے لگے جمعہ پڑھنے گیا تھا۔ میں ہنس پڑا، یار جب جنت دوزخ نہیں تو پھر اس کشٹ کا کیا فائدہ؟ کہنے لگے یار کبھی خیال آتا ہے کہ نہ ہوئی تو مسئلہ ہی نہی لیکن اگر ہوئی تو پھر کیا بنے گا بس پھر حاضر ہو جاتا ہوں۔۔

جتنا عرصہ ساتھ رہا کبھی کوئی سخت بات کسی سے کی، نہ کوئی دلآزاری۔۔ نفرت کے لفظ سے نا آشنا وہ شخص محبت بانٹنے کے لیے ہی دنیا میں آیا تھا۔۔ ایک روز اچانک ان کے انتقال کی خبر ملی، اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے۔۔

ان دونوں سے احترام کا رشتہ ہے۔۔ گرچہ دونوں سے ہی رابطہ نہی۔۔ ان دونوں کو ہی خود سے بہت بہتر انسان پایا۔۔

ان کے نظریات الگ تھے، سوچ الگ تھی لیکن وہ جو رنگ بھی لیے ہوئے تھے، وہ ان کا اپنا رنگ تھا اس لیے جچتا بھی تھا۔۔

مزید بلاگ پڑھیں: وکلاء بمقابلہ ڈاکٹرز اصل فائدہ کس کا؟ – ڈاکٹر اسامہ شفیق

اب جب سے سرخ نظریہ قوم پرستوں، سابقہ مولویوں اور فرقہ پرستوں کے ہاتھ چڑھا ہے اس کا رنگ ہی بدل گیا ہے۔۔۔

مذہب بیزار، لبرل، ماڈریٹ، اپنے ماضی پہ پشیماں مولویوں، فرقہ پرستوں اور قوم پرستوں کی یہ وہ دیگ ہے جسے کارل مارکس دیکھ لے تو اس پہ تھوکنا بھی گوارا نہ کرے۔

گزشتہ دنوں اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد میں ایک جواں سال طالب علم کی قوم پرستوں کے ہاتھوں شہادت ہوئی۔ حد یہ ہے کہ بعض اسی قبیل کے نام نہاد سُرخے اس کی تاویلیں دیتے پھر رہے ہیں۔ اب کوئی انہیں کیسے بتائے کہ کسی قوم پرست و فرقہ پرست کا کامریڈ ہونا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص قادیانی بھی ہو اور ختم نبوت پہ ایمان بھی رکھتا ہو۔

پاکستان ٹرائب کی خبریں/ویڈیوز/بلاگز حاصل کرنے کے لیے واٹس ایپ پر ہمارے ساتھ شامل ہوں

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *