وکلاء بمقابلہ ڈاکٹرز اصل فائدہ کس کا؟ – ڈاکٹر اسامہ شفیق

وکلاء بمقابلہ ڈاکٹرز اصل فائدہ کس کا؟ – ڈاکٹر اسامہ شفیق

وکلاء کے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر حملے کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ لیکن اس پورے معاملے کو وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس تمام معاملے میں موجودہ دور کی دو نمایاں مزاحم قوتوں کو باہم دست و گریباں کر کے اپنا مفاد کون سمیٹ رہا ہے۔ ایک جانب ڈاکٹرز کو PMDC کی تحلیل کے بعد سے ایک بحرانی کیفیت کا سامنا ہے کہ جہاں من پسند قوانین کے ذریعے پاکستان میں صحت کے شعبے کو مکمل نجی تحویل میں دے کر مکمل طور پر ایک صنعت کا درجہ دیا جارہا ہے تو دوسری جانب عدلیہ پر مقتدر قوتوں کے حملوں کے خلاف اگر کوئی کردار ادا کررہا ہے تو وہ وکلاء کی ہی جدوجہد کی بدولت ہے ورنہ عدلیہ کی رہی سہی آزادی بھی جاتی نظر آتی ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرنس دراصل مقتدرہ حلقوں کی جانب سے اپنے خلاف فیصلہ دینے والوں کو سبق سکھانے کا حصہ ھے۔ اگر اس ریفرنس کی جانب سے کوئی مزاحمت ھے تو وہ صرف اور صرف وکلاء کی تحریک کی بدولت ھے۔ اب کھیل یہ کھیلا جارہا ہے کہ مقتدر قوتوں کو چیلنج کرنے والوں کو بتدریج معاشرے میں بدمعاش کے روپ میں پیش کیا جائے اور پورے سماج کو ان کے خلاف کھڑا کیا جائے۔ گذشتہ دو دنوں سے یہی کچھ میڈیا پر ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے کے مسافر کو ایک سگریٹ دس ہزار کا کیوں پڑا؟

پاکستان میں اصل حکمرانوں کو مسئلہ صرف اور صرف مزاحم قوتوں سے ھے ماضی میں یہ معرکہ طلباء یونین سے درپیش تھا تو بتدریج طلباء یونین میں تشدد کو پروان چڑھا کر ان کی وقعت معاشرے میں ختم کی گئی اور باآلاخر طلباء یونین پر مکمل طور پر پابندی عائد کردی گئی۔

طلباء کی قوتوں کے بڑے مراکز میں سے ایک جامعہ کراچی میں طلباء کو تشدد پر اکسایا گیا اور پیپلزپارٹی کے برسر اقتدار آتے ھی جامعہ کراچی میں پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے درمیان خونریز تصادم ھوا جس کے نتیجے میں پی ایس ایف کے 4 طلباء جان کی بازی ہار گئے۔

پاکستان ٹرائب کا یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں

تصادم اتنا ہولناک تھا کہ وقت کی وزیراعظم اور وفاقی حکومت کو مداخلت کرنی پڑی۔ اور یہ بات مکمل طور پر تسلیم کر لی گئی کہ طلباء دراصل سیاست کے نام پر غنڈہ گردی کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی پولیس کی مکمل ناکامی کے بعد شہر کراچی میں پہلی بار چھ ماہ کے لیے رینجرز کو طلب کر لیا گیا اور اس کے بعد سے تاحال 30 سال ہو گئے لیکن شہر میں امن و امان کی صورتحال بہتر نہ ہو سکی۔

آج کی تازہ خبر یہ ھے کہ وزیراعلی پنجاب نے تین ماہ کے لیے رینجرز کو طلب کرلیا ہے۔ اس تمام معاملے کے بعد اب نہ تو وکلاء کی وہ وقعت رہے گی کہ کوئی ان کی بات پر کان دہرے۔ رہے ڈاکٹرز تو ان کا پی ایم ڈی سی کا معاملہ بہت پیچھے چلا گیا ہے۔

گویا یہ محض ایک معاملہ نہیں ایک پنتھ کئی کاج ہیں۔ مقتدر قوتوں کو اب سکون ہو گا کہ طوفانوں کا رخ ان کی جانب نہیں یو گا بلکہ مقتدر قوتوں کی مخالف قوتیں اب خود باہم دست و گریباں ہیں۔ کچھ تو سمجھے خدا کرے کوئی!۔

پاکستان ٹرائب کی خبریں/ویڈیوز/بلاگز حاصل کرنے کے لیے واٹس ایپ پر ہمارے ساتھ شامل ہوں

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *