’اسپتال پر حملہ کرنے والوں کا مریم نواز سے قریبی تعلق‘

’اسپتال پر حملہ کرنے والوں کا مریم نواز سے قریبی تعلق‘

لاہور: لاہور میں پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر حملہ آور وکلاء کے متعلق وزیرا اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے دعوی کیا ہے کہ ان کا مریم نواز اور حمزہ شہباز شریف سے قریبی تعلق ہے۔

جمعرات کو پنجاب انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ وزیرِ اطلاعات پنجاب کے بیان میں وزیراطلاعات نے کہا کہ سانحہ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں وکلاء کی غنڈہ گردی کے پیچھے امن دشمن قوتوں کا ہاتھ ہے۔

یہ بھی دیکھیں: جیولن تھرو میں گولڈ میڈل جیتنے والے ارشد ندیم کے لیے حکومتی اعلانات سچ ہو سکیں گے؟

انہوں نے کہا کہ ملک دشمن طاقتوں نے اس بہیمانہ واقعے کو سانحہ ماڈل ٹاؤن جیسی صورتحال میں تبدیل کرنے کی پوری کوشش کی لیکن بزدار حکومت نے بروقت حکمتِ عملی سے صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچا لیا۔

فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار ساری صورتحال کی خود نگرانی کر رہے ہیں اور تمام متعلقہ حکام سے رابطے میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے کے مسافر کو ایک سگریٹ دس ہزار کا کیوں پڑا؟

صوبائی وزیر نے سوشل میڈیا سمیت دیگر چینلز کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ میڈیا کی نشاندہی سے حکومت ان شر عناصر کو بے نقاب کرنے میں کامیاب ہوئی ہے جن کا بیگم صفدر اعوان اور حمزہ شہباز سے قریبی تعلق ہے۔

فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ وہ سردار عثمان بزدار کی ہدایات پر اور بزدار حکومت کے نمائندے کے طور پر دونوں مشتعل فریقین میں تصفیہ کرانے موقع پر پہنچے۔ انہوں نے حکومت کے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ آئندہ کسی گروہ کو صوبے کا امن و امان خراب کرنے کی قطعاً اجازت نہیں دی جائے گی۔

پاکستان ٹرائب کا یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں

طبی مرکز پر حملہ آور وکلاء کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اگر چند ہفتے قبل اسی اسپتال میں طبی عملے کی جانب سے وکلاء پر تشدد کا نوٹس لیا جاتا تو معاملہ یہاں تک نہ پہنچتا۔

پی آئی سی میں پیش آنے والے افسوسناک واقعہ میں بروقت طبی امداد نہ ملنے سے متعدد مریضوں کے جاں بحق ہونے کی رپورٹس بھی سامنے آ چکی ہیں۔ صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد بھی کہہ چکی ہیں کہ وکلا نے ڈاکٹروں کے علاوہ مریضوں کو بھی نشانہ بنایا جس کی ویڈیوز سامنے آ چکی ہیں۔

جمعرات ہی کے روز مبینہ طور پر حملہ آور وکلاء میں شامل وزیراعظم عمران خان کے بھانجے وکیل کی جانب سے معاملے میں شامل رہنے پر شرمندگی اور افسوس کا بیان بھی سامنے آیا ہے۔

طبی عملے اور وکلا کے درمیان جھگڑے اور مریضوں کے فوت ہونے کے بعد واقعہ سوشل میڈیا کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا، ڈاکٹروں اور وکلا کی جانب سے ایک دوسرے کو واقعہ کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔ جمعرات کو ملک کے مختلف شہروں میں ڈاکٹرز کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا ہے۔

پاکستان ٹرائب کی خبریں/ویڈیوز/بلاگز حاصل کرنے کے لیے واٹس ایپ پر ہمارے ساتھ شامل ہوں

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *