افغان جنگ کی سچائی اور ‘امریکی جھوٹ’ آشکار کرتے ‘افغانستان پیپرز’ خاص کیوں؟

افغان جنگ کی سچائی اور ‘امریکی جھوٹ’ آشکار کرتے ‘افغانستان پیپرز’ خاص کیوں؟

کراچی/واشنگٹن: طویل عدالتی کارروائی کے بعد ایک امریکی اخبار کی جانب سے حاصل کر کے شائع کیے گئے افغانستان پیپرز نامی دستاویز میں انکشاف ہوا ہے کہ امریکا نے افغان جنگ میں کامیابی کے جھوٹے دعوے کیے۔

واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے شائع کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دو دہائیوں سے افغانستان میں جاری امریکی جنگ کے دوران واشنگٹن کے حکام مسلسل کامیابیوں کے اعلانات کرتے رہے تاہم حقائق اس کے برخلاف تھے۔

دستاویز کے مطابق امریکی حکام نےافغان جنگ سے متعلق عوام کو گمراہ کیا، اس دوران افغان جنگ میں کامیابی کے جھوٹے دعوے کیےجاتے رہے۔

امریکی اخبار نے قانونی جنگ کے بعد جو ریکارڈ حاصل کیا ہے وہ امریکی جنگ سے متعلق رہنے والے چار سو مختلف افراد کے انٹرویوز پر مبنی ہے۔

یہ بھی دیکھیں: 2019 کا ایسا ہدف جو اب تک پورا نہ ہو سکا؟سوشل میڈیا کے دلچسپ جوابات

افغانستان پیپرز کے مطابق افغان جنگ میں حصہ لینے والوں کو مشن اور اسٹریٹجی پرسوال اٹھانے نہیں دیے گئے۔

امریکی جنرل ڈوگلس کی جانب سے تفتیش کاروں کو دیے گئے انٹرویو میں تسلیم کیا گیا ہے کہ جنگ کے وقت ہمیں افغانستان سےمتعلق آگاہی تک نہ تھی، ہمیں یہ تک نہیں پتا تھا کہ افغانستان میں ہم کر کیا رہے ہیں۔

جنرل ڈگلس کے مطابق واضح اہداف کے بغیر (افغانستان میں لڑے جانے والی) جنگ کے طوالت اختیار لینے کا خدشہ سب سے پہلے ڈونلڈ رمزفیلڈ نے ظاہر کیا تھا۔

افغان فوج میں زیادہ تر نشئی اور طالبان بھرتی ہوئے۔ فائل فوٹو

امریکی اہلکاروں نے اپنے انٹرویوز میں کہا ہے کہ گزرتے وقت کے ساتھ اہداف دھندلاتے گئے، ترجیحات اس قدر ہو گئی تھیں کہ حقیقت میں کوئی ترجیح رہی ہی نہیں تھی، ایفپاک حکمت عملی کے نام پر ہرشخص کے لیے انعام چھپا تھا۔

افغان جنگ میں امریکی ناکامیاں کیا ہیں؟

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں لڑنے والی فوج کے کمانڈرز یہ تک نہیں جانتے تھے کہ اصل میں برے عناصر کون ہیں؟ کانگریس نے فوج کے لیے وہی مسائل پیدا کیے جو وزارت دفاع نے ویتنام میں کیے تھے۔

مزید پڑھیں: پی آئی اے کے مسافر کو ایک سگریٹ دس ہزار کا کیوں پڑا؟

رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ طالبان کے خلاف لڑائی سے بہت کم نتائج ملے، طالبان سے زیادہ امریکا اور افغان اہلکاروں کا نقصان ہوا۔

تفتیش کاروں کو دیے گئے انٹرویو میں تھری اسٹار امریکی جنرل ڈوگلس نے کانگریس، پینٹاگان اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے درمیان کھینچا تانی کو افغانستان میں تقریبا 2400 امریکی فوجیوں کی موت کا سبب قرار دیا۔

امریکی محکمہ دفاع کے مطابق 2001 کے بعد سے سات لاکھ 75 ہزار سے زائد امریکی فوجی افغانستان میں تعینات رہے ہی۔ 2300 سے 2400 ہلاکتوں سمیت 20 ہزار 500 سے زائد امریکی فوجی اس جنگ میں زخمی ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے دو پیشرو، جارج بش اور بارک اوباما اور ان کے ملٹری کمانڈرز اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

پاکستان ٹرائب کا یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں

امریکا نے افغانستان میں نیشل آرمی کے قیام کو اپنی اہم کامیابی کے طور پر پیش کیا ہے تاہم رپورٹ بتاتی ہے کہ بھرتی کیے گئے افغان اہلکاروں کی زیادہ تر تعداد نشے کے عادی افراد پر مشتمل تھی جن کے فوج کا حصہ بننے کا مقصد فیول حاصل کرنا تھا۔ طالبان بھی بڑی تعداد میں فوج میں بھرتی ہوئے۔

رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ امریکی پالیسیوں کے سبب افغانستان میں کرپشن کو فروغ ملا۔ کرپشن سے متعلق ایمنسٹی انٹرنیشنل کی 2018 کی رپورٹ بتاتی ہے کہ افغانستان دنیا میں کرپٹ ملکوں کی فہرست میں چھٹے نمبر پر ہے۔

افغانستان میں امریکی جنگ سے متعلق رپورٹ کے مطابق جو بجٹ مختص کیا گیا اس کا 90 فیصد کہیں خرچ ہی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ براؤن یونیورسٹی کے کاسٹس آف وار پراجیکٹ کے ڈائریکٹر نیٹا کرافورڈ کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کہتی ہے کہ افغانستان میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے امریکا نے ایک کھرب ڈالر (تقریبا 150 کھرب پاکستانی روپے) خرچ کیے ہیں۔ یہ رقم صرف محکمہ دفاع، اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور امریکی امدادی ادارے کے اخراجات پر مبنی ہے۔ اس میں سی آئی اے، ویٹرنز ویلفیئر اور دیگر اداروں کے اخراجات شامل نہیں ہیں۔

امریکی نیوی سے ریٹائرڈ ہونے والے کمانڈو اور جارج بش، بارک اوباما دور میں وائٹ ہاؤس عملے کا حصہ رہنے والے جیفری اگرز کے مطابق ایک کھرب ڈالر کے نتیجے میں ہم نے کیا حاصل کیا؟ اسامہ بن لادن کو قتل کیے جانے کے بعد میں نے کہا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ وہ پانی میں بننے والی اپنی قبر سے ہم پر ہنس رہا ہو کہ ہم نے افغانستان میں کتنا کچھ خرچ کر ڈالا۔

رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ حکام افغان جنگ کے دوران امریکی فوجیوں کی بڑھتی ہوئی اموات چھپانے کے لیے مختلف طریقے اپناتے تھے۔ زیادہ اموات کے متعلق واضح انداز اپنانے کے بجائے کہا جاتا کہ فوجی دشمن کے گڑھ میں جا پہنچے ہیں۔

افغان جنگ میں امریکی ناکامیوں کا ذکر کرنے والے ‘افغانستان پیپرز’ کیا ہیں؟

افغانستان پیپرز نامی رپورٹ کو جنگ کی خفیہ تاریخ قرار دیتے ہوئے اخبار لکھتا ہے کہ یہ حقائق امریکی تاریخ کی طویل ترین جنگ کی بنیادی ناکامیاں تلاش کرنے کے وفاقی منصوبے کے تحت سامنے آئے ہیں۔

پاکستان ٹرائب کی خبریں/ویڈیوز/بلاگز حاصل کرنے کے لیے واٹس ایپ پر ہمارے ساتھ شامل ہوں

2008 میں تشکیل دیے گئے منصوبے کے تحت افغانستان جنگ کے حقائق جاننے اور وہاں ہونے والی ناکامیوں کا جائزہ لینے کے لیے سینکڑوں افراد کے انٹرویوز کیے گئے تھے۔ ‘سگار’ کا نام دیے گئے اس منصوبے سے متعلق متعدد رپورٹس شائع کی گئیں تاہم واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ان میں حقائق نہ ہونے کے برابر ہوتے تھے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق یہ افغان جنگ سے متعلق رہنے والے درجنوں افراد (امریکی جنرلز، سفارت کار، امدادی کارکوں اور افغان حکام) کے انٹرویوز کے نوٹس پر مشتمل تقریبا دو ہزار صفحات پر مشتمل دستاویز ہے جو اس سے پہلے شائع نہیں ہوئی تھی۔ امریکی اخبار نے رائٹ آف انفارمیشن کے تحت تین سالہ عدالتی جنگ کے بعد یہ دستاویزات حاصل کر کے شائع کی ہیں۔

سابق امریکی سفارتکار جیمز ڈوبنز نے تسلیم کیا کہ ہم (امریکا) غریب ملکوں پر حملہ انہیں مالدار بنانے کے لیے نہیں کرتے، ہم آمرانہ ملکوں پر حملہ انہیں جمہوری بنانے کے لیے نہیں کرتے، ہم متشدد ملکوں پر حملہ کرتے ہیں تاکہ انہیں پر امن بنائیں لیکن ہم افغانستان میں ناکام ہوئے ہیں۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *