سندھ کابینہ سے منظوری: اسٹوڈنٹس یونینز کیا کر سکیں گی؟

سندھ کابینہ سے منظوری: اسٹوڈنٹس یونینز کیا کر سکیں گی؟

کراچی: پاکستان کے جنوبی صوبے سندھ میں حکمراں جماعت پیپلزپارٹی کی کابینہ نے تقریبا 40 برسوں سے پابندی کا شکار طلبہ یونین کی بحالی کا بل منظور کر لیا ہے۔

سندھ کابینہ سے منظوری کے بعد طلبہ یونین کا بل صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا وہاں سے منظور ہونے کے بعد ہی اس پر عملدرآمد کی نوبت آ سکے گی۔

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ طلبہ یونین کی بحالی سے متعلق تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے گی۔

سندھ حکومت کے مطابق اسٹوڈنٹس یونین کی بحالی سے متعلق بل اسمبلی میں پیش کر کے اسٹینڈنگ کمیٹی برائے قانون کا بھیجا جائے گا۔

پیپلزپارٹی اس سے قبل وفاق میں اپنی گزشتہ حکومت کے دوران بھی طلبہ یونین بحال کرنے کا اعلان کر چکی ہے تاہم اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا تھا۔

سندھ کابینہ کے منظور کردہ اسٹوڈنٹ یونین بل میں کیا ہے؟

کسی بھی تعلیمی ادارے میں قائم کی جانے والی طلبہ یونین سات تا 11 نمائندوں پر مشتمل ہو گی۔ اسٹوڈنٹ یونین کا انتخاب طلب کریں گے۔

بل کے تحت کسی بھی سرکاری یا نجی تعلیمی ادارے میں اسٹوڈنٹ یونین بنائی جا سکے گی۔ طلبہ یونین تعلیمی ماحول بہتر کرنے، نظم و ضبط پیدا کرنے اور غیر نصابی سرگرمیوں کو فروغ دینے کا کام کرے گی۔

تعلیمی سرگرمیوں کا روکنا یا طلبہ اور طلبہ گروپوں میں نفرت پھیلانا، اسلحہ رکھنا، اس کا استعمال اور تعلیمی ادارے میں اسلحہ لانا خلاف قانون ہو گا۔

سندھ کابینہ کی جانب سے طلبہ یونین بحالی کا منظور منظور کیے جانے کی خبر پر مختلف طبقہ فکر کے لوگوں سے خوشگوار ردعمل ظاہر کیا۔ پاکستانی صحافی زاہد گشکوری نے اپنی ٹویٹ میں توقع ظاہر کی کہ امید ہے دوسرے صوبے بھی اس پر عمل کریں گے۔

پاکستان ٹرائب کی خبریں/ویڈیوز/بلاگز حاصل کرنے کے لیے واٹس ایپ پر ہمارے ساتھ شامل ہوں

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

2 thoughts on “سندھ کابینہ سے منظوری: اسٹوڈنٹس یونینز کیا کر سکیں گی؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *