پنجاب بھر میں پانچویں اور آٹھویں جماعت کے امتحانی نظام میں تبدیلی

پنجاب بھر میں پانچویں اور آٹھویں جماعت کے امتحانی نظام میں تبدیلی

پنجاب ایگزامینیشن کمیشن (PEC) پنجاب بھر میں پانچویں اور آٹھویں جماعت کے امتحانات منعقد کروانے اور نتائج مرتب کرنے کا ذمہ دار ہے۔ کمیشن کی حالیہ منعقد شدہ میٹنگ میں مختلف ماہرینِ تعلیم کی موجودگی میں پانچویں اور آٹھویں جماعت کے امتحانی نظام میں تبدیلیوں اور بہتری کے حوالے سے بات چیت کی گئی اور چند ضروری اور مفید تبدیلیاں کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

میٹنگ کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا اور چئیرمین پی ای سی نے پانچویں اور آٹھویں جماعت کے امتحانات سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں ان امتحانات سے مؤثر نتائج حاصل نہیں ہو رہے۔ لہذا ٹیکنیکل کمیٹی کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے جماعت پنجم کے امتحانات کو لارج سکیل اسسمنٹ – ایل ایس اے سے تبدیل کیا جائے گا۔

مزید برآں اسکول بیسڈ اسسمنٹ – ایس بی اے اسکول میں جانچ پڑتال کے نظام کو فعال بنانے کے لئے پی ای سی کی نگرانی میں کام کرے گا۔ آئندہ سال 2020 میں جماعت پنجم کے سالانہ امتحانات متعلقہ تعلیمی ادارے خودمنقعد کروائیں گے۔  پی ای سی البتہ پرچہ جات اور دیگر امدادی کتب کی فراہمی کو یقینی بنانے کا ذمہ دار ہو گا۔ تاہم جماعت ہشتم کے امتحانات پی ای سی  کے سابقہ امتحانی نظام کے مطابق ہی لئے جائیں گے۔

مس سبین گل {ایم پی اے – ڈبلیو 328 } نے  ایل ایس اے کو سراہتے ہوئے کہا کہ جماعت پنجم کے امتحانات بچوں کے لئے اضافی بوجھ تھا۔ اساتذہ امتحانات کے نتائج میں اچھے گریڈز لینے کے لئے غلط ذرائع استعمال کرتے ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی محکمانہ سزا و کاروائی سے بچا جا سکے۔ اس سے بچوں کے سیکھنے کا عمل متاثر ہوتا ہے ۔اب اساتذہ اپنی پوری توجہ بچوں کے سیکھانے کے عمل میں بہتری کے لئے صرف کریں گے۔

پاکستان ٹرائب کا یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں

چیئرمین نے مزید کہا کہ آئندہ فیز ٹو میں جماعت ہشتم کے امتحانات بھی ایل ایس اے سے تبدیل کر دئیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ جماعت دؤم سے ہشتم تک پرجہ جات اور امدادی کتب کی فراہمی کو بھی  پی ای سی یقینی بنائے گا۔ تمام ماہرین نے ان سفارشات سے اتفاق کا اظہار کیا۔ نظام میں کی گئی تبدیلیوں کے پیشِ نظر درپیش آنے والے مالی مسائل کو سیونگس کے استعمال سے حل کرنے کی راہ نکالی گئی۔

معلم میں اور دیگر اساتذہ نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے بچوں اور اساتذہ کے لئے مفید خیال قرار دیا۔ جماعت پنجم کی امتحانی ڈگری کوئی اعلیٰ سطحی ڈگری نہیں اور نہ ہی اس کی بنا پر کوئی نوکری یا اعلیٰ تعلیم کی راہ میں مسائل آتے ہیں۔ یہ بچوں پہ اضافی بوجھ کے سوا کچھ نہیں۔ اسا تذہ محکمانہ سزاؤں اور تنخواہوں میں سالانہ اضافے کی بلا تعطلی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے اور امتحانات کے نتائج کو بہتر بنانے کیلئے بچوں کو نقل کرکے زیادہ نمبر حاصل کرننے کے موقع فراہم کرتے ہیں۔

اساتذہ کا کہنا ہے کہ نئے امتحانی نظام کے تحت نہ صرف بچوں کے ذہنی دباؤ میں کمی آئے گی بلکہ تعلیمی نظام میں بھی بہتری آئے گی۔ طالب علم یکسوئی سے سیکھنے کے عمل میں شامل ہوں گے اور اساتذہ کا اولین مقصد بچوں میں سیکھنے کے عمل میں بہتری لانا ہوگا۔

آمنہ فرید

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *