قبولیت کا یقین رکھیں۔۔۔

قبولیت کا یقین رکھیں۔۔۔

صد شکر خداۓ عزوجل کا جس نے ہمیں مسلمان پیدا کیا۔ موجودہ دور میں جب ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہے اور انسان محض دنیاوی زندگی کا پجاری بن چکا ہے۔ دنیا کی زندگی کے فائدے کے لیے سب کچھ بھلا کے کولہوں کے بیل کی طرح ہمہ وقت جتا ہوا  ہے۔پھرجب اس کی خواہشات کا سر پٹ دوڑتا ہوا گھوڑا ٹھوکر کھا کر منہ کے بل گرتا ہے تو یاس اور نومیدی کے سیاہ بادل اس کے گرد چھا جاتے ہیں۔

ایسےمیں انسان یا تو مایوسی کے اندھیرے میں غائب ہوتا چلا جاتا ہے اور اپنا نام ونشان مٹا دیتا ہے یا پھر اللّٰہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہے اورایک مومن کے لیے اول ذکر کسی صورت جائز نہیں۔ مسلمان کسی صورت اپنے رب سے ناامید نہیں ہوتا۔ ارشادِ باری تعالٰی ہے

وقال ربکم ادعونی استجب لکم

ترجمہ: ”تم مجھے پکارو میں تمہاری پکار کا جواب دوں گا

دعا مانگنا عین عبادت ہے اور باقی فرضی اور نفلی عبادات سے کسی طور کم نہیں۔ دعا ایک ایسی عبادت ہے جس کے لیے زمان ومکان کی کوئی قید نہیں۔ کسی بھی وقت اور کسی بھی حالت میں انسان سچےدل سے اللہ کو پکارے تو اللہ ربّ العزت اپنے بندوں کی پکار سنتا ہے۔
تو پھر اللہ سے نوامیدی کیسی؟

پاکستان ٹرائب کا یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں

ایک مسلمان دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور اس کے ہاتھ خالی لوٹا دئیے جائیں یہ بات اللہ تبارک تعالیٰ کی شان نہیں۔ وہ تو اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے بڑھ کر پیار کرتا ہے۔ مسلمان کی دعا کبھی خالی نہیں جاتی۔ یا تو اسی وقت قبول کر لی جاتی ہے یا تواسے کچھ وقت گزرنے کے بعد اس سے بہتر شکل میں لوٹا دی جاتی ہے اور یا پھر آخرت کے لیے محفوظ کر لی جاتی ہے۔

روزقیامت مسلمان ایک جگہ نیکیوں کا ڈھیر پاۓ گا اور پوچھے گا بھلا یہ نیکیاں کیسی؟ اسے کہا جائے گا یہ تیری وہ دعائیں ہیں جو تجھے دنیا میں نہ مل سکی۔ بندہ یہ سن کر کہے گا اے کاش! میری کوئی دعا دنیا میں قبول نہ کی جاتی۔

نبی کریم صلی للہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا ” تمہارا پروردگار باحیا اور سخی ہے۔ جب بندہ اس سے مانگتا ہے تو اسے خالی ہاتھ لوٹانا اللہ کی حیا کو گوارہ نہیں” ایک اور جگہ ارشاد فرمایا “دعا مومن کا ہتھیار ہے” آج کا مسلمان اس ہتھیار سے لیس نہیں اور نہتا ہی کفر اور لادینیت کا مقابلہ کررہا ہے۔ بھلا بغیر ہتھیار کے جنگ کیونکر لڑی جا سکتی ہے؟

دعائیں تو تقدیر بدلنے پر قادر ہیں پھر کفر اور لادینیت کے ریت کے بت کیا چیز ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وذکرونی اذکرکم وشکرونی والا تکفرون۔ اللہ تبارک وتعالیٰ یوں تو ہر حال میں اپنے بندوں کی دعائیں سنتا اور قبول کرتا ہے مگر کچھ ایسے اوقات اور عبادات بتائی گئی ہیں اور بہت مجرب پائی گئی ہیں جن میں مانگی گئی دعا کو جلد قبولیت کا شرف ملتا ہے۔

تہجّد کے وقت مانگی گئی دعا، فرض نماز کے بعد مانگی گئی دعا، باوضواور تسبیحات پڑھتے پڑھتے سو جانے پر رات میں بدلی گئی ہر کروٹ پہ مانگی گئی دعا، انتہائی بیماری اور غم میں مانگی گئی دعائیں جلد قبول ہوجاتی ہیں۔ مومن وہ ہے جو اپنے ساتھ ساتھ اپنے مومن بھائی کے لیے بھی دعا کرے۔

مزید پڑھیں: صدمے یا خدشے سے پیٹ میں گرہیں کیوں پڑھتی ہیں؟

نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے دوسرے مسلمان کی زبان سے مانگی جانے والی دعا کو جلد قبول ہونے والی بتایا ہے۔ مظلوم کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے بیشک وہ اپنے نیک بندوں کو آزمائش میں ڈالتا ہےاور دیکھنا چاہتا ہے کہ اس کا بندہ اس سے کتنا پیار کرتا ہے، اس کے بندے میں کتنا صبر ہےاور اپنے رب کی ذات پر کتنا یقین ہے۔

عہدِ حاضر میں دنیا میں جس قدر ظلم وبربریت ہورہی ہے اور مسلمانوں پر خاص طور پر مظالم ڈھاۓ جا رہے ہیں کیا ان ظالموں کا انجام نہیں ہو گا؟ بسا اوقات ظالموں کی شان وشوکت اور بے پناہ طاقت کو دیکھ کر دل پھٹنے لگتا ہے اور انسان یہ سوچنے پہ مجبور ہو جاتا ہے کہ اسے انصاف کبھی نہیں ملے گا، ظالم کبھی کٹہرے میں نہیں آۓ گا، مظلوم کی آہ کبھی نہیں سنی جائے گی،مگر یہ سب ہمارے ایمان و اعتقاد کی کمزوری ہے۔

بے شک اللہ جل شانہ کا انصاف بر حق ہے۔ مگر ہماری محدود عقل و علم اسکی مصلحتوں اور حکمت کو سمجھنے سے قاصر ہے۔

نہ جا اس کے تحمل پہ کہ ہے بے ڈھب گرفت اس کی

ڈر اس کی دیرگیری سےکہ ہےسخت انتقام اس کا

اللہ کی ذات پہ یقین کامل رکھتے ہوئے نہ صرف اپنے لیے دعا کریں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے دعا کریں بلخصوص کشمیر کے مسلمانوں کی آزادی کے لیے دعائیں کریں اللّٰہ تبارک وتعالیٰ ہم سب مسلمانوں کا حامی و ناصر ہو، آمین۔

آمنہ فرید

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *