پاکستان میں حجاب کرنے والی خواتین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ تحقیق

پاکستان میں حجاب کرنے والی خواتین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ تحقیق

ایک تحقیق کے مطابق گزشتہ دس سالوں میں پاکستان کے شہری علاقوں سے تعلق رکھنے والے خواتین میں سر ڈھانپنے کے رحجان میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔

یہ نتائج پلس کنسلٹنٹ کی جانب سے پاکستان کے 12 بڑے شہروں میں ہونے والی ایک تحقیق سے اخذ کیے گئے ہیں۔ اس تحقیق میں پاکستان کے شہری علاقوں میں موجود اور انٹرمیڈیٹ، گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ کی طالبات نے حصہ لیا۔ یہ ریسرچ ملک میں ہر پانچ سالوں بعد کرائی جاتی ہے جس میں حصہ لینے والے لوگوں کی تعداد اور پوچھے جانے والے سوالات ایک جیسے ہی رکھے جاتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق متعدد مقامی اور بین الاقوامی تحقیقاتی ریسرچ سے واضح ہوا ہے کہ دیگر اسلامی ممالک کے برعکس پاکستانیوں کا جھکاو دین کی طرف ذیادہ ہے۔ پاکستان میں کئی دہائیوں سے ہونے والے انتخابات سے سامنے آنے والے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ مذہبی سیاسی پارٹیوں کو فوقیت نہیں دیتے۔ تاہم اکثریت مذہب پر بظاہر عمل نہیں کرتی مگر وہ مذہبی معاملات کے حوالے سے کافی حساس ہیں۔ لوگ نہ صرف مذہبی شخصیات کے لیے محبت اور احترام کا اظہار کرتے ہیں بلکہ اسلام کے بنیادی اصولوں پر عمل پیرا ہونے کو باعث فخر سمجھتے ہیں۔

پاکستان ٹرائب کا یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں

گزشتہ دس سالوں میں پاکستان کے شہری علاقوں میں گھروں سے نکلنے والی خواتین میں سر ڈھانپنے کے رواج میں اضافہ ہوا ہے۔ چاہے لوگوں کو حکومت کی حمایت حاصل ہو نہ ہو، حکومت کے کسی اقدام کے خلاف میڈیا کوئی بھی مہم چلائے اور سوشل میڈیا پر کوئی بھی ٹرینڈ چلے۔ اس سب سے قطعی نظر حجاب لینے والی خواتین کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔

حال ہی میں سامنے آنی والی اس تحقیق کا مقصد خواتین کا گھروں سے باہر کیے جانے والے پردے کے طرز عمل سے متعلق معلومات حاصل کرنا تھا۔ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان کے شہری علاقوں میں موجود ایک تہائی سے ذائد نوجوان طالبات جن کی عمریں 16-28 سال ہیں وہ گھروں سے باہر نکلتے ہوئے دوپٹہ یا چادر کا استعمال کرتی ہیں۔ اس عمل کو برصغیر میں ایک قدیم ثقافت اور روایت کی حیثیت حاصل ہے۔

تاہم دس سالوں میں حجاب لینے والی طالبات کی تعداد میں دو گنا سے بھی ذائد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ حجاب کرنے والی نوجوان لڑکیوں کی شرح 2008 میں آٹھ فیصد تھی جو 2018 میں بڑھ کر 25 فیصد ہوگئی۔ واضح رہے کہ برصغیر میں پردہ کرنے کے عمل کو حجاب بھی کہا جاتا ہے یہ لفظ عام طور پر عرب ممالک میں استعمال کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب کندھوں پر یا گلے میں دوپٹہ لینے کا طریقہ جس میں سر کو نہیں ڈھانپا جاتا اس میں کمی واقع ہوئی ہے۔ 2008 میں اس طریقے سے دوپٹہ لینے والی طالبات کی تعداد 34 فیصد تھی جو 2018 میں انتہائی کم ہو کر آٹھ فیصد رہ گئی ہے۔ اس کے ساتھ چہرے کا مکمل پردہ کرنے کا عمل جسے نقاب بھی کہا جاتا ہے، خواتین میں مقبولیت حاصل کررہا ہے۔ ایسی نوجوان طالبات جو بالکل کسی قسم کا دوپٹہ یا اسکارف نہیں لیتی ہیں ان کی تعداد دو فیصد ہے۔

مزید پڑھیں: محنتی ہاتھ حوصلہ افزائی چاہتے ہیں

تحقیق کرنے والے ادارے پلس کنسلٹنٹ کے مطابق حجاب کے بڑھتے ہوئے رحجان کے پیچھے مذہبی لگاو سے زیادہ دخل دیگر عوامل کا ہے۔ مثال کے طور پر اسکارف کو بطور حجاب لینا دوپٹہ لینے سے آسان ہے۔ جدید دور میں بھی حجاب قدامت پسند سوچ کے بجائے آزاد خیال ہونے کی نشانی ہے۔ یہ آپ کی جلد کو سورج کی نقصان دہ شعاوں، گرمی کی شدت اور دھول مٹی کی ذارات سےمحفوظ رکھتا ہے۔ عرب ممالک سے مستعار لیے جانے والے حجاب کے ساتھ تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حجاب معاشی طور پر ایک بوجھ ہے کیونکہ یہ آپ کے اخراجات میں اضافہ کرتا ہے۔ کپڑوں کے ساتھ ملتے جلتے رنگوں، ڈیزائن اور اسٹائل کے اسکارف خریدنا ایک مشکل اور مہنگا شوق ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *