صدمے یا خدشے سے پیٹ میں گرہیں کیوں پڑھتی ہیں؟

صدمے یا خدشے سے پیٹ میں گرہیں کیوں پڑھتی ہیں؟

نیویارک: ہر شخص کو کبھی نہ کبھی یہ تجربہ ضرور ہوا ہوگا کہ کوئی صدمہ،خدشہ یا کوئی ایسی بات ضرور ہوتی ہے جب اسے پیٹ میں گرہیں پڑتی اور سینہ بھنچتا محسوس ہوتا ہے۔

ایک کتاب کی مصنفہ کیرولائن فارن نے اس حوالے سے کچھ باتوں پر روشنی ڈالی ہے جس میں اس کیفیت کی اصل وجہ اور تدارک بتایا گیا ہے۔

 کیرولائن کا کہنا ہے کہ ہم اصل میں اس کیفیت کی کوئی وجہ نہیں رکھتے کیونکہ یہ عموما ایسی باتوں سے پیدا ہوتی ہے جو ابھی واقع نہیں ہوتیں مگر ان کے بارے میں پہلے سے ہی ہمارے اندر ہول اٹھنا شروع ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کسی کا کوئی عزیز یا بچہ گھر سے باہر ہو اور کسی حادثے کی اطلاع ملے تو فورا انسان کے پیٹ میں گرہیں پڑنا شروع ہو جاتی ہیں تاوقتیکہ وہ انہیں صحیح سلامت سامنے دیکھ نہ لے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ کئی بار ہم کوئی کام 99 فیصد درست کر لیتے ہیں مگر ایک فیصد رہ جاتا ہے اور یہی ایک فیصد ہمیں اس کیفیت سے دوچار کر دیتا ہے کیونکہ ہم اپنی 99 فیصد کامیابی کو نہیں دیکھتے۔

اگر کسی شخص کو مشکل سے کوئی جاب ملی ہو اور اسے بغیر کسی غلطی سے نوکری سے فارغ کر دیا جائے تو وہ اس کیفیت سے دوچار ہوتا ہے اور آنے والے کھٹن وقت کا سوچ کر اس کے پیٹ میں گرہیں پڑنا شروع ہو جاتی ہیں کیونکہ وہ اس بات پر یقین نہیں رکھتا کہ اسے بغیر کسی غلطی کے یہ نقصان پہنچایا گیا ہے اور قدرت اس کے حال سے واقف ہے۔

گرہوں اور گھٹن سے کیسے بچیں؟

ماہرین کے مطابق اگر ہم اس کیفیت کے بارے میں غور کریں اور مثبت باتوں پر دھیان دیں تو اس کیفیت کا شکار ہونے سے بچ سکتے ہیں۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ ایک عارضی کیفیت ہوتی ہے اور ہم اسے وقتی سمجھ کر بھول بھال جاتے ہیں مگر یہ چیز انسانی صحت پر برے اثرات ڈالتی ہے اس لیے اپنے ذہن میں ہمیشہ منفی نکتہ نظر سے پیدا ہونے والی باتوں کو روکیں اور زندگی کے مثبت پہلوؤں پر غور کریں۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

One thought on “صدمے یا خدشے سے پیٹ میں گرہیں کیوں پڑھتی ہیں؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *