محنتی ہاتھ حوصلہ افزائی چاہتے ہیں

محنتی ہاتھ حوصلہ افزائی چاہتے ہیں

چند ہفتے قبل پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرتے ہوئے راستے میں ایک بازار سے دو خواتین (تقریباً ہم عمر) گاڑی میں سوار ہوئیں ـ حلیہ خانہ بدوشوں سا، کچھ ڈبوں کو مضبوطی سے باندھ کر سامنے والی سیٹ پر رکھا اور اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئیں۔ ڈبوں میں غالباً چوڑیاں بھری تھیں اور بہت ہی مہارت سے پیک کی گئی تھیں۔

میں کچھ دیر ان خواتین کا بغور جائزہ لینے کے بعد بالآخر ان میں سے ایک جو میرے پاس بیٹھی تھی سے مخاطب ہوئی اور پوچھا کہاں سے آنا ہوا اور کہاں جا رہی ہیں؟ اس نے بتایا کہ قریبی شہر اور اس سے ملحقہ چھوٹے چھوٹے گاؤں میں چوڑیاں بیچ کر آرہی ہیں اور آگے آنے والی کچی آبادیوں میں ہمارا گھر ہے۔ میں نے پھر سوال کیا دن میں کتنا کما لیتی ہو؟ بولی جو نصیب میں ہو باجی۔ اس نے جواب دیا اور اپنی ساتھی جو غالباً اس کی رشتہ دار تھی اس سے بات چیت کرنے میں مصروف ہو گئی۔

میں سوچوں کے ایک لمبے سفر پر چل نکلی۔ ان محنتی عورتیں کوعلی الصبح گھروں سے نکلتے ہوئے اس بات کا یقین نہ ہو گا کہ پورا دن نگر نگر گھوم کر، ہر گلی میں آواز لگا کر چوڑیاں بیچ کر دن ڈھلنے پر ان کے پاس واپسی کا کرایہ بھی جمع ہو گا یا نہیں۔ آج کل خواتین میں کانچ کی چوڑیاں پہننے کا فیشن کم ہو گیا ہے، میں بذاتِ خود ہلکے پھلکے بریسلٹ اور میٹل کے کنگن پہننا پسند کرتی ہوں تو ایسے میں ان عورتوں سے کون سی لڑکیاں چوڑیاں خریدتی ہوں گی۔ یقیناً گنتی کی دو چار یا پھر کوئی نہیں ۔ ۔ ۔ ۔  تو ایسے میں ان غریب گھروں میں چولہے کیسے جلتے ہوں گے؟؟؟ یہ سوچ کر دل میں ٹیس سی اٹھی، بدن کانپ گیا اور میں سوچوں کی دنیا سے باہر نکل آئی۔

پاکستان ٹرائب کا یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں

میں نے اسی عورت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا مجھے کوئی چوڑیاں تو دکھاؤ۔ اس نے ایک نظر مجھے دیکھا اور دوسری نظر مضبوطی سے بندھے ہوئے ڈبوں کو دیکھا۔ میں اس کی نگاہوں کا مطلب سمجھ گئی کہ ان ڈبوں کو کھولنا اتنا آسان نہیں۔ میں اسی کشمکش میں مبتلا تھی کہ کسی طرح اس کی کچھ مالی مدد کر کے اپنے ضمیر کا بوجھ ہلکا کر سکوں۔ کچھ دیر توقف کے بعد میں بے دھیمی آواز میں پوچھا کرایہ دے چکی ہیں اور اس نے ہاں میں جواب دے کر میری ایک اور کوشش ناکام بنا دی۔ بالآخر کافی ہمت جمع کرکے میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کی مٹھی میں کچھ روپے دبا دئیے اور اس سے کہا چوڑیاں پھر کبھی سہی لیکن دعا ابھی دے دینا۔ اس نے خوش ہو کر ڈھیروں دعائیں دے ڈالی اور میں اپنے ضمیر کے بوجھ سے نکلنے میں کسی حد تک کامیاب ہو گئی۔

ہمارے ارد گرد بہت سے پسماندہ اور غریب طبقے کے لوگ بجائے بھیک مانگنے کے اپنے ہاتھ سے محنت کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے مختلف چھوٹے موٹے کام کرنا شروع کرتے ہیں۔ کوئی بازار میں دنداسہ بیچتا ہے تو کوئی وزن چیک کرنے والی مشین اٹھائے بازاروں میں آواز لگا رہا ہوتا ہے۔ کوئی کوئی معذور اور غریب آدمی پھلوں کی ریڑھی لگاتا ہے تو کوئی بیوہ غریب عورت چوڑیاں بیچنے نکل پڑتی ہے۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب میں قید پاکستانی ڈرائیور عید پر بھی رہا نہ ہو سکا

مگر ہم اپنی زندگی کی مصروفیات میں اور اپنی سوچوں کے محور میں گردش کرتے ہوئے ان محنتی لوگوں کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے گزر جاتے ہیں۔ ہمارا ان محنت کشوں، کسبِ حلال کمانے والوں کو اس طرح نظر انداز کرنا ان کے حوصلوں کو پست کرنے کا سبب بنتا ہے اور ہم اس بات سے یکسر انجان ہیں۔ جب اس غریب معذور کی کمائی کچھ نہ ہوگی اور گھروں میں بچے فاقہ کشی پہ مجبور ہوں گے تو عین ممکن ہے کہ وہ باپ ان کا پیٹ بھرنے کے لیے کوئی اور راستہ تلاش کرے جو بہرحال صراطِ مستقیم نہ ہو گا اور اس کی ذمہ داری ہم پر آئے گی۔

بازار میں چلتے ہوئے ان محنتی ہاتھوں کی تلاش میں رہا کریں اور ان سے ضرورت کا کچھ سامان خرید لیا کریں۔ ہم وزن چیک کروانے کے لیے مستند مشین رکھنے والے کلینک یا میڈیکل سٹور کا رُخ کرتے ہیں اور بھاری فیس ادا کرتے ہیں مگر بازار میں پھرنے والے اس محنتی انسان کی مشین پہ بھروسہ نہیں کرتے کہ کہیں مشین ہمیں موٹا نہ بتا دے۔

جو کوئی مخیر حضرات استطاعت رکھتے ہوں تو ایسے لوگوں کو کاروبار میں لگانے کے لئے ایک مناسب رقم مہیا کر دیا کریں اور اگر یہ کرنا ممکن نہیں تو کم از کم ان سے کوئی چیز خرید کر ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ یقین جانے ایسا کرنے سے کوئی غریب ماں اپنے بچوں کو اور خود کو زہر دے کر موت کی آغوش میں نہیں جائے گی، کوئی غریب باپ اپنی اولاد کو بھوک سے بلکتا دیکھ کر خود کو بے بس محسوس نہیں کرے گا۔

آمنہ فرید

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *