توہم پرستی کا بھوت: عمران خان سمیت دیگر عالمی رہنما کیا کرتے ہیں؟

توہم پرستی کا بھوت: عمران خان سمیت دیگر عالمی رہنما کیا کرتے ہیں؟

خوف یا جہالت کی وجہ سے غیر عقلی عقائد پر یقین رکھنا توہم پرستی کہلاتا ہے، یہ انسانی ذہن کا ایک ایسا تصور ہے جس نے دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ تقریبا سبھی مذاہب کے لوگ اس کا شکار نظر آتے ہیں۔

توہم پرستی سے متعلق عجیب و غریب خیالات کا خاصا بڑا حصہ چند جانوروں سے خاص سمجھا جاتا ہے، البتہ دیگر چیزیں یا افعال بھی اس سے محفوظ نہیں ہیں۔ ذیل میں ہم کوشش کرتے ہیں کہ ‘منحوس’ سمجھے جانے والے ان جانوروں اور ان سے منسوب ‘نحوستوں’ کا ذکر کرتے ہوئے جائزہ لیں کہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان سمیت چند دیگر عالمی رہنما کن اوہام کا شکار ہیں یا شکار سمجھے جاتے ہیں۔

توہم پرستی کی بنیاد سمجھے جانے والے جانور

توہم پرستی کی سب سے عام مثالوں میں ایک ننھا اور معصوم پرندہ الو شامل ہے جسے انسانوں نے بدبختی کی علامت سمجھ لیا ہے۔ الو دن بھر سونے اور رات کو جاگ کر شکار کرنے والا ایک خوبصورت اور معصوم پرندہ ہے جس کے متعلق یہ گمان کیا جاتا ہے کہ اسے دن میں دکھائی نہیں دیتا، جو کہ غلط فہمی ہے۔

حقیقت میں الو دن کی روشنی میں ہم انسانوں سے بھی زیادہ بہتر دیکھ سکتا ہے تاہم اسے رات کے اندھیرے میں دن سے زیادہ بہتر دکھائی دیتا ہے۔

دن کے اوقات میں جب یہی پرندہ کسی درخت پر آرام کی غرض سے ٹانگیں پسارے کوئی گیت گاتا ہے تو ہم انسان کوئی پتھر پھینک کر اسے مار بھگاتے ہیں، انسانوں کو لگتا ہے کہ اس پرندے کی گھر کے آس پاس موجودگی بدبختی کی علامت ہے۔ کالی بلی کے بعد اگر کوئی انسانوں کی توہم پرستی کا سب سے زیادہ شکار ہے تو وہ یہ بے چارہ پرندہ ہی ہے۔

کالی بلی
بلی چار ٹانگوں پر چلنے والا ایک خوبصورت ممالیہ ہے،ایک اندازے کے مطابق بلیوں کی 22 اقسام ایسی ہیں جن کا رنگ بدقستمی سے کالا ہوتا ہے، اور یقین جانیں ان کی کالی رنگت میں ان کا ہاتھ ہوتا ہے نا کوئی قصور لیکن بھلا ہو انسان کا جس نے ان پالتو جانور کو بھی نحوست کی علامت سمجھ لیا ہے۔

اگر آپ کسی ارادے سے گھر سے باہر نکلے ہیں اور کالی بلی نے آپ کا راستہ کاٹ لیا ہے تو اس کا صاف اور سیدھا مطلب یہی ہے کہ کالی بلی بھی آپ کی طرح کسی کام سے گھر سے نکلی ہوگی۔ آپ اپنا راستہ یا ارادہ بدلنے کے بجائے علیک سلیک کر کے نکل لیں۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں یہ نیا تماشہ کیا ہے؟

کوا
کوے دیگر پرندوں کی نسبت انسانی آبادیوں کے قریب رہتے ہیں اور اکثر کھانے پینے کی اشیا ڈھونڈنے گھروں کی منڈھیروں پر بیٹھ تانکا جھانکی کرتے دکھائی دیتے ہیں، لیکن اہل مشرق کوے کی آمد کو مہمانوں کی آمد سے تعبیر کرتے ہیں، جب کہ اہل عرب اسے جدائی کی آواز قرار دیتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ مہمانوں کی آمد ہو یا نا ہو کوے کو منڈیر سے ضرور بھگا دیا جاتا ہے۔

عالمی رہنماؤں کی توہم پرستی

پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم عمران خان کے ہاتھ کی چھوٹی انگلی میں موجود پتھر جڑی انگوٹھی خاصا عرصہ توجہ کا مرکز بنی رہی۔ اس کے بارے میں پارٹی ترجمان نے وضاحت کی کہ انگوٹھی کسی بزرگ کی نشانی ہے جو عمران خان کی حفاظت کرتی ہے تاہم بعد میں پارٹی چیئرمین نے بتایا کہ یہ انگوٹھی ولید اقبال کی جانب سے تحفہ تھا جو انہوں نے مولانا رومی کے مزار سے لائی تھی۔

دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور امریکا کے صدور بھی توہم پرست رہے ہیں، سابق صدر باراک اوبامہ انتخابات سے قبل باسکٹ بال کھیلنے کو اپنے لیے نیک شگون خیال کرتے تھے۔

امریکا کے 37ویں صدر رچرڈ نکسن میڈیکل فوبیا میں مبتلا تھے ان کا ماننا تھا کہ اگر وہ اسپتال جائیں تو زندہ واپس نہیں آئیں گے۔ اس خوف کی وجہ سے انہوں نے علاج نہیں کرایا ۔ رچرڈ نکسن کا 81 سال کی عمر میں نیو یارک کے کارنل میڈیکل سنٹر میں انتقال ہوا۔

امریکا کے 33ویں صدر ہیری ٹرومن نے وائٹ ہاوس میں اپنے دفتر کے دروازے پر گھوڑے کی نعل لٹکا رکھی تھی جو ان کے خیال میں اچھی قسمت کا ایک ذریعہ تھی۔

اسی طرح جارج ڈبلیو بش کا خیال تھا کہ وائٹ ہاوس بھوتوں کا مسکن رہا ہے، جمی کارٹر نے اڑن طشتری کو آسمان پر اڑتے دیکھنے کا ناصرف دعوی کیا بلکہ غیر مرئی قوتوں کی تحقیق کے قومی ادارے میں رپورٹ بھی درج کرائی۔

بھارت کی ریاست کرناٹک کے وزیر اعلی نے گاڑی پر کوا بیٹھے کی وجہ سے سرکاری گاڑی کو منحوس قرار دے دیا تھا اور اسے بدلنے کے احکامات جاری کر دیے تھے۔

Nazesh Hassan

پاکستان ٹرائب کی ادارتی ٹیم کا حصہ رہنے والے نازش حسن سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ وہ ماس کیمونیکیشن کی گریجویٹ اور سیاسی، سماجی اور انسانی دلچسپی کے موضوعات پر لکھتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *