کینڈل ٹوٹ گئی – تیسری قسط

کینڈل ٹوٹ گئی – تیسری قسط

چند دن بعد ایک روز کبریٰ کی پڑوسن اوپر اس کے پاس آئی ہوئی تھی۔ اس کے تینوں بچے اسکول گئے ہوئے تھے اور شوہر آفس میں تھے۔ کبریٰ نے چائے بنا کر صوفوں کے ساتھ موجود ٹیبل پر رکھی اور کھلونوں سے کھیلتی انعم کو مصروف چھوڑ کر علینہ کو گود میں اٹھائے خود بھی وہیں آبیٹھی۔

ادھر ادھر کی باتیں کرتے کرتے کبریٰ کی پڑوسن کہنے لگی کہ کبھی تمہیں شک ہوا کہ تمہارے شوہر کہیں اور انوالو ہوں؟ کبریٰ نے فور انکار میں سر ہلایا تو دوسرا سوال ہوا کہ تم یہ بات کیسے کہہ سکتی ہو؟ تمہیں کیا علم کہ وہ دن بھر باہر رہ کر کیا کرتے ہیں؟ کبریٰ کچھ دیر کے لیے لاجواب ہو گئی۔

ناول ‘کینڈل ٹوٹ گئی’ کی پہلی قسط یہاں پڑھیں

انعم نے کھلونا اچھالا تو اسے لگا کہ کہیں یہ لوٹ کر بیٹی کو لگ نہ جائے، وہ ہاتھ میں موجود چائے کا کپ ٹیبل پر رکھتے ہوئے فورا اٹھی اور بیٹی کے پاس سے سخت پلاسٹک کا کھلونا اٹھا کر سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔ انعم پسندیدہ کھلونا چھننے پر ضد کرنے لگی تو کبریٰ نے اسے بہلانا چاہا لیکن وہ بچہ ہی کیا جو فورا مان جائے۔

کبریٰ انعم کے ساتھ مصروف تھی کہ گراؤنڈ فلور کی بیل بجنے کی آواز سنائی دی۔ ‘شاید اسکول گئے بچے واپس آ گئے ہیں، میں دیکھتی ہوں،’ یہ کہہ کر پڑوسن نیچے چل دی۔

کبریٰ اپنے معمول کے مطابق باقی کا دن مصروف رہی۔ اس شام شارق جلدی گھر آئے تو دونوں مل کر خاصی دیر بچیوں سے کھیلتے رہے۔ رات کے نو بجے تو انعم اور علینہ نیند کی وجہ سے ضد کرنے لگیں۔ انعم شارق کی گود میں بیٹھی تھیں جب کہ علینہ کو کبریٰ نے اٹھا رکھا تھا۔ وہ یہ کہتے ہوئے ڈرائنگ روم سے اٹھ گئی کہ میں علینہ کو سلا لوں۔ ان کے جانے کے بعد بھی شارق اور انعم وہیں بیٹھے رہے۔

ناول ‘کینڈل ٹوٹ گئی’ کی دوسری قسط یہاں پڑھیں

اسے بیڈ روم میں آئے نصف گھنٹہ سے کچھ زائد وقت ہوا ہو گا کہ شارق آہستہ سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئے اور اپنے بازوؤں میں سوئی انعم کو بیڈ پر لٹا دیا۔ علینہ کو سلانے میں مصروف کبریٰ نے ایک نظر باپ، بیٹی کو دیکھا اور علینہ کی جانب متوجہ ہو گئی جو اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے اسے ایسے پکڑے ہوئے تھی گویا اس کے چلے جانے کا خدشہ ہو۔

کہانی کا باقی حصہ آئندہ قسط میں پڑھیں۔ ادارہ

شاہد عباسی

پاکستانی صحافی اور ڈیجیٹل میڈیا اسٹریٹیجسٹ شاہد عباسی، پاکستان ٹرائب کے بانی، ایڈیٹر ہیں۔ پاکستان کے اولین ڈیجیٹل میڈیا صارفین میں سے ایک شاہد عباسی بلاگنگ اور خارزار صحافت کے علاوہ اپنے کریڈٹ پر دو ناولز بھی رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *