پنڈی بوائے – قسط نمبر 3

پنڈی بوائے – قسط نمبر 3

رکشہ فراٹے بھرتا ہوا، ہمیں تقریباً موت کے منہ میں دھکیلتا، ہوا کے گھوڑے پر سوار نکل پڑا۔ رکشے والے نے ہم سے امی کے بدلے خوب نکالے اور ہم ہلتے ڈُلتے، کَوسنے کاٹنے دیتے اسکول کی خوبصورت، بادامی رنگ کی عمارت کے سامنے کھڑے تھے۔ کُشادہ میدان، خوبصورت باغ دیکھ کر میری تو آنکھیں ہی پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ ”مطلب کوئی اسکول اتنا بھی مکمل ہوسکتا ہے؟“ میں نے د ل میں کہا۔

یہ اسکول میرے گھر سے تین کلو میٹر کے فاصلے پر تھا۔ اِس کا شمار راولپنڈی کے نامور اسکولوں میں ہوتا تھا۔ ”دیکھو شایان یہ پنڈی کا سب سے بہترین اسکول ہے، تمہیں ہر صورت یہاں ایڈمیشن لینا ہے اور یہ ٹیسٹ پاس کرنا ہے۔“ امی نے مُجھ سے بہت امیدیں باندھ رکھی تھیں۔

مُجھے کوفت ہوتی تھی جب امی اِسطرح کرتی تھیں۔ میں نے خود بھی کبھی اپنے آپ سے کوئی امید نہیں رکھی تو پھر امی کیوں۔ یہ دیسی مائیں بھی ناں، اُف! ہم پھولوں کی کیاریوں سے ہوتے ہوئے پرنسپل کے آفس کی جانب چل پڑے۔

یہ بھی پڑھیں: پنڈی بوائے – قسط نمبر 1

کیاریوں کے پاس کھڑے مالی بابا نے مُجھے پیار سے دیکھا۔ جیسے چیخ چیخ کر کہہ رہا ہو کہ تم ہی ہو، تم ہی ہو وہ قیمتی نگینے جسے ہم تلاش کر رہے ہیں۔ پرنسپل کے آفس کا بھی کوئی جواب نہ تھا، لکڑی کی خوبصورت الماریاں، سفید رنگ کے عمدہ صوفے، لال رنگ کی کرسیاں، شیشے کی بنی خوبصورت میز، پرنسپل کی کرسی کے پیچھے لگے کئی میڈلزاور ایوارڈز، کمرے کے چاروں طرف کشادہ کشادہ کھڑکیاں، جہاں سے پورے اسکول کا ہر نظارہ کیا جا سکتا تھا۔

آپ لوگ ایڈمیشن ٹیسٹ کے لیئے آئے ہیں؟ کالے لباس، ہری آنکھوں، ہونٹوں کے عین نیچے موٹا سا تِل اور خوفناک مسکراہٹ والی پرنسپل نے ہمیں خوش آمدید کہا۔

جی وہ شایان کے ابو یعنی ذوالفقار احمد صاحب سے آپکی بات ہوئی تھی ایڈمیشن کے سلسلے میں، آپ کے شوہر کے دوست بھی ہیں“ امی نے پرنسپل صاحبہ کو آنے کی وجہ بتائی۔

ہاں جی! بات تو ہوئی تھی لیکن آپ لیٹ ہو گئے ہیں، میں نے تو نو بجے بلایا تھا اور آپ غالباً 10 بج کر 8 منٹ پر داخل ہو رہے ہیں ” پرنسل صاحبہ چائے کہ چُسکی لیتے ہوئے بولیں۔ وہ وقت کی کچھ زیادہ ہی پابند لگ رہی تھیں۔

میں نے امی کو دیکھا، امی نے مجھے، پھر میں نے امی کے ہونٹوں سے ایک عدد گالی نکلتے ہوئے محسوس کی، جو عموماً اُس رکشے والے کے لیئے تھی۔

آپ کو تقریباً 8 بج کر 59 منٹ پر میرے دروازے کے باہر ہونا چائیے تھا، اور تقریباً نو بجے میرا دروازہ کھٹکھٹانا چاہیے تھا” پرنسپل صاحبہ کے دماغ کا کیڑا شاید کچھ زیادہ ہی تیزی سے حرکت کر رہا تھا۔ ”وہ جی میں کیا بتاوں آپ کو! “ امی نے بھی رام کَتھا گھڑ ڈالی۔ ”شایان کی دادی بہت بیمار ہیں آج کل۔

” یہ امی کیا کہہ رہی ہیں؟ دادی کو گزرے کو 5 سال کو گے” میں نے دل میں کہا اور گُھور کر امی کی جانب دیکھا۔

بس وہ اُنکے ساتھ ہی لگی ہوئی تھی صبح سے میں، اِسی لیئے دیر ہو گئی، معذرت خواہ ہوں۔ امی نے سُکھی ساوِتری کا روپ دھار لیا تھا اور بہت ہی کوئی پیاری لگ رہی تھیں۔

”اوہ چلیں کوئی بات نہیں۔ ایسا ہوتا رہتا ہے۔ میں ٹیسٹ تو لے لیتی ہوں، لیکن میں اپنے اسکول میں ایڈمیشن میرٹ کی بنیاد پر دیتی ہوں“ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے پرنسپل صاحبہ نے شاید پہلے ہی میری شکل پڑھ لی تھی۔ ”ارے کیسی باتیں کر رہی ہیں میڈم، ہم بھی میرٹ پر ہی ایڈمیشن چاہتے ہیں، آپ فکر نہ کریں میڈم! بڑا ہوشیار ہے میرا بیٹا“

“یہ کون بولا؟” میرے دل نے مُجھ سے سوال کیا۔ میں نے اِدھر اُدھر دیکھا تو امی مُجھے دیکھ کر مسکرا رہی تھیں۔ بلکل، میری ماں کے علاوہ اور بول بھی کون سکتا تھا؟

یہ بھی پڑھیں: پنڈی بوائے – قسط نمبر 2

ہمیشہ اول آتا ہے میرا بچہ ہر کلاس میں میڈم” میں نے آنکھیں پھاڑے پلٹ کر امی کو دیکھا۔ دل اب خُون کے آنسو رو رہا تھا۔ کبھی کبھی مائیں بھی ناں اپنے بچوں کے لیے کتنے جھوٹ بولتی ہیں۔ وہ بھی، ممجھ جیسے بچے کے لیے۔

“امید ہے ٹیسٹ بھی اُتنا ہی اچھا کرے گا” میڈم نے زہریلی مسکراہٹ اور تِرچھی نظر سے مجھے دیکھا۔ میں سہم سا گیا، جسم اب مارے خوف کے تھر تھر کانپنے لگا۔ پرنسپل صاحبہ کی شکل پنجابی فلم کی کسی منفی کردار سے مل رہی تھی۔ شاید اگر مولا جٹ کا کردار کوئی خاتون کرتی تو میڈم جی سب سے بہترین انتخاب ہوتیں۔

“سمیرا اِنکو ٹیسٹ دے دیجئے”۔

پرنسپل صاحبہ نے دوسری استانی سے کہا۔ امی باہر چلی گئیں، مجھے ٹیسٹ دیا گیا۔ میں نے تھوک نگلا، چھت کی طرف دیکھا، آیت الکرسی پڑھ کر ٹیسٹ کے تمام صفحات پر باری باری پھونکی۔ پرنسپل صاحبہ حیرت سے مجھے جنتر منتر کرتے دیکھ رہی تھیں۔ میں اپنی حرکت پر ذرا سا پشیماں ہوا، اُن سے نظریں چراتے سوالوں کو دیکھنا شروع کیا اور دیکھتے ہی چاروں طبق روشن ہو گئے۔

خوش قسمتی سے ان میں سے ایک سوال کا حل بھی مجھے نہیں آتا تھا۔ ریاضی کے سوالوں کی شکلیں پہلی بار دیکھی لگ رہی تھیں۔ اب بھلا نو کا پہاڑا کس بچے کو ایڈمیشن ٹیسٹ میں کیونکر لکھنے کو دیا جائے گا؟ انگریزی کے الفاظ تو پڑھے بھی نہ جا رہے تھے۔ دل نے بار بار کہا وہ رَٹوں کا کیا ہوا؟ تو دماغ بولا سب کے سب ہوا میں چُھو ہو گئے۔ میرا دل اور دماغ سوال جواب کھیل رہے تھے۔

شاید کچھ لوگوں کے ماتھوں پر پیدائشی طور پر ”منحوس“ لکھا ہوتا ہے، اور پہلی جماعت میں داخلے کے لیئے انہوں نے شاید میٹرک کا پرچہ دے دیا تھا۔ ایک پل کو تو میں نے سوچا کہ میڈم پرنسپل سے کہہ دوں کہ آپ نے مُجھے میٹرک کا پرچہ دے دیا ہے، لیکن پھر مجھے بہترین دوست مضمون کا سوال دِکھا توخوشی سے بانچھیں کھِل گئیں۔ لیکن کچھ یقین سا ہو گیا کہ غلطی میڈم پرنسپل کی نہیں کچھ اپنی اپنی ہی لگتی ہے۔

پھر کیا تھا، میں نے فٹا فٹ رٹا رٹایا مضمون لکھ دیا اور گمشدہ میاں اسلم کو بہترین دوست کے اعزاز سے خراجِ تحسین پیش کیا۔ میں نے تین گھنٹے کا ٹیسٹ 15 منٹوں میں ہی حل کر دیا تھا۔ لیکن پھر بھی ٹیسٹ پیپر مجھے خالی خالی لگ رہا تھا۔ شاید میرے لکھے ہوئے الفاظ غائب ہو گئے تھے تبھی مُجھے پرچہ ویران سا لگ رہا تھا۔

خیر تین گھنٹے کا ٹیسٹ پندرہ منٹ میں کر کے نکل جانا لفظ ٹیسٹ کی بے حُرمتی ہے۔ تو بقایا پونے تین گھنٹے میں نے باہرفٹ بال کھیلتے ہوئے لڑکوں کا میچ دیکھا جو 1- 1 گول سے برابر رہا۔ دو لڑکوں کی معمولی سی کُشتی بھی ہوئی تھی، جسے دیگر لڑکوں نے بیچ بچاؤ کرا کر مزہ کرکرا کردیا۔

کچھ دیر جھولا جھولتی ہوئی بچیوں کو دیکھا، کیاریوں میں لگے مختلف انواع و اقسام کے پھولوں کو گِنا اور اُنکا مقابلہ کروایا۔ گلاب کا پھو ل پانچ پھولوں سے جیت گیا تھا، چھت کے پنکھوں کی صفائی دیکھی، کہ کہیں یہ نِکھٹو صفائی والے نے صفائی کی ہے بھی یا نہیں یا پھر مفت کی تنخواہ لے رہا ہے، میڈم پرنسپل کی دو گھنٹے سے جاری کال پر شبنم، سلمٰی اور حمیدہ کی غیبتیں اور شگفتہ کے خوفناک میک اپ، پَر کٹے بالوں اور نقلی دانتوں پر تبصرہ سُنا۔

یہ بھی پڑھیں: کینڈل ٹوٹ گئی – دوسری قسط

دیوار پر چرھتی ہوئی چیونٹیوں کو دیکھا، اور کچھ کا تو انگلیوں سے باقاعدہ راستہ بھی روکا، بڑا مزہ آیا! اپنی پنسل کا سِکہ لفظ بنانے کے لیئے بیسیوں بار توڑا اور بیسیوں بار بنایا، صفحہ پھٹ گیا لیکن کوئی لفظ نہ بن سکا، بیسیوں بار کسی خلائی مخلوق کی زبان کے الفاظ لکھے اور بیسیوں بار مٹائے، گھر میں آج کھانے میں کیا پکائیں کے سوال پر دل اور دماغ کا دنگل کروایا، پرنسپل کے آفس میں آنے والے ہر شخص کا بغور جائزہ لیا، اُنگلی سے ناک صاف بھی کی اور کرسی پر بھی لگائی اور پھر میری طرف پُشت کر کے بیٹھی، فون پر غیبتیں کرتی پرنسپل صاحبہ کو دانت بھی دکھائے۔

امی باہر بیٹھی کیا کر رہی ہوں گی؟ یہ سوچ سوچ کر اپنی جان بھی گُھلائی اور یوں 3 گھنٹے اتنی جلدی پورے ہو گئے۔

”وقت ختم ہو گیا ہے“ پرنسپل صاحبہ نے میری طرف خوفناک مسکراہٹ سے دیکھتے ہوئے کہا۔

میں نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے پیپر پکڑایا۔ اُنہوں نے پیپر لیتے ہی ایک نظر اُس پر ڈالی ہی کہ اُن کے چہرے سے مسکراہٹ ایسے غائب ہوئی جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ انہوں نے پیپرکو آگے پیچھے سے ٹٹول ٹٹول کر دیکھا، اپنی آنکھیں مَلیں کہ کہیں الفاظ اُڑ تو نہیں گئے، ایک نظر گھڑی کو دیکھا اور ایک نظر مُجھے دیکھا اور کہا کہ ”آپ جا سکتے ہیں“

اب وہ کافی سنجیدہ نظر آ رہی تھیں، ساتھ ہی انہوں نے مُجھے ایسی نظروں سے دیکھا کہ جیسے کہہ رہی ہوں کہ ”تمہارے ماتھے پر لکھا ہو بڑا سا”منحوس“ میں نے پہلے ہی پڑھ لیا تھا بچے“

میں شرمندہ شرمندہ سا بغلیں جھانکتا ہوا، لکڑی کا دروازہ کھول کر باہر چلا آ یا۔

کیسا ہوا ٹیسٹ؟“ امی نے بڑے جذباتی ہو کر مُجھے گلے لگالتے ہوئے پوچھا۔

بہت اچھا امی!“ جیسے ہر نالائق بچہ گندہ پرچہ کرنے کے بعد ماں باپ کو کہتا ہے کہ بہت اچھا میں نے بھی کہہ دیا، اور میں کہہ بھی کیا سکتاتھا؟

ہم انہیں پھول دار کیاریوں میں سے دوبارہ چلتے ہوئے جانے لگے، اب کی بار مالی بابا نے مجھے پیار سے نہیں بلکہ پِھٹکار سے دیکھا۔

شاید وہ بھی سمجھ گئے تھے کہ میں اور کوئی نہیں محض ایک بونگا تھا۔ ایک عدد نالائق بونگا۔

اُس ہفتے امی اور بابا نے راولپنڈی کے ہر اچھے اسکول میں میرا ایڈمیشن ٹیسٹ کروایا۔ لیکن ہر اسکول نے مجھے میرے شاندار ٹیسٹ کے باعث رکھنے سے صاف صاف انکار کر دیا۔ تو نتییجتاََ مجھے نہایت عزت و تکریم کے ساتھ گورنمنٹ بوائز سکینڈری اسکول میں داخل کرا دیا گیا۔

ناول کا باقی حصہ اگلی قسط میں۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ایمن سلیم

ایمن سلیم پاکستان ٹرائب کی ڈپٹی ایڈیٹر ہیں۔ زیر تحریر ناول کے ساتھ اردو ادب کا اچھا ذوق رکھنے والی ایمن بہت عمدہ ویژول آرٹسٹ بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *