کرفیو ذدہ سری نگر کی سنسان سڑکوں پر آوارہ کتوں اور انڈین فورسز کا راج

کرفیو ذدہ سری نگر کی سنسان سڑکوں پر آوارہ کتوں اور انڈین فورسز کا راج

سری نگر: ہندوانتہاپسند انڈین حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں بدترین کریک ڈاؤن کے بعد سرمائی دارالحکومت سری نگر کی سنسان سڑکوں پر آوارہ کتوں اور مسلح انڈین فورسز کا گشت جاری ہے۔

مقبوضہ کشمیر کو 70 برسوں سے حاصل خودمختاری کی حیثیت انڈین صدر کے متنازعہ حکم کے ذریعے پیر کو ختم کر دی گئی تھی۔ اس اقدام سے ایک روز قبل مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔

انڈین صدارتی حکم کے بعد مودی سرکار نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کا تعین کرنے والے انڈین آرٹیکل 370 اور 35اے کو ختم کرنے کا بل اسمبلی میں پیش کر کے بھاری اکثریت سے منظور کرا لیا تھا۔

مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کے خلاف نعرے دیوار پر نمایاں ہیں۔ فائل فوٹو
مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کے خلاف نعرے دیوار پر نمایاں ہیں۔ فائل فوٹو

انڈیا کے متنازعہ اقدام کے تحت لداخ کو جموں و کشمیر سے الگ کر کے ہندوستان میں ضم کیا گیا، لداخ کا مسلم اکثریتی ضلع کرگل بھی اس انضمام کا حصہ ہے۔ جموں و کشمیر کی خصوسی حیثیت ختم کرنے کا جواز پیش کرتے ہوئے بی جے پی سربراہ اور انڈین وزیراعظم مودی کے قریبی ساتھی کہے جانے والے ہندوستانی وزیرداخلہ امیت شاہ کا کہنا تھا کہ یہ آئینی شقیں کشمیر میں بیرونی صنعتی سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ تھیں۔

کشمیر میں اس وقت کیا ہو رہا ہے؟

انڈین اقدامات کے بعد دس لاکھ سے زائد مکینوں کا گھر سری نگر بھوتوں کے ایک ایسے شہر کا منظر پیش کر رہا ہے جہاں ہر گلی کے کونے پر مسلح فوجی تعینات ہیں، ان کے سامنے خاردار تاروں کی فصیلیں ہیں جن کے پار کبھی کبھار اکا دکا فرد نظر آ جاتا ہے۔

دنیا میں فوجوں کی بھارتی تعداد کی موجودگی کی شناخت رکھنے والے ہمالیائی علاقے کشمیر کا ماحول خوف سے بھرا ہوا ہے۔ کرفیو نافذ کرتے ہی تمام فون لائنز اور انٹرنیٹ کنکشنز منقطع کیے جا چکے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں: کشمیر کا سودا ہو گیا یا مودی سرکار نے جلدبازی کی؟

مرکزی سڑکوں پر ہر سو میٹر کے فاصلہ پر قابض انڈین فورسز کی چیک پوسٹیں قائم ہیں، ہنگامی نوعیت کی ملازمتوں سے وابستہ افراد کو ہی گھروں سے باہر جانے کی اجازت ہے۔ ہر دکان بند ہے اور مکینوں کا کہنا ہے کہ انہیں ضرورت کی کوئی بھی تازہ چیز دستیاب نہیں ہے۔

قابض انڈین فورسز تسلسل سے نہتے کشمیریوں کو تشدد کا نشانہ بناتی رہی ہیں۔ فائل فوٹو
قابض انڈین فورسز تسلسل سے نہتے کشمیریوں کو تشدد کا نشانہ بناتی رہی ہیں۔ فائل فوٹو

کرفیو میں شدت لائے جانے کے بعد سے صرف قابض فوج اور ممکنہ ہنگاموں کو روکنے کے ہتھیاروں سے مسلح پولیس ہی سڑکوں پر موجود ہے۔ ان دستوں کو بھاری بھر کم ٹرکوں اور بسوں کی آڑ میسر ہے جنہوں نے بند دکانیں رکھنے والی گلیوں کے راستے روک رکھے ہیں۔

سری نگر کے چوکوں، چوراہوں میں آوارہ کتے سیاحوں کے ہاتھوں تنگ کیے جانے سے محفوظ ہیں، کیونکہ سیاحوں کو حکم دے کر وادی سے نکالا جا چکا ہے۔

وادی میں امن کا انڈین دعوی اور سری نگر میں احتجاج

سری نگر میں سخت ترین کرفیو کے باوجود پیر کو احتجاج کے واقعات پیش آئے۔ قابض فورسز نے نہتے مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں سری نگر کے ایک طبی مرکز میں گولیاں لگنے سے زخمی ہونے والے چھ افراد کو لایا گیا ہے۔ فرانسیسی خبررساں ادارے نے احتجاج اور زخمیوں کی خبر دیتے ہوئے کہا کہ سری نگر کے ایک طبی مرکز سے متعلق فرد نے اپنی شناخت خفیہ رکھنے کی شرط پر یہ معلومات فراہم کی ہیں۔

یہ احتجاج اور مظاہرین کے زخمی ہونے کے واقعات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب انڈین سرکار مسلسل دعوی کر رہی ہے کہ علاقہ پر امن ہے۔

سری نگر میں بدترین کرفیو نافذ کرنے کے بعد قابض انڈین فورسز کا دعوی ہے کہ علاقہ پرامن ہے۔
سری نگر میں بدترین کرفیو نافذ کرنے کے بعد قابض انڈین فورسز کا دعوی ہے کہ علاقہ پرامن ہے۔

سات دہائیوں سے انڈین قبضے کا شکار مقبوضہ کشمیر  1989 کے بعد سے آزادی کی تحریک کا مرکز بنا ہوا ہے۔ انڈین حکومت مقامی حریت پسندوں کے وجود کا مسلسل انکار کرتی اور پاکستان پر عسکری کارروائیوں کا الزام دھرتی رہی لیکن کشمیری مجاہد تنظیم حزب المجاہدین سے وابستہ نوجوان کمانڈر برہان وانی اور ان کے ہم عمر ساتھیوں کی جانب سے منظر عام پر آنے کے بعد انڈیا کو اپنے اس دعوی پر بھی سبکی اٹھانی پڑی تھی۔

یہ بھی دیکھیں: انڈیا کے اقدام سے شملہ معاہدہ دفن ہوگیا

1947 میں تقسیم برصغیر کے بعد سے جموں و کشمیر پر انڈین فورسز قابض رہی ہیں۔ علاقے کے متنازعہ ہونے کے باعث انڈیا اور پاکستان کے درمیان اس معاملہ پر دو جنگیں بھی ہو چکی ہیں۔ پیر کے متنازعہ انڈین صدارتی آرڈیننس سے قبل کشمیری سیاستدانوں کا ایک حصہ انڈیا کے زیرانتظام رہنے پر بظاہر مطمئن دکھائی دیتا تھا، تاہم کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا حکم نامہ سامنے آنے کے بعد سابق وزیراعلی محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو اپنی حکمت عملی کے ناکام ہونے کا احساس ہوا۔ محبوبہ مفتی نے اپنے بیان میں کہا کہ دو قومی نظریہ کی مخالفت کر کے پاکستان کے بجائے انڈیا کے ساتھ رہنے کا ان کا فیصلہ غلط ثابت ہوا ہے۔

وادی میں کرفیو نافذ کیے جانے کے بعد سے انڈین فورسز نے حریت پسند کشمیری قائدین سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور دیگر سمیت ماضی میں کٹھ پتلی رہنے والے وزراء اعلی محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو بھی گرفتار یا نظر بند کر رکھا ہے۔

پیر کا انڈین اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب اگست کی ابتداء میں مودہ سرکار نے پہلے سے لاکھوں فوجیوں کے زیرقبضہ جموں و کشمیر میں ہزاروں مزید فوجی بھیجے تھے۔ فوجوں کی بھاری منتقلی کی خبریں سامنے آنے پر انڈین حکام نے اسے معمول کی کارروائی قرار دیا تھا تاہم کشمیر کے مقامی افراد اسے کسی بڑے حادثہ کا پیش خیمہ قرار دے رہے تھے۔

فوزان شاہد

مطالعہ اور لکھنے کا عمدہ ذوق رکھنے والے فوزان شاہد پاکستان ٹرائب کے ڈپٹی ایڈیٹر ہیں۔ وہ سیکیورٹی ایشوز سمیت سماجی، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر لکھتے ہیں۔ Twitter: @FawzanShahid

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *