’انڈیا کے اقدام سے شملہ معاہدہ دفن ہوگیا‘

’انڈیا کے اقدام سے شملہ معاہدہ دفن ہوگیا‘

جدہ: پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جدہ میں او آئی سی رابطہ گروپ برائے کشمیر کے خصوصی اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انڈیا کے اقدام سے شملہ معاہدہ دفن ہو گیا ہے۔

سعودی نیوز ویب سائٹ اردو نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ’اب تک انڈیا دوطرفہ بات چیت کا راگ الاپ رہا تھا لیکن کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا یکطرفہ قدم اٹھایا گیا، ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کے جواب میں بھی نئی دہلی کی طرف سے بیان آیا تھا کہ یہ دوطرفہ معاملہ ہے اور ہم شملہ معاہدے کے پابند ہیں۔ کہاں گیا وہ شملہ معاہدہ؟‘

ہندوستان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئینی شقیں ختم کر کے کشمیر کو انڈیا میں ضم کرنے کے معاملہ پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نہوں نے کہا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ انڈیا نے اس اقدام سے معاہدے کو دفن کر دیا ہے۔ میری رائے میں شملہ معاہدے کی کوئی اہمیت نہیں رہی۔‘

انہوں نے کہا کہ انڈیا نہیں چاہتا کہ خطے میں امن ہو۔ وہ اپنے عزائم کی خاطر پورے خطے کو داؤ پر لگاناچاہتا ہے ۔ پاکستان امن عمل کو منطقی انجام تک پہنچانا چاہتا ہے جبکہ انڈیا نے اپنی چال سے اپنے ذہن کی عکاسی کردی ہے۔

کیا اب ایل او سی مستقل سرحد بن جائے گی؟

پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’ایل او سی مستقل بارڈر بننے نہیں جارہا یہ انڈیا کا یکطرفہ اقدام ہے جس کو ہم تسلیم نہیں کرتے، کشمیریوں نے اسے مسترد کیا ہے اس کی کوئی قانونی پوزیشن نہیں۔‘

یہ بھی دیکھیں: کشمیر کا سودا ہو گیا یا مودی سرکار نے جلدبازی کی؟

انڈین کوشش افغان امن عمل پر کاری ضرب

شاہ محمود قریشی کہا کہ ’یہ بڑی واضح منصوبہ بندی دکھائی دے رہی ہے۔ کئی ماہرین کہہ رہے کہ انڈیا نے یہ بہت خطرناک کھیل کھیلا ہے۔ آج امریکا کا فوکس افغانستان کے امن واستحکام پر ہے۔ وہ کئی ماہ سے وہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے۔ دوحہ میں بات چیت اپنے نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ پاکستان کے مثبت کردار کا ہر کوئی اعتراف کررہا ہے۔ اس مرحلے پر انڈیا کی طرف سے یہ قدم اٹھانا میں سمجھتا ہوں افغان امن عمل پر ایک وار اور اسے ضرب پہنچانے کے مترادف ہے۔‘

ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش ٹریپ ہے؟

سعودی ویب سائٹ سے انٹرویو کے دوران ایک سوال کے جواب میں پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’میں نہیں سمجھتا کہ مسئلہ کشمیر پر ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کوئی ٹریپ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ تو تشویش تھی۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ اس وقت پاکستان پوری توجہ افغان امن عمل پر دے رہا ہے۔ اگر اس وقت کسی قسم کی محاذ آرائی ہو جاتی ہے تو پاکستان کی توجہ ہٹے گی۔ امریکہ کو افغان امن عمل متاثر ہونے کا خدشہ لاحق ہے۔ اسی لیے اس نے ثالثی کی پیشکش کی جسے انڈیا نے مسترد کر دیا۔‘

کشمیر کی حیثیت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ہمارا موقف تسلسل سے واضح ہے کہ کشمیر متنازع علاقہ ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اس کا حل تلاش کیا جائے۔‘

او آئی سی کے رابطہ گروپ برائے کشمیر کے اجلاس کا منظر
او آئی سی کے رابطہ گروپ برائے کشمیر کے اجلاس کا منظر

او آئی سی رابطہ گروپ نے کشمیر پر کیا کیا؟

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ جدہ میں او آئی سی رابطہ گروپ کے ہنگامی اجلاس میں پاکستان کا موقف واضح طور پر پیش کیا ہے۔ اجلاس نے صورتحال پر تشویش کا اظہار اور انڈیا کے اقدام کی مذمت کی ہے۔ اجلاس کوپاکستان میں جاری مشاورت کے عمل پر اعتماد میں لیا۔ انٹرنیشنل رابطوں سے بھی آگاہ کیا ہے۔

 

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *