کشمیر کا سودا ہو گیا یا مودی سرکار نے جلدبازی کی؟

کشمیر کا سودا ہو گیا یا مودی سرکار نے جلدبازی کی؟

انڈیا کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے متعلق اقدام کے بعد سے کئی سوال زیرگردش ہیں، سماجی رابطوں کی ویب سائٹس سمیت گفتگو کے دیگر مقامات پر زیر بحث ان سوالات میں اہم ترین یہ ہیں کہ کیا امریکا، انڈیا اور پاکستان نے رضامندی سے کشمیر کے معاملہ پر سودا کر لیا ہے؟ یا امریکی صدر کی ثالثی کی پیشکش کے بعد مودی سرکار نے عجلت کا مظاہرہ کیا ہے؟

سوشل میڈیا پر زیرگردش سوالوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انڈیا نے کشمیر میں بڑے پیمانے پر نئی فوج تعینات کی، میڈیا کو پابند کیا، انٹرنیٹ اور فون سروسز بلاک کیں، ہندو ہندویاتریوں سمیت دیگر انڈینز کو وادی سے نکالنے کا آپریشن مکمل کیا، ہندوستانی حکومت کے ساتھ دیگر ادارے بھی اس عمل کا حصہ رہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ وادی سے بذریعہ سڑک جانا مشکل ہوا تو انڈین ایئر لائنز نے واپس جانے والوں کے لیے اپنے ٹکٹس کی قیمتیں کم کر دیں۔یہ سارے معاملات ہوئے تو انہیں بروقت اٹھایا کیوں نہیں گیا؟

گزشتہ دو روز سے جاری یہ بحث اب بھی جاری ہے تاہم مختلف اطراف سے سامنے آنے والی اطلاعات مل کر ایک تصویر بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے لداخ کو مستقلا براہ راست انڈین انتظام میں لینے جب کہ جموں و کشمیر کو ریاست کے درجہ سے ہٹا کر براہ راست دہلی کے زیرانتظام کرنے کا اعلان کرنے والے انڈین وزیرداخلہ امیت شا کی ایک تصویر نے واضح کیا ہے کہ یہ اعلان اتفاقی نہیں بلکہ معاملہ بھرپور منصوبہ بندی سے آگے بڑھایا گیا ہے۔

انڈین وزیرداخلہ امیت شاہ کشمیر کا خصوصی اسٹیٹس ختم کرنے سے متعلق اعلان کے بعد ٹاپ سیکرٹ دستاویز کے ہمراہ
انڈین وزیرداخلہ امیت شاہ کشمیر کا خصوصی اسٹیٹس ختم کرنے سے متعلق اعلان کے بعد ٹاپ سیکرٹ دستاویز کے ہمراہ

انڈین وزیر داخلہ امیت شا کی میڈیا سے ملاقات کے دوران فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے فوٹوگرافر پرکاش سنگھ کی لی گئی تصویر میں انڈین وزیرداخلہ کے ہاتھ میں ایک ٹاپ سیکرٹ دستاویز نمایاں ہے۔ اس تصویر میں مقبوضہ کشمیر سے متعلق اعلان کے بعد آئینی، سیاسی اور فوجی سطح پر اٹھائے جانے والے اقدامات کی ٹائم لائن بیان کی گئی ہے۔

سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ یہ تصویر واضح کرتی ہے کہ مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق اعلان سے قبل سیاسی، قانونی، عسکری اور عالمی محاذ پر معاملہ سے نمٹنے کی تیاری مکمل کر لی تھی۔

کشمیر سے متعلق اس گفتگو میں یہ دعوی بھی کیا گیا ہے کہ سفارتی سطح پر پاکستان کو مشکل مقام پر پہنچانے کے بعد انڈیا نے کشمیری مجاہدین کی تنظیموں کو دباؤ میں لانے کا جو کام برسوں قبل شروع کیا تھا اسے ایف اے ٹی ایف کے ذریعے مکمل ختم کرنے کا سامان کیا۔ تیسرے مرحلہ میں پاکستان کی جوابی کارروائی کو پرکھنے کے لیے بالاکوٹ پر فضائی حملہ کیا کہ پاکستان جواب میں کہاں تک جا سکتا ہے، جب مودی سرکار کو اندازہ ہوا کہ جواب محدود ہی ہو گا تو پھر وادی میں مزید فوجیں اتاری گئیں اور فورا جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی گئی۔

کشمیر کے متعلق جاری گفتگو میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا کہ اس مرحلہ پر پاکستان نے دوٹوک اقدام نہ کیا تو چند برسوں میں کشمیر باقاعدہ طورپر انڈیا کا حصہ بن چکا ہو گا اور ڈھیلے ڈھالے بیان دینے والی عالمی برادری بغیر کہے اسے تسلیم کر چکی ہو گی۔

متعدد صارفین نے وزیراعظم عمران خان کے ماضی کے ایک انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے استفسار کیا کہ بتایا جائے کہ کشمیر پر کیا ڈیل ہوئی ہے؟

ہندوستان کے حالیہ اقدام کے بعد ماضی میں انڈین قبضہ کو تسلیم کر لینے والے کشمیری سیاستدانوں کے ساتھ بھی مودی سرکار نے وہی سلوک کیا ہے جو وہ ماضی میں حریت پسند قیادت کے ساتھ کرتا رہا۔جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلی محبوبہ مفتی نے گزشتہ روز بیان دیا کہ دو قومی نظریہ کو مان کر پاکستان کی حمایت کے بجائے انڈیا کا ساتھ دینے کا فیصلہ غلط تھا۔

اس بیان کے بعد انہیں پہلے نظر بند کیا گیا اور پھر ایک اور سابق وزیراعلی عمر عبداللہ کے ساتھ انہیں بھی گرفتار کر لیا گیا۔

کشمیر کے معاملہ پر انڈین حکومت کے اقدام کے بعد کشمیری شدید بے چین ہیں ہی، پاکستان کی جانب سے بھی عوامی سطح پر صدائے احتجاج بلند کی جا رہی ہے جب کہ انڈیا کے اندر بھی ایک چھوٹا سا حلقہ مودی سرکار کے اقدام کو غلط قرار دے رہا ہے۔

انڈین سپریم کورٹ کے ایک وکیل جے ویر شیرگل نے معاملہ کے قانونی پہلو پر بات کرتے ہوئے لکھا کہ عدالت عظمی کے فیصلہ کے مطابق انڈین صدر کشمیر کی ریاستی اسمبلی کی تجویز پر ہی جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آئین کی شق 370 کو ختم کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اس وقت کی طرح اگر ریاستی اسمبلی معزول بھی ہو تو بھی اس شق کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ معاملہ پر تبصرہ میں انہوں نے کہا کہ قانون اور آئین کا دور اب ختم ہو چکا۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر جاری گفتگو، عالمی میڈیا کی رپورٹس اور واقفان حال کی اطلاعات واضح کرتی ہے کہ جموں و کشمیر پر انڈیا کی جانب سے مارا گیا شب خون خوب سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔ اب باری پاکستان کی ہے کہ وہ قائد اعظم کی جانب سے شہہ رگ قرار دیے گئے کشمیر کے لیے کیا عملی اقدام کرتا ہے۔

فوزان شاہد

مطالعہ اور لکھنے کا عمدہ ذوق رکھنے والے فوزان شاہد پاکستان ٹرائب کے ڈپٹی ایڈیٹر ہیں۔ وہ سیکیورٹی ایشوز سمیت سماجی، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر لکھتے ہیں۔ Twitter: @FawzanShahid

2 thoughts on “کشمیر کا سودا ہو گیا یا مودی سرکار نے جلدبازی کی؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *