فردوس جمال کی مخالفت، مومنہ درید مشکل کا شکار

فردوس جمال کی مخالفت، مومنہ درید مشکل کا شکار

سینیئر اداکار فردوس جمال کو اداکارہ مائرہ خان سے متعلق ایک بیان کے بعد اپنے ذاتی پروڈکشن ہاؤس کے منصوبوں سے خارج کرنے کا اعلان کرنے والی مومنہ درید مشکل کا شکار ہو گئی ہیں۔

پاکستانیوں کی سوشل میڈیا ٹائم لائنز پر تقریبا ایک ہفتے سے فردوس جمال کے بیان، مائرہ خان کے جواب کے چرچے تھے۔ ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے فردوس جمال نے مائرہ خان کو غیرمعمولی اداکارہ تسلیم نہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ خوبصورت ماڈل ہیں لیکن بہت بڑی اداکارہ نہیں ہیں۔ ان کی عمر کا تقاضا ہے کہ وہ اب بطور ہیروئین نہیں بلکہ ماں کے کردار کیا کریں۔

اس بیان کے بعد ان پر سوشل میڈیا پر عام صارفین، ماہرہ کے پرستار اور انڈسڑی کے ساتھی برا مان گئے اور فردوس جمال کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور کہا گیا کہ وہ خواتین کے متعلق متعصبانہ رائے رکھتے ہیں۔ معاملہ کچھ روز بعد ٹھنڈا ہونے کو تھا کہ مائرہ خان کا بھی جواب آ گیا جس نے ایک بار پھر پرانی بحث کو تازہ کر دیا۔ ایک بار پھر صحیح اور غلط کی بحث کی جنگ چھڑ گئی۔

فردوس جمال اور ماہرہ خان کی لفظی جنگ سوشل میڈیا پر موضوع گفتگو بنی ہوئی تھی کہ اچانک مومنہ درید پروڈکشن کی سربراہ مومنہ درید نے بیچ میں شامل ہونے کا فیصلہ کرلیا۔ ان کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ فردوس جمال کو ماہرہ خان پر بیان دینے کے نتیجے میں ان کی کسی بھی پروڈکشن میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ یہ اعلان سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے سب کچھ بھول کر مومنہ درید کو آڑے ہاتھوں لیا۔

صارفین کی بڑی تعداد نے مومنہ درید کے موقف کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ہم تو ان کے نام سے واقف بھی نہ تھے یہاں تک کہ گوگل پر ان کو تلاش کرنا پڑا اور پھر معلوم ہوا کہ یہ کون ہیں، جب کہ ہمارا بچپن فردوس جمال کی اداکاری دیکھتے گزرا ہے۔

بعض صارفین کا کہنا ہے کہ سینیئر اداکار کی توہین کے پیچھے ہوسکتا ہے مومنہ درید کی آنی والی فلم “سپر سٹار” ہو جس میں ماہرہ خان بطور ہیروئین کام کر رہی ہیں۔ اس بات کو مدںظر رکھتے ہوئے کچھ لوگوں نے فلم کا بائیکاٹ کرنے کا بھی اعلان کر ڈالا۔

رابعہ جاوید نامی صارف نے لکھا کہ مومنہ درید نے اس مسئلہ کو جنسی تعصب کی شکل دینے کی کوشش کی ہے جس کے لیے انہیں شرمندہ ہونا چاہیے۔ ان جیسی خواتین کی بدولت حقیقی متاثرین کے ساتھ ہمدردی نہیں کی جاتی۔ سب یہ جان لیں کہ اس ایشو کا فیمینزم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

راحم نامی ایک صارف لکھتے ہیں کہ “من چلے کا سودا” جیسے لازوال ڈرامے میں اداکاری کے بے مثال جوہر دکھانے والے لیجنڈ اداکار کا ایک پروڈکشن ہاوس کی مالک اور ایک جونیئر آرٹسٹ سے مقابلہ ہو تو فرق صاف واضح ہے کہ فردوس جمال کو حکومت پاکستان کی جانب سے پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے تب نوازا گیا جب مومنہ درید اور ماہرہ خان کے نام سے بھی کوئی واقف نہیں تھا۔

مومنہ درید پر تنقید کرنے والوں میں خوبرو اداکار فیروز خان بھی شامل ہوگئے انہوں نے ایم ڈی پروڈکشن کی سربراہ سے سوال کیا کہ کسی کا اظہار رائے کی آزادی کا حق استعمال کرنا آپ کو کیا کہتا ہے۔ کہ آپ اس کی روزی کا زریعہ چھین لو۔ اگر ایسا ہے تو پھر میں چاہوں گا کہ انٹرنیٹ پر کسی بھی انسان کے خلاف کچھ بھی بولنے والے شخص کے ساتھ یہی کیا جائے۔ مگر مجھے معلوم ہے کہ آپ ایسا نہیں کریں گی۔ بس اب بہت ہوچکا۔

بولڈ اداکارہ وینا ملک آج کل سوشل میڈیا پر بولڈ بیانات دینے کے لیے مشہور ہیں وہ بھی اس معاملے پر اپنی رائے دیے بغیر نہ رہ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یہ دیکھ کر بہت افسوس ہورہا ہے کہ انڈسڑی کے بہت کم لوگ فردوس جمال کے حق میں آواز اٹھا رہے ہیں۔ ۔ ۔ چڑھتے سورج کی پوجا اور مومنہ درید سے بین ہونے کا ڈر۔ ۔ ۔ ۔ اس سارے ایشو سے کیا بات سامنے ہے؟ کہ چپ رہو اور ہمارے پسندیدہ لوگوں کو سپورٹ کرو ورنہ نکالے جاو گے۔

Sad to see whats happening around.Only couple of ppl frm the industry suporting FJ.
چڑھتے سورج کی پوجا اور مومنہ درید سے بین ہونے کا ڈر۔۔۔۔حد ہے۔
What precedent this whole fiasco has set?Stay silent & support the favourites, else you will be kickout. Shameful #supportfirdousjamal

فردوس جمال کے صاحبزادے حمزہ فردوس نے اس معاملے پر فردوس جمال کی حمایت کرنے والوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے صارفین کو یاد دلایا کہ ان کے والد نے اس انڈسڑی کو 45 سال دیے۔ اس زمانے میں جب سوشل میڈیا نہیں تھا تب شہرت حاصل کی اور انڈسٹری میں اپنا مقام پیدا کیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام لوگوں کو جان لینا چاہیے کہ کسی کے والدین کی بے عزتی کی گئی تو ملک کے تمام بیٹے اور بیٹیاں آواز اٹھائیں گے۔

حمزہ فردوس کی جانب سے شروع کردہ ٹرینڈ #supportfirdousjamal سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر پورا دن ٹاپ ٹرینڈز میں شامل رہا۔ اس کے علاوہ #Mominaduraid  بھی ٹرینڈ کا حصہ بنی رہیں۔

مریم خالد

پاکستانی صحافی مریم خالد پاکستان ٹرائب کی ڈپٹی ایڈیٹر ہیں۔ سوشل میڈیا منیجمنٹ سے اپنی پروفیشنل لائف شروع کرنے والی مریم ہم نیوز کا حصہ بھی رہی ہیں۔ حالات حاضرہ اور لائف اسٹائل سمیت دیگر موضوعات پر لکھنے والی مریم ڈیجیٹل میڈیا استعمال ہی نہیں کرتیں، اسے جانتی بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *