پنڈی بوائے – قسط نمبر 2

پنڈی بوائے – قسط نمبر 2

بالآخراسکول میں ٹیسٹ دینے کا دِن بھی آگیا۔ میں پچھلی رات رَٹے لگاتے لگاتے غالبا سوگیا تھا، صبح صبح ہی امی کی آواز کانوں میں گونجنے لگی۔

”شایان! شایان اُٹھو!“ امی مُجھے ایسے ہلا رہی تھیں جیسے میں اللہ کو پیارا ہو گیا ہوں۔

اٹھو شایان! ٹیسٹ کے لیئے لیٹ ہو جاؤ گے“ میں، میرا بدن اور میرا بستر زلزلے کی مانند ہِل رہے تھے۔

”اُٹھ رہا ہوں ناں امی!، آپ جائیں“ میں نے اَدھ کُھلی آنکھوں سے جلے بھُنے انداز سے کہا۔
”شرافت سے اُٹھتے ہو یا لگاؤں دو کان کے نیچے؟“ اب امی غضب ناک آواز میں بولیں، اور یہ غضب ناک آواز عموماَ خطرے کی عَلامت ہوا کرتی تھی۔ تھپڑ کا سُن کر میں تو کیا میری آنے والی کئی سو نسلیں بھی فورا اُٹھ جاتیں۔

اُس لال شرٹ والے لڑکے کے تھپڑوں کی آوازیں ابھی تک میرے کان میں سُنائی دے رہی تھی۔”نہیں امی مُجھے کان کے نیچے تھپڑ مت لگانا، وہ بھی دو دو‘‘ میں خود کو قابو نہ کر سکا اور ڈر کے مارے ہاتھ جوڑے، آنکھیں میچے، امی سے مِنتیں کرنے لگا۔

یہ بھی پڑھیں: پنڈی بوائے – قسط نمبر 1

”یہ کیا کر رہے ہو شایان؟“ امی حیرانگی سے منہ پر ہاتھ رکھے مجھے دیکھ رہیں تھیں۔ ”تم نے کچھ زیادہ فلمیں دیکھنا شروع نہیں کر دیں؟

اب امی کو کیا بتاتا کہ میری زندگی خود ایک فلم بنی ہوئی تھی، اور فلم بھی کامیڈی، جس کا ٹائٹل تھا ”ہنسیں کھِلکھِلا کے“ ”آپ چلیں میں تیار ہو کر آتا ہوں“ میں نے تھپڑ سے بچنے کی کوشش کی۔

”ٹھیک ہے پانچ منٹ میں باہر آؤ“ امی پانچوں اُنگلیاں دِکھاتے ہوئے بولیں اور چلی گئیں، میں نالائقوں کی طرح پانچوں انگلیوں پر ریاضی کا کوئی سوال حل کرنے لگا، ”پانچوں انگلیوں سے مُٹھی بنتی ہے اور مُٹھی سے بنا مُکّہ، تو کیا مجھے اب مُکّہ پڑنے والا تھا؟ تو کیا اَب مجھے اپنے آپ کو تیار رکھنا ہو گا؟ “ یہ میں کیا اول فول بَک رہا ہوں؟

ایک لمحے کو میں نے سوچا، پھر خیال آیا کہ ویسے بھی فالتو اور اِدھر اُدھرکی چیزوں پر دھیان دینا میری شخصیت کا خاصا ہے۔ ہٹاؤ یار! میں تیار ہوا۔ کاہی رنگ کی شرٹ اور جینز پہنی۔ اپنے گُھنگریالے بالوں کو کنگھی کی، منہ پر تبت کریم لگائ۔ اس کی بُو بہت عجیب لگتی تھی لیکن امی کہتی ہیں کہ گھر میں بے شک چوڑے چمار بن کر گُھومو، کہیں جانے سے پہلے اچھی طرح تیار ہو کر جانا چاہییے۔

میں نے شیشے میں اپنی ہیرو جیسی شکل دیکھی، ایک بار نہیں کئی کئی بار دیکھی۔ اور کئی بار خدا کا شکر ادا کیا۔ مطلب کمال ہے بھئی! خدا کی قدرت جس نے مُجھ جیسا حسین وجمیل شاہکار تیار کیا! واہ بھئی واہ۔ ۔ ۔ ۔

اپنی تعریفوں کے پُل باندھ کر پھر میں نے ایک نظر سوتے ہوئے حَسن پر ڈالی، جو اپنے بستر پر لیٹا مزے سے خراٹے لے رہا تھا۔ ”کتنی مزیدار زندگی ہے اِسکی“ میں نے دل ہی دل میں کہا۔ پھر کمرے کی ساری بتیاں جلا کر نیچے چلا آیا تاکہ حسن کی نیند میں کوئی خلل پیدا نہ ہو۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ 5 سالہ حسن تھوڑی دیر بعد خوب چِلاتا ہوا اُٹھا تھا۔ وجہ آج تک معلوم نہ ہو سکی۔

ہم صرافہ بازار کی تنگ گلیوں سے ہوتے ہوئے، لال حویلی کو پار کرکے سڑک کی طرف آ گئے۔ گلی میں مجھے شیری اور اُس کا گینگ نظر تو نہ آیا، لیکن جب گیدڑ کی موت آئی ہو تو وہ شہر کی طرف ہی بھاگتا ہے۔

سڑک کے پاس ایک پان والے کی دکان پر مجھے شیری اور اُس کا گینگ پان کی گلوری منہ میں دباتے نظر آ ئے، شکر ہے انہوں نے مجھے نہیں دیکھا تھا۔ لیکن میں اِتنا بھی بونگا نہیں تھا جتنا نظر آتا تھا۔ میں اپنا منہ امی کے پیچھے چھپاتا ہوا پتلی گلی سے نکل لیا۔ امی نے رکشے والے پٹھان بھائی کو روکا اور خاصی دیر تک اُس سے کرائے پر بحث کی۔

امی کہتی تھی کہ 60 روپے دوں گی اور رکشہ والا کہتا تھا کہ 80 لوں گا۔ اِس 20 روپے کی جنگ کے پیچھے امی نے درجنوں منٹ ضائع کر دیے۔

یہ بھی پڑھیں: کینڈل ٹوٹ گئی – دوسری قسط

“افسر کی بیوی ہوتے ہوئے بھی امی کبھی کبھی 10 یا 20 روپوں اور عموماً 5 یا 2 روپوں کے پیچھے اتنا لڑتی کیوں ہیں؟” میں دل دل میں خوب کُڑہتا رہا۔

“کیسا بات کرتا ہے تم باجی؟ ہمیں وارا نہیں، ہم نہیں جاتا” رکشے والا آگے پیچھے دیکھنے لگاجیسے کسی اچھی سواری کا مُنتظر ہو۔

“لٹیرے! کہا ناں، 60 روپے دوں گی، سمجھ نہیں آ رہا؟” اَب امی غصے سے تِلملانے لگیں ۔ میرا ٹیسٹ یا ایڈمیشن، میرا تعلیمی مستقبل، میری نوکری، میری شادی، اور میری بیوی بچے، اُن سب سے ضروری اِس وقت امی کے لیے وہ 20 روپے تھے۔

“باجی! دیکھو تم ہم کو اب غصہ دِلا رہا ہے، ہم پورے 80 روپے سے ایک روپیہ کم نہیں لے گا” پٹھان بھائی بھی اب غصے میں آچکا تھا۔ یہ بھائی ہماری گلی میں ہی رہتا تھا۔

“نہیں! مُجھے بتاؤ، تم کیا ہمیں لندن یا امریکہ لے کر جا رہے ہو، جو اتنا ٹَھگ رہے ہو؟ پاس میں ہی تو ہےاسکول” امی بولیں۔

“امی چلیں ناں، دیر ہو رہی ہے” میں نے امی کو منانے کی نامراد سی کوشش کی۔ میں بیچ میں نہ آتا تو شاید امی رکشے والے کو 2 یا 3 دھر دیتیں۔

“تم چپ رہو شایان، تمہیں نہیں پتا، یہ لوگ دونوں ہاتھوں سے مسافروں کو لُوٹتے ہیں” امی کی آنکھوں میں اَب جَلال اُتر آیا تھا۔ اب وہ رکشے والے کی طرف متوجہ ہوئیں “اور بھائی تم میری بات سُنو! ہمیں 60 روپے میں لے کر جاتے ہو یا نہیں؟”

دیکھو میرا باجی، نہ ہماری نہ تمہاری، تم 70 روپے میں چَلتا ہے، تو چلو۔ ورنہ دوسرا رکشہ ڈھونڈ لو” خان صاحب بھی اب بحث سے اُکتا گیا تھا۔ وہ کبھی آس پاس لوگوں کو دیکھتا اور کبھی مجھے دیکھتا، اور میں تو بس بغلیں جھانک رہا تھا کہ کوئی تو مجھے کسی کونے کُھدرے میں چھپا لو۔ امی کی وجہ سے مجھے تھوڑی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑھ رہا تھا، آتے جاتے لوگ میری شکل دیکھ رہے تھے جیسے میں نے امی اور رکشے والے خان کی لڑائی کی شرط لگوائی ہو کہ کون جیتے گا۔

“ارے بھائی، پہلے ہی بتا دیتے کہ 70 لے لو گے” امی کا لہجہ فوراً دھیما ہو گیا تھا، کیا 10 روپے میں یہ طاقت تھی؟ “بلِا وجہ وقت ضائع کیا تم نے اور میرے بچے کو بھی دیر ہو گئی اسکول ٹیسٹ سے” میں اور رکشے والا آنکھیں پھاڑے امی کو دیکھ رہے تھے۔ میں کنٹرول نہ کرتا تو شاید میری تو آنکھیں ہی باہرنکل کر گر جاتیں۔ امی خود رکشے میں سوار ہوئیں پھر مُجھے چڑھایا۔

“چلو بھائی، بہت ہی بحث کرتے ہو تم قسم سے، بہت وقت ضائع کر دیا ہے” رکشے والے نے ضبط سے کام لیا لیکن سامنےوالے شیشے میں میری طرف گُھوری مار کر دیکھا، اورمیں آنکھیں چرانے کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتا تھا؟

ناول کا باقی حصہ اگلی قسط میں۔۔۔۔۔۔

ایمن سلیم

ایمن سلیم پاکستان ٹرائب کی ڈپٹی ایڈیٹر ہیں۔ زیر تحریر ناول کے ساتھ اردو ادب کا اچھا ذوق رکھنے والی ایمن بہت عمدہ ویژول آرٹسٹ بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *