اگر فیس بک ایک ملک ہوتا تو کیا ہوتا؟

اگر فیس بک ایک ملک ہوتا تو کیا ہوتا؟

 اگر فیس بک ایک ملک ہوتا تو دنیا کا سب سے ذیادہ آبادی والا ملک چین یا انڈیا نہیں بلکہ فیس بک ہوتا۔ کیا آپ سوچ رہے ہیں کہ مجھے لکھنے یا سمجھنے میں کوئی غلطی ہو گئی ہے؟ جی نہیں آج سے فیس بک بھی ایک ملک ہے اور آپ بھی میری طرح اس ملک کے باسی ہیں۔

چین کی آبادی ایک ارب 43 کروڑ ہے جبکہ اس وقت چینی باشندے دنیا کے مختلف حصوں میں رہائش پذیر ہیں۔ آسان الفاظ میں کہا جائے تو دنیا کی کل آبادی کا 18 فیصد حصہ چینیوں پر مشتمل ہے۔ اسی لیے چین کو آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک کہا جاتا ہے۔

تاہم آپ شاید بھول رہے ہیں کہ فیس بک کی آبادی دو ارب 83 کروڑ ہے۔ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے افراد میں سے 56 فیصد اس کا استعمال کرتے ہیں۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ اس میں فیس بک کے میسینجر، انسٹاگرام اور واٹس ایپ استعمال کرنے والے تین ارب تین کروڑ کی اضافی نفری کا شمار نہیں کیا گیا۔

پاکستان ٹرائب کا یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں

دنیا کا سب سے بڑا ملک فیس بک ایک تیزی سے بدلتے مارکیٹنگ پلیٹ فارم اور مواصلاتی نظام کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا مقام ہے جہاں خرید و فروخت میں دلچسپی رکھنے والے افراد روزانہ کی بنیاد پر اپنے گاہکوں کے نظریات اور خیالات سے خود کو مکمل طور پر باخبر رکھتے ہیں۔ تاکہ وہ آئندہ آنے والے دنوں میں اپنے سامعین سے رابطہ قائم رکھنے کے حوالے سے بہتر فیصلے کرسکیں۔

مارک زکربرگ نے 2004 میں اپنے ہارورڈ یونیورسٹی کے ساتھیوں اور چند دوستوں کے ساتھ مل کر فیس بک کی بنیاد رکھی۔ ان میں ایدوادو سیورین، اینڈریو میکولم، ڈسٹن موسکو وٹز اور کرس ہیوز شامل تھے۔ مارک زکربرگ کے کل اثاثوں کی مالیت 55 ارب ڈالر ہے۔ 2007 میں انہیں 23 سال کی عمر میں کم عمر ترین سیلف میڈ ارب پتی ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ 2018 میں وہ واحد پچاس سال سے کم عمر شخص تھے جنہیں فوربس کی دس امیر ترین شخصیات کی فہرست میں شامل کیا گیا۔

مزید پڑھیں: پوری دنیا کی سیر کرنے والی کم عمر ترین لڑکی نے پاکستان کو پسندیدہ ملک قرار دے دیا

ملکی قوانین کے مطابق 13 سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد ہر فرد باآسانی خود کو فیس بک کے باسی کے طور پر رجسٹر کرا سکتا ہے۔ فروری 2012 میں جب کمپنی کو بازار حصص میں آنے کے لیے ابتدائی پبلک آفرنگ (آئی پی او) منعقد کی گئی تو کمپنی کی مالیت 104 ارب ڈالر متعین کی گئی، یہ فہرست میں شامل کی جانے والی کس بھی کمپنی کی سب سے بڑی آئی پی او تھی۔

خود کو بطور شہری فیس بک پر رجسٹر کرانے کے بعد وہاں ایک پروفائل بنائی جاتی ہے جس پر ذاتی معلومات فراہم کی جاتی ہے۔ وہاں آپ تحریر، تصاویر اور ویڈیو سمیت کسی بھی میڈیا کو پوسٹ کرسکتے ہیں جسے آپ کی اجازت سے دوستوں یا عوام سے شیئر کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ عام زندگی کے برعکس ناپسندیدہ لوگوں کو خود سے دور رکھنے کی بھی سہولت میسر کی جاتی ہے۔

مزید پڑھیں: جلد 20 کروڑ نوکریوں پر روبوٹ قابض ہو جائیں گے

دنیا کے دیگر ممالک کی طرح فیس بک کے بھی شہر ہیں جن میں سے کچھ پر اس نے قبضہ کیا ہے جیسے کہ انسٹاگرام، مسینجر، واٹس ایپ اور اوکیولس اور کچھ شہر خود سے تعمیر کیے جیسے فیس بک مسینجر، فیس بک واچ اور فیس بک پورٹل۔ دنیا کے کونے کونے سے کاروباری حضرات اپنا کاروبار چمکانے کے لیے اسی ملک سے رابطہ کرتے ہیں۔ ملک کی آمدنی کا بیشتر حصہ دنیا بھر میں اثر و رسوخ رکھنے والے ان اشتہارات سے اکٹھا کیا جاتا ہے۔

 دنیا میں شاید ہی کوئی ملک فیس بک جتنا منافع بخش کاروبار کرتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ کاروبار پر آنے والا خرچ نہ ہونے کے برابر ہے۔ 2017 میں سال کے دوران اس کا منافع 47 فیصد تک جا پہنچا تھا۔ ملک کے بڑے اور اہم ترین شہروں جیسے کہ واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی بدولت فیس بک کو دنیا میں ایک سپر پاور کی حیثیت حاصل ہے جس کے پانچ ارب 43 کروڑ باسیوں سے کاروبار میں جیتنا ناممکن ہے۔

دیگر ممالک کے برعکس اس ملک میں معاشرتی رکاوٹیں دور کی جاتی ہیں اور ذور دیا جاتا ہے کہ تمام رنگ، نسل اور مذہب کے افراد کو برابر مواقع فراہم کیے جائیں۔ نیلے جھنڈوں سے سجے پرامن ملک کے دروازے سب کے لیے کھلے رہتے ہیں، اقرباپروری تو کیا کسی سے امتیازی سلوک بھی نہیں کیا جاتا۔ مگر پھر بھی فیس بک کے ایمازون، ایپل اور گوگل نامی حریف اس سے خار کھاتے ہیں۔

کیا آپ جانتے ہیں؟ سردیوں میں ہمارا وزن کیوں بڑھ جاتا ہے؟

آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے ملک کو دنیا کے تمام ممالک کی مکمل حمایت بھی حاصل ہے۔ فیس بک نے دنیا بھر میں رابطہ قائم کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے اس لیے اسے ایک روشن ریاست کے طور پر جانا جاتا ہے۔  دنیا کے عظیم ترین اور انتہائی اثرورسوخ رکھنے والے ملک کے صدر مارک زکربرگ کو ایک بہترین سربراہ کی حیثیت حاصل ہے۔ جو دنیا کو اپنے نیلے جھنڈے تلے ایک کرنے کا مشن رکھتے ہیں۔

مریم خالد

پاکستانی صحافی مریم خالد پاکستان ٹرائب کی ڈپٹی ایڈیٹر ہیں۔ سوشل میڈیا منیجمنٹ سے اپنی پروفیشنل لائف شروع کرنے والی مریم ہم نیوز کا حصہ بھی رہی ہیں۔ حالات حاضرہ اور لائف اسٹائل سمیت دیگر موضوعات پر لکھنے والی مریم ڈیجیٹل میڈیا استعمال ہی نہیں کرتیں، اسے جانتی بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *