پنڈی بوائے – قسط نمبر 1

پنڈی بوائے – قسط نمبر 1

“تم ایک سخت پنڈی بوائے ہو”

مُجھے آج بھی وہ عظیم دِن یاد ہے جب شیری نے مُجھے اِس لقب کا حقیقی حقدار قرار دیا تھا۔ خوشی سے میرا سینہ چوڑا ہو گیا تھا اور کیوں نہ ہوتا یہ میری 12 سال کی اَنتھک محنت کا نتیجہ تھا۔ ایک وہ وقت تھا جب پورے محلے میں مجھے ہر شخص “بونگا” کہہ کر پکارتا تھا اور آج میں ایک با فخر ” پنڈی بوائے” تھا۔یہ لقب حاصل کرنے کے لیۓ کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں یہ مجھ سے بہتر کون جانتا ہو گا۔ پنڈی بوائے بننے کا یہ مقشت بھرا سفر تب ہی شروع ہو گیا تھا جب 15 سال پہلے میرے والد گرامی سَن 2000 میں لاہور سے بَمعہ اہل وعیال راولپنڈی سکونت پذیر ہوئے تھے۔ ورنہ 15 سال پہلے میں بھی ایک پَکا لاہوری ہی تھا جو اکثر “لڑکی” کو “لکڑی” ، “لاہور” کو “لہوڑ” اور “یار” کو “یاڑ” کہتا تھا۔

اس وقت میں محض 7 سال 2 مہینے اور 3 دن کا معصوم اور شریف النفس قسم کا بچہ تھا۔ اب آپ سے کیا چھپانا؟ سچ تو یہ ہے کہ اس وقت میں ایک “بونگا” تھا اور سب مجھے اسی نام سے بلاتے تھے۔ نظریں نیچی کر کے چلنا اور بات بات میں “ہیں! قسم کھا!” جیسے الفاظ اپنی زبان گرامی سے نکالنا میری خاصیت تھی۔

یوں تو میری ایک بہن اور ایک بھائی تھا لیکن راولپنڈی میں ان 12 سالوں میں کئی لاکھ بھائی بندیاں کی ہیں۔ کبھی کبھی تو مجھے اپنے سگے بھائی کی بھی شکل یاد نہیں رہتی۔ لیکن بہن بندی ایک ہی کی ہے۔

وہ مارچ کی ایک شام تھی جب میں نیلا کُرتا پہنے باہر نکلا۔ اب اپنی تعاریف کیا کرنا لیکن سچ تو یہ ہے کہ میرے گھنگریالے بال، گندمی رنگ اور بادامی آنکھوں پر جچتے خوب تھے۔ اور جب وہ گھنگریالے بال ہوا میں اڑتے تو، واللہ! منظر ہی کچھ اور ہوتا تھا۔ اُس دوپہر میں کمیٹی چوک کی ایک تنگ گلی میں کنارے کنارے سائیکل چلا رہا تھا۔ کیونکہ تنگ گلی میں جہاں بھی سائیکل چلاؤ، وہ کنارہ ہی کہلاتا ہے۔ اور تیز چلانے کا مطلب تھا کہ گرنے سےسائیکل تو بَھلے سائیڈ پر گر جائے گی لیکن میں گلی کے کنارے بنی وسیع و عریض نالی میں پوری طرح سَما جاؤں گا۔ میں اُس وقت اپنے گھر کے قریب ہی سائیکل چلا رہا تھا اور میرے گھر کا دروازہ آگے اور پیچھے والی دونوں گلیوں میں کُھلتا تھا۔ گلیوں میں گھر اس طرح بنے تھے جیسے گلی میں جہاں جگہ ملی، گھر بنانے والے نے وہیں گھر کی پہلی اینٹ گاڑھ دی ہو۔ اس وقت میں خود کو شاید کوئی شاہ رخ خان ہی سمجھ رہا تھا کہ اچانک کسی سے میری ٹکر ہوئی اور میں منہ کے بل نیچے گر گیا۔ اس وقت “تھوڈی وج گئی تھی میری”۔ اوہ معاف کیجیے گا! وہ میں پنڈی بوائے ہوں ناں تو میری زبان پھسل گئی۔ ہاں تو میں بتا رہا تھا کہ سائیکل کی ٹکر دوسری سائیکل سے ہو ئی اور دھڑام کر کے وہ اور میں نیچے گر پڑے۔ میری نازک ٹانگوں اور ہاتھوں پر خراش محسوس ہو رہی تھی۔

“یہ کیا کر دیا تم نے؟ اندھے کے بچے!”

میرے ہم عمر لال ٹی شرٹ میں ملبوس قدرے لمبا لڑکا میرا گریبان پکڑ کر بولا، اور مجھے زمین سے اٹھنے بھی نہ دیا اور دو تھپڑ رسید کر ڈالے، پھر سائیکل اٹھائی اور چل دیا۔ دو عدد تھپڑ کھا کر تو میں سَکتے میں ہی آ گیا اور ایک بے جان جسم کی طرح زمین پر پڑا آنکھیں پھاڑے اُس جاتے ہوئے لڑکے کو دیکھنے لگا۔ آنکھیں بھیگ سی گئی تھیں، اور دل میں ٹیس سی اُٹھی تھی۔

میں ہاتھوں کو رگڑ تا اور روتا ہوا اُٹھا تو لڑکوں کا ایک ٹولا مجھے روتا دیکھ کر دانت نکال رہا تھا۔ اس ٹولےمیں تین لڑکے میرے ہم عمر اور ایک ذرا بڑا تھا۔

“سُن کاکے! تو کبھی ایک کامیاب پنڈی بوائے نہیں بن سکتا” اُن میں سب سے بڑے نے مغرورانہ انداز سے کہا۔ اُس کا قد لمبا تھا، منہ تھوڑا چپٹا، لمبی ناک اور کالی آنکھیں اور بھنویں چڑھی ہوئی تھیں۔ اور جس طرح وہ کھڑا تھا، کسی خوفناک فلم کا جَلاد لگ رہا تھا۔

میں نے ہمت باندھی اور آنسو صاف کیے۔

یہ بھی پڑھیں:کینڈل ٹوٹ گئی – دوسری قسط

“دیکھو دیکھو کیسے لڑکیوں کی طرح رو رہا ہے!” دی لائن کنگ کے شیر کی تصویر والی شرٹ اور نیلی پتلون میں ملبوس ایک لڑکا بولا۔ وہ میری ہی جسامت اور قد کا تھا۔چپٹی ناک، باریک ہونٹ اور کالی آنکھیں۔

“او کاکے مرد رویا نہیں کرتے!” سفید شلوار قمیص والے لڑکا بولا۔ اس کی آنکھیں نیلی تھیں اور ناک پتلی۔

اُس کا یہ جملہ میرے دماغ کہ کہکشاؤں میں گھومنے کیا، ٹکرانے لگا۔ کیونکہ مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ مرد اس نے مجھے بولا ہے یا پھر خود کو۔ کیونکہ وہ بھی تقریبا آٹھ سال کا تھا اور میں بھی چھوٹا تھا۔ کیا وہ خود کو مرد سمجھتا تھا؟ کیا اس نے یہ بات سُن نہیں رکھی تھی کہ مرد کے بھی جذبات ہوتے ہیں، اُسے بھی درد ہوتا ہے۔ مرد کو آخر کون سمجھے گا؟

“مرد رویا نہیں کرتے” اُس دن سے یہ جملہ میرے دماغ میں ایسا گُھس کر بیٹھ گیا کہ رونا آیا بھی تو آنسو روک لیے۔ چاہے میری آنکھوں نے مُجھے لاکھ لَان تَان کی ہو، چاہے غُسل خانے میں کئی کئی گھنٹے، نَلکا کھو لے رویا ہوں لیکن کسی کے سامنے صبر کا پیمانہ لبریز نہیں ہونے دیا۔

ارے یہ تو وہی نکما ہے ناں! جو بوائز ایجوکیشن اسکول میں داخلہ لینے والا ہے؟ ” تیسرے لڑکے نے کہا جو کہ شکل سے اچھے گھرانے کا لگ رہا تھا۔

“ہاں یہ تو وہی ہے جو “لہوڑ” (لاہور) سے آیا ہے” چوتھے لڑکے نے کہا جو کہ ذرا بھاری بھرکم جسامت کا تھا اور نظر کا چشمہ بھی خوب موٹا تازہ لگا رکھا تھا۔

“دیکھ کاکے! ہمارے اسکول میں آ جا، فکر نہ فاقا، عیش کر کاکا۔ ہاہاہاہا!” سب سے بڑا لڑکا جسے عموماً سب شیری کہہ رہے تھے قہقہ لگا کر بولا۔

اتنے سارے لڑکوں کے وسط میں، میں ایک “جوکر”بنا کھڑا تھا جسے دیکھ کر سب قہقے لگا رہے تھے۔ انہوں نے میرا خُوب مزاق اڑایا اور میں بیوقوفوں کے سردار کی مانند کھڑا سُنتا اور روتا رہا، اور کر بھی کیا سکتا تھا؟ وہ بہت سارے تھے اور میں اکیلا۔ وہ چاروں لڑکے میرا رستہ روکے کھڑے تھے۔

“دیکھو دیکھو “بونگا” کیسے رو رہا ہے!!”

لمبے لڑکے نے بولا اور پھر سب نے اجتماعی طور پر قہقہہ لگایا اور خوب مزاق اُڑایا۔ میں نے عزت بچا کر بھاگنے میں ہی عافیت جانی، اور سائیکل چھوڑ کر لڑکوں میں سے راستہ بناتا گھر کی جانب بھاگا۔

“بونگا” یہی کہا تھا ناں انہوں نے مجھے؟ میں بھاری بھاری قدموں کے ساتھ گھر میں داخل ہوا۔ کانوں میں ٹرین کی سیٹی بج رہی تھی۔ میں امی کو ڈھونڈتا ہوا گھر میں داخل ہوا۔

مکمل کہانی پڑھیں: رب نو خوش کر، بندے نئیں خوش ہوندے

“امی! امی! کہاں ہیں آپ؟”

میری آنکھیں امی کو بے چینی سے تلاش کر رہی تھیں۔

“امی! امی!”
“کچن میں ہوں،یہاں آجاؤ” امی کی مدھم سی آواز میرے کانوں میں پڑی۔ میں امی کی طرف بھاگا، کچن سے پیچھے رکا، آنسو صاف کیے، کچن میں داخل ہوا اور بھرے بھرے دل سے میں نے امی سے پوچھا “امی کیا میں”بونگا”ہوں؟

“بونگا! یہ کس نے کہا تمہیں؟” امی نے روٹی چولہے سے اتار کر دستر خوان میں رکھی اور حیرت سے مجھے دیکھنے لگیں۔

“بتائیں ناں!میں بونگا ہوں یا نہیں؟” میں نے تشنگی کے عالم میں دوبارہ دریافت کیا۔

ارےنہیں! میرا بیٹا تو بہت سمجھ دار ہے” امی نے مسکرا کر بولا۔

“یہ الگ بات ہے کہ کبھی کبھار بونگیاں کر جاتے ہو، لیکن بونگے تو تم بالکل بھی نہیں ہو” امی نے روٹی کا پیڑا بنایا اور خُشکا لگانے لگیں۔

“پھر اُن لڑکوں نے مجھے بونگا کیوں بولا؟” میں نے ناک صاف کرتے ہوئے کہا۔

“کس نے کہا؟” امی نے پیڑا چھوڑ کر میری جانب دیکھا۔ اب وہ پریشان نظر آ رہی تھیں۔

ایک پل کو سوچا کہ امی کو بتا دوں، پھر سوچا کہ مار بھی میں نے کھائی، مزاق بھی میں ہی اپنا بنوا کر آیا ہوں۔ امی کو بتا دیا تو بے عزتی تو میری ہی ہو گی۔ڈَرپوک بھی میں ہی کہلاؤں گا۔ اور شاید امی میری ماں ہونے پر شرمندہ شرمندہ محسوس بھی کریں۔

“کسی نے نہیں، امی جی!” میں نے بات ٹالتے ہوئے کہا۔

“کیا چھپا رہے ہو شایان؟” امی میری آنکھوں میں کچھ پڑھنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ میں نے فوراً آنکھیں نیچے کر لیں۔ “کچھ بھی نہیں، امی جی!

اچھا چھوڑو! جاؤ اور جا کر ایڈمیشن ٹیسٹ کی تیاری کرو، دیکھو اس اسکول میں ایڈمیشن لینا بہت ضروری ہے تمہارے لی،۔ سمجھے!” امی اب بِیلن سے روٹی بیلنے لگی تھیں۔

” جی امی!” میں ذرا کھسیانا ہو کر وہاں سے باہر نکل گیا۔

یہاں میری جان پر بنی تھی اور وہاں امی کو ٹیسٹ کی پڑی تھی؟ یہ مائیں بھی ناں، کبھی کبھی کتنی عجیب ہوتی ہیں۔ یہ سوچ کر میں کچن سے ہوتا ہوا،برآمدہ پار کرتے ہوئے، اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔

بر آمدے میں امی نے خوب پودے لگا رکھے تھے۔ یہاں ہمیں قیام پذیر ہوئے کچھ ہی دن ہوئے تھے اوربرآمدہ پھولوں سے خوب مہک رہا تھا۔ امی کو پودوں اور ہریالی کا بہت شوق تھا۔ لاہور میں ہم جس گھر میں سکونت پزیر تھے وہ کافی بڑا تھا لیکن راولپنڈی کا یہ گھر اتنا بڑا نہیں تھا۔ بابا کی پوسٹنگ راولپنڈی میں ہو گئی تھی۔ اس گھر میں چھوٹا برآمدہ جس میں سفید ستون اور چھت پر کچھ لکڑی کا کام ہوا تھا، خوبصورت لگتے تھے۔ جب کہ صحن قدرے بڑا تھا۔ کمروں کی تعداد تین تھی جس میں سب سے چھوٹا کمرہ میرا اور زبیر کا تھا۔ لیکن ہم نے اسے خوب سجا رکھا تھا۔ عالیہ امی بابا کے ساتھ سوتی تھی۔ اس علاقے میں بابا کا بچپن کا کچھ عرصہ گزرا تھا، اِسی لیے اُنہیں اِس علاقے سے کافی لگاؤ تھا۔ تبھی اس کُھلے علاقے سے اِن تنگ گلیوں میں آ کر بسیرا کر بیٹھے۔

امی کہتی ہیں”جو کہتا ہے وہی ہوتا ہے”۔ یہ نعرہ دل میں بار بار دُھراتا میں اپنے کمرے میں آگیا۔ اچھے اور سلیقہ شعار بچوں کی طرح میں نے کتابیں نکالیں اور نالائقوں کی طرح رَٹے لگانا شروع کر دیے۔

“میرا بہترین دوست”

میرا بہترین دوست اسلم ہے، اسلم پہلی جماعت میں پڑھتا ہے۔ اسلم کے پاس کالی بلی ہے۔ اسلم ایک اچھا لکڑا (لڑکا) ہے۔

اسلم! آخر یہ اسلم تھا کون؟ میرے باپ دادا تک یہ نہ جانتے تھے۔ اسلم کالی بلی لیے پہلی جماعت کی کتاب میں ہی کہیں کَھو گیا تھا اور مُجھے پنڈی بوائز نے گھیر لیا۔

ناول کا باقی حصہ اگلی قسط میں۔۔۔۔۔۔

ایمن سلیم

ایمن سلیم پاکستان ٹرائب کی ڈپٹی ایڈیٹر ہیں۔ زیر تحریر ناول کے ساتھ اردو ادب کا اچھا ذوق رکھنے والی ایمن بہت عمدہ ویژول آرٹسٹ بھی ہیں۔

One thought on “پنڈی بوائے – قسط نمبر 1

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *