جب ہم چھوٹے تھے تو ہمیں لگتا تھا کہ ۔ ۔ ۔ ۔

جب ہم چھوٹے تھے تو ہمیں لگتا تھا کہ ۔ ۔ ۔ ۔

بچپن کے دن ہر کسی کو ہی اچھے لگتے ہیں، بیٹھے بٹھائے یاد آجائیں تو چہرے پر خود بخود مسکراہٹ سی آجاتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ بچپن کی غلطیاں، شرارتیں اور کوتاہیاں وہ خوبصورت یادیں ہیں جنہیں ہم کسی بھی قیمت پر کھونا نہیں چاہتے۔

ایسی ہی بچپن کی یادوں سے جڑی وہ باتیں جو ہم جانے انجانے میں سوچتے تھے یا کہ جاتے تھے۔ وہ باتیں جو آج ہم کبھی سوچیں، کسی کو بتائیں یا کوئی ہمیں یاد دلا دے تو ہنس ہنس کر برا حال ہو جاتا ہے۔ ایسی ہی باتوں میں کچھ الفاظ بھی شامل ہوتے ہیں جن کے متعلق لگتا ہے کہ ان کا صحیح مفہوم سمجھنے میں ہم نے بہت دیر کر دی۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایسے ہی ایک ٹرینڈ میں صارفین نے اپنے ماضی کے قصے بیان کیے۔ وہ سب الفاظ اور جملے لکھے جس کی انہیں بہت دیر سے سمجھ آئی۔ چلیں دوسروں کے قصے پڑھ کر اپنے ماضی کی سیر کرتے ہیں۔ اگر آپ بھی اپنے بچپن کی ایسی ہی کسی غلط فہمی سے واقف ہیں تو کمنٹس میں شیئر کریں یا پھر ہمارے فیس بک صفحے اور ٹوئٹر اکاؤنٹ پر #PakistanTribe کے ہیش ٹیگ کے ساتھ شیئر کریں۔

۔۔ پروپیگینڈہ

ضڑار کھوڑو کے مطابق مجھے لگتا تھا کہ پروپیگنڈہ اصل میں جانور ہے جس کا نام گینڈا ہے اور وہ تھری پیس سوٹ پہن کر ” پروپر ڈریسنگ” کرتا ہے۔

پاکستان ٹرائب کا یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں

۔۔ گڈیاں

اگلے روز بسنت تھی میرے کزن نے مجھ سے کہا کہ “کل گڈیاں اڑیں گی”۔ میں ساری رات اس خوف سے سو نہیں پائی کہ آسماں پر “بڈھیاں اڑتے ہوئے کیسے لگیں گی۔

۔۔ قائد اعظم

میں چھوٹا تھا تو مجھے لگتا تھا کہ قائد اعظم ایک مزدور تھے جنہوں نے دن رات محنت کرکے اکیلے پاکستان بنایا تھا۔

۔۔ 1965 کی جنگ

میرے دادا ابو کہتے تھے کہ ہم نے 65 کی جنگ میں دشمنوں کے جہاز گرائے تھے اور مجھے لگتا تھا کہ وہ شاید چھت پر چڑھ کر کسی ڈنڈے کی مدد سے جہاز گراتے تھے۔

مزید پڑھیں: پوری دنیا کی سیر کرنے والی کم عمر ترین لڑکی نے پاکستان کو پسندیدہ ملک قرار دے دیا

۔۔ عملی جامہ

میرے نزدیک عملی جامہ وہ پاجامہ تھا جسے کوئی بہت اہم کام کرنے سے پہلے پہنا جاتا تھا۔

۔۔ ٹولٹ

سڑکوں پر بڑے بڑے سائن بورڈز پر ٹولٹ لکھا دیکھ کر مجھے لگتا تھا کہ یہ قریبی ٹوائلٹ کے نمبر ہیں جنہیں ایمرجنسی میں استعمال کیا جاتا ہے۔ تو میں فٹا فٹ نمبر یاد کرکے ابا کے فون میں محفوظ کرلیتا تھا۔

۔۔ آپ جیسا کوئی

بچپن میں گانا سنتے تھے کہ “آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے تو بات بن جائے” تو ہمیشہ لگتا تھا کہ یہ “باپ بن جائے” کہتے ہیں۔ تب ہم بڑوں سے پوچھ بھی نہیں پاتے تھے کہ یہ باپ کیوں بن جاتا ہے۔

۔۔ عینی شاہد

یہ کوئی 2007 کی بات ہے ایک نئے انگریزی چینل کے نیوز روم میں ہم سب بیٹھے تھے۔ شام کا وقت تھا کہ ایک لڑکی نے ڈیسک سے اونچی آواز میں کہا کہ یہ عینی شاہد کتنی قابل رپورٹر ہے۔ ہر موقع پر ٹائم سے پہنچ جاتی ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں؟ سردیوں میں ہمارا وزن کیوں بڑھ جاتا ہے؟

۔۔ انشورنس

مجھے لگتا تھا کہ اگر بندہ لائف انشورنس کرا لے تو وہ کبھی نہیں مرتا۔

۔۔ کاروبار

میں سوچتا تھا کہ جو لوگ کاروبار کرتے ہیں وہ اصل میں کاروں کا بزنس کرتے ہیں۔ میرے ابا ائیر فورس میں تھے تو میں کہتا تھا کہ وہ جہازوبار کرتے ہیں۔

۔۔ ہیروئین

اخبار میں روز خبر آتی تھی کہ پولیس نے ہیروئین پکڑ لی تو میں سوچتا تھا کہ یہ پولیس والے تمام ایکٹریس کو پکڑ کر کیوں لے جاتے ہیں۔

یقینا اس وقت آپ کے چہرے پر بھی ایک مسکراہٹ ہوگی اور آنکھوں میں کچھ بھولی بسری یادیں۔ شاید اسی لیے کہتے ہیں کہ بچے من کے سچے ہوتے ہیں۔ تو آپ کے بچپن کی کہانی کیا ہے؟

مریم خالد

پاکستانی صحافی مریم خالد پاکستان ٹرائب کی ڈپٹی ایڈیٹر ہیں۔ سوشل میڈیا منیجمنٹ سے اپنی پروفیشنل لائف شروع کرنے والی مریم ہم نیوز کا حصہ بھی رہی ہیں۔ حالات حاضرہ اور لائف اسٹائل سمیت دیگر موضوعات پر لکھنے والی مریم ڈیجیٹل میڈیا استعمال ہی نہیں کرتیں، اسے جانتی بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *