یورپ کے سات بہترین شہر کون سے ہیں؟

یورپ کے سات بہترین شہر کون سے ہیں؟

سیاحت سے ہر دوسرے شخص کو لگاؤ ہوتا ہے مگر مصروفیات اور اخراجات ہمیشہ اڑے جاتے ہیں۔ مگر سیر و تفریح کے شوقین افراد کی فہرست یورپ کے ذکر کے بغیر ادھوری رہتی ہے۔ کوئی یورپ جارہا ہے تو کوئی جانے کے منصوبے بناتا رہتا ہے اور جو وہاں سے ایک بار گھوم آئے تو بس وہیں کا ہوکر رہ جاتا ہے۔

بچپن میں اکثر یہ گمان ہوتا تھا کہ یورپ اور امریکہ بھی پاکستان اور انڈیا جیسے ممالک ہیں۔ تاہم جیسے جیسے بڑے ہوتے گئے تو یہ حقیقیت کھلی کہ یہ دونوں تو کئی ممالک پر مشتمل براعظم ہیں بالکل ایسے ہی جیسے براعظم ایشیا۔ یورپ کل پچاس خود مختار ریاستوں پر مشتمل ہے جس میں سینکڑوں شہر اور قصبے آباد ہیں۔

سیاحوں کے لیے دنیا کے کسی بھی ایک مقام کو پسندیدہ ترین قرار دینا مشکل کام ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں عالمی میگزین کونڈی ناسٹ کی جانب سے شائع کردہ بہترین مقامات کی سالانہ فہرست نئے سیاحوں کو مدد فراہم کرتی ہے۔ 25 قومی ایوارڈ جیتنے والے اس امریکی میگزین نے یورپ کے بہترین شہروں کی ایک فہرست بھی مرتب کی ہے۔ ایک نظر ہم بھی ڈالتے ہیں۔

۔۔ ویانا، آسٹریا

آسٹریا کا دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر ویانا ثقافتی رنگوں سے سجا ہوا ایک شہر ہے۔ ویانا کے 19 لاکھ آبادی پر مشتمل شہر کے مرکز کو 2001 میں عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا گیا تھا۔ یہ ایک ایسا شہر ہے جہاں آپ دن میں چار میوزیم کی سیر کرسکتے ہیں مگر پھر بھی دیکھنے کو بہت کچھ باقی رہے گا۔ ویانا کو دنیا بھر میں موسیقی کا شہر کہا جاتا ہے۔ تاہم یہ معروف نفسیات دان سگمنڈ فرائیڈ کی وجہ سے “خوابوں کو شہر” بھی کہلایا جاتا ہے۔

۔۔ سالزبرگ، آسٹریا

آسٹریا ہی کے پانچویں بڑے شہر سالز برگ کا فہرست میں دوسرا نمبر ہے۔ سالزبرگ کا مرکز 27 چرچوں پر مشتمل ہے جسے 1996 میں عالمی ورثہ کا درجہ دیا گیا تھا۔ نوکیا موبائل میں موجود موزارٹ ٹیون سے آپ سب ہی واقف ہوں گے مگر بہت کم لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ اس دھن کے بانی اور معروقف موسیقار موزارٹ کا تعلق بھی سالز برگ سے تھا۔ کہا جاتا ہے کہ سال میں کئی ایسے مواقع آتے ہیں جب شہر میں سیاحوں کی تعداد مقامی شہریوں سے زیادہ ہوجاتی ہے۔

۔۔ ہمبرگ، جرمنی

یورپ کی تیسری بڑی بندرگاہ اور جرمنی کا دوسرا بڑا شہر ہمبرگ بھی خوبصورتی میں کسی سے کم نہیں ہے۔ ایمسٹرڈیم اور وینس کے پانیوں سے عشق کرنے والوں کو بتاتے چلیں کہ ان دونوں شہروں کی کل نہروں کی تعداد بھی ہمبرگ سے کم ہے۔ شہر میں 40 تھیٹر، 60 میوزیم اور سو کے قریب موسیقی کلب ہیں۔ لیکن کبھی ہمبرگ جانے کا اتفاق ہو تو ایک بلین کی لاگت سے بننے والا، 26 منزلوں پر مشتمل 361 فٹ لمبا البفیل ہارمونی کانسرٹ ہال دیکھنا مت بھولیے گا۔

۔۔ لیوزیرن، سویٹزرلینڈ

ڈھکے ہوئے پل، طویل مناروں سے سجی عمارتیں، اور رنگوں کا شہر لیوزیرن سویٹزرلینڈ کی تصویری کہانی ہے۔ مشہور زمانہ چیپل برج وسطی سویٹزرلینڈ کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے قصبے لیوزیرن میں واقع ہے۔ 1333 میں لکڑی سے تعمیر کردہ ساڑھے چھ سو فٹ لمبا چیپل برج یورپ کے قدیم ترین پلوں میں سے ایک ہے۔ اس کے علاوہ سوئیٹزرلینڈ کے معروف پہاڑی سلسلے الپائن کا آخری حصہ بھی یہاں سے دکھائی دیتا ہے۔

۔۔ بازل، سویٹزرلینڈ

سویٹزرلینڈ، فرانس اور جرمنی کی مشترکہ سرحد پر واقع بازل شہر دو لاکھ کی آبادی پر مشتمل ہے۔ یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ شہر بیک وقت تجارتی اور ثقافتی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں ایک طرف کیمیائی مادوں اور ادویات سازی کی جدید صنعتیں ہیں اور دوسری جانب دنیا کے مشہور ترین تھیٹر اور میوزیم ہیں۔ اس کے علاوہ چھ مرتبہ کے آسکر انعام یافہ  فلمساز آرتھر کوہن اور ٹینس اسٹار راجر فیڈرر کا تعلق بھی اسی شہر سے ہے۔

۔۔ کالون، جرمنی

جرمنی کے شہر برلن اور میونخ کی وجہ سے یہ شہر سیاحوں کی توجہ کا مرکز نہیں بن پاتا مگر 2000 سالہ قدیم اس شہر کا اپنا ایک انداز ہے۔ کولون یورپ میں ایک آرٹ مرکز کی حیثیت رکھتا ہے جس میں 30 سے زائد عجائب گھر اور سینکڑوں آرٹ گیلریاں قائم ہیں۔ شہر میں 70 کلب اور لاتعداد بار اور ریسٹورنٹ موجود ہیں۔ کالون کو جرمنی کا “خفیہ گالف مرکز” بھی کہا جاتا ہے۔

۔۔ نورمبرگ، جرمنی

یوں تو جرمنی کے تمام شہر ہی کسی تصویر کی مانند دلکش ہیں مگر نورمبرگ شہر میں قدیم اور جدید کا حسین امتزاج اپنی مثال آپ ہے۔ 500 سال قبل یہ بہترین شہروں میں شمار ہوتا تھا تاہم 1945 کی عالمی جنگ میں یہ شہر مکمل طور ہر تباہ ہوگیا۔ جنگ عظیم دوم کے بعد اسے دوبارہ تعمیر کیا گیا اور تب سے اسے جرنی کے تمام شہروں میں سب سے زیادہ جرمن ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ فہرست میں آٹھواں، نواں اور دسواں نمبر بتدریج اٹلی کے شہر فلورنس، فرانس کے شہر پیرس اور سپین کے شہر بارسلونا کا ہے۔ ان تین شہروں سے کوئی کیسے ناواقف ہوسکتا ہے؟ تاہم حیران کن بات یہ ہے کہ یورپ میں ان تین مشہور شہروں سے بھی سات بڑے خوبصورت شہر موجود ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کو آج سے پہلے یہ معلوم نہ تھا۔

مریم خالد

پاکستانی صحافی مریم خالد پاکستان ٹرائب کی ڈپٹی ایڈیٹر ہیں۔ سوشل میڈیا منیجمنٹ سے اپنی پروفیشنل لائف شروع کرنے والی مریم ہم نیوز کا حصہ بھی رہی ہیں۔ حالات حاضرہ اور لائف اسٹائل سمیت دیگر موضوعات پر لکھنے والی مریم ڈیجیٹل میڈیا استعمال ہی نہیں کرتیں، اسے جانتی بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *