کیا پاکستان میں بچے گود لینا نظر انداز کیا جاتا ہے؟

کیا پاکستان میں بچے گود لینا نظر انداز کیا جاتا ہے؟

آپ کے خاندان، دوست یا احباب میں ایسے کتنے افراد ہیں جنہوں نے کوئی بچہ گود لیا ہے؟ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو شاید سو میں سے کوئی ایک آدھ مل جائے گا۔ لیکن ایسا کوئی خاندان نہ ملے گا جس میں اپنے سگے بچوں کے ہوتے ہوئے بھی گھر میں ایک یا دو لے پالک بچوں کی کفالت کی جارہی ہو۔

کچھ ایسے جملے روزمرہ کی زندگی میں سننا پڑتے ہیں کہ بیٹا پڑھ لو تب ہی نوکری ملے گی، نوکری مل جائے تو تمہاری شادی کردوں۔ لڑکی خیر سے ڈاکٹر ہو تو اچھے رشتوں کی لائن لگ جاتی ہے۔ ۔ ۔ ۔  شادی کب ہوگی؟ رشتے نہیں آتے؟  گھر بساو بس اور کتنا پڑھنا ہے؟ اب بچوں کی کمائی تو نہیں کھانی تو بیاہ دو؟؟؟؟؟

اس مرحلہ سے گزریں تو پھر گفتگو یوں ہو جاتی ہے کہ شادی ہو گئی تو کیا بچے نہیں ہیں؟ سال ہوگیا شادی کو کوئی خوشخبری؟ علاج کرا لو۔ تعویز لا دوں تمہیں؟ بچے ہوں گے تو سسرال میں عزت ہوگی۔ بڑھاپے کا سہارا کون بنے گا تمہارا؟ نسل تو بیٹوں سے ہی چلتی ہے۔ خدا کرے اگلی بار بیٹا ہی ہو۔

یہ کسی فلم یا ڈرامے کے ڈائیلاگ نہیں بلکہ ہماری روزمرہ کی گفتگو کا حصہ ہے۔ گھریلو نجی محفل ہو یا آفس میں کھانے کا وقفہ ہو، یہ سوالات ضرور ہوں گے۔ یہاں تک کہ سفر کے دوران آپ کے بغل میں بیٹھیں اجنبی آنٹی بھی آپ کی شادی اور بچوں کے لیے فکر مند دکھائی دیں گی۔ ایسے میں کسی کے پاس وقت نہیں کہ وہ یتیم، بے سہارا اور لے پالک بچوں کے بارے میں سوچ سکے۔

معاشرتی اقدار کے ہاتھوں مجبورنوجوان اپنی پڑھائی،  نوکری اور آزادی کی قربانیاں دے کر گھر بساتے ہیں۔ ایسے میں ان کا مزاج خواہ کیسا ہو، ان کی صحت اجازت دے نہ دے، گھر میں ایک وقت کا فاقہ کیا جاتا ہو۔ مگر معاشرہ آپ سے اٹھتے بیٹھتے سوال کرے گا کہ آپ کے بچے کیوں نہیں ہیں؟ کب ہوں گے؟ مشورہ ملے گا کہ علاج کرا لو تعویز لکھوا لو۔ مگر کوئی نہیں کہے گا کہ بچہ ہی گود لے لو۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک صارف صفیہ محمود نے ایک سوال پوچھا کہ کیا پاکستان میں بچے گود لینے کو نظر انداز کیا جاتا ہے؟ اس موضوع پر صفیہ محمود کے دلائل نے اپنے فالورز کو سوچنے پر مجبور کردیا کہ اس افسوسناک حقیقت کے پیچھے کیا وجوہات ہوسکتی ہیں۔

صفیہ محمود لکھتی ہیں کہ سب کا خواب ہوتا ہے کہ اس کی اپنی ایک فیملی ہو، بیوی اور بچے ہو۔ مگر کیا یہ ممکن نہیں کہ ہم کسی بے سہارا بچے کو بھی اس کا حصہ بنا لیں۔ اسے کھانا، گھر، تعلیم اور پیار دیں جس سے اس کے لیے کامیابی کے دروازے کھل جائِیں۔ انہوں نے کہا کہ شاید یہ راستہ آنے والے کل کو میرے اور آپ کے لیے ایک بہتر جگہ بنانے میں معاون ثابت ہو۔

جدید دور میں بھی ہمارا معاشرہ برسوں پرانے خیالات اور فرسودہ نظریات کے تحت چلایا جارہا ہے۔ روایات اور اقدار میں جکڑے اس معاشرے میں جدید تہذیب اور ماحول دوست سوچ کے لیے کوئی گنجائش نہیں پیدا کی جارہی۔ آج بھی ہماری سوچ کا محور ترقی اور خوشحالی نہیں بلکہ اپنی معاشرتی روایات کے پاسداری اور اس کی اندھی تقلید کرنا ہے۔

قومی سروے (2015 – 2016) کے مطابق ایک اوسط پاکستانی گھرانہ چھ سے سات افراد پر مشتمل ہوتا جس میں کمانے والوں کی تعداد ایک یا دو ہوتی ہے۔ ہماری خوشی اسی میں ہے کہ ایک فرد کماتا رہے اور دس مزے سے بیٹھ کر کھاتے رہیں۔ ہم سے یہ برداشت نہیں ہوتا جب ہمیں بتایا جاتا ہے کہ آپ ایک نئے بچے کو دنیا میں لینے کے بجائے کسی یتیم کی سرپرستی کا ذمہ اٹھا لیں۔

تاہم یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ ایک ایسے ملک میں جہاں نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار کے مواقع بھی میسر نہیں کیا کسی بچے کی کفالت کا ذمہ لینا آسان ہے؟ موجودہ دور میں یتیم کی کفالت کے حوالے سے دینی تعلیمات پر عمل کرنا کیوں مشکل ہے؟ پاکستانی قوانین کی رو سے بچے کو گود لینے کا عمل اسقدر پیچیدہ کیوں رکھا گیا ہے؟

حکومتی اداروں کی جانب سے بچہ گود لینے کے قوانین میں کوئی نرمی برتی نہیں جارہی، طویل کاغذی کارروائی سے لوگ دور بھاگتے ہیں۔ دوسری جانب یتیم کو باپ کا نام نہ دینے، وراثت میں اس کا حصہ مقرر نہ ہونے اور اس کا غیر محرم قرار دیا جانا ایسے دینی معاملات ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ایسے عوامل ترقی پسند سوچ رکھنے والے افراد کو بھی آواز اٹھانے سے قبل سوچنے پر مجبور کردیتے ہیں۔

ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ خاندانی منصوبہ بندی کے ساتھ متبادل طریقوں کو بھی عام کرے۔ قومی اور فلاحی اداروں کو اعتماد میں لے کر ایسی پالیسز مرتب کی جائیں جس پر عمل کرکے معاشرے میں بہتری لائی جاسکے۔ بہرحال ریاست کی فلاح اسی میں ہے کہ افراد قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دیں اور اس کو بہتر بنانے میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیں۔

مریم خالد

پاکستانی صحافی مریم خالد پاکستان ٹرائب کی ڈپٹی ایڈیٹر ہیں۔ سوشل میڈیا منیجمنٹ سے اپنی پروفیشنل لائف شروع کرنے والی مریم ہم نیوز کا حصہ بھی رہی ہیں۔ حالات حاضرہ اور لائف اسٹائل سمیت دیگر موضوعات پر لکھنے والی مریم ڈیجیٹل میڈیا استعمال ہی نہیں کرتیں، اسے جانتی بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *