دو صدی پرانا یہ کھیل آپ نےدیکھا تو ضرور ہو گا لیکن کیا آپ ان باتوں سے واقف ہیں؟

دو صدی پرانا یہ کھیل آپ نےدیکھا تو ضرور ہو گا لیکن کیا آپ ان باتوں سے واقف ہیں؟

کراچی: کھیل کے میدانوں میں بہت سے مقابلے عام لوگوں کی پسند ہوتے ہیں جب کہ کچھ خاص شائقین کی توجہ ہی حاصل کر پاتے ہیں۔ دلچسپیوں کے اس فرق کے باوجود کبھی نا کبھی ہماری آنکھیں ان کھیلوں کو دیکھتی ضرور ہیں، یہ الگ بات ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ ان کھیلوں کی تفصیل یا تاریخ سے واقف نہیں ہوتے۔

دنیا کے بڑے حصوں میں یکساں مقبولیت رکھنے والے خاص لوگوں کے کھیل میں ایک ٹینس بھی ہے۔ بہت سے لوگ کبھی نا کبھی اسے دیکھتے یا اس کے مقابلوں کے بارے میں پڑھتے ضرور ہیں لیکن عدم واقفیت یا کم واقفیت کی وجہ سے بغیر رکے آگے بڑھ جاتے ہیں۔

سعودی اردو نیوز ویب سائٹ اردو نیوز نے حال ہی میں ٹینس کی تاریخ اور اس کے ارتقاء سے متعلق ایک دلچسپ رپورٹ شائع کی ہے جس میں مختلف تدریجی مراحل کا جائزہ لیا گیا ہے۔

نو جولائی 1877 میں برمنگھم میں کھیلا گیا مقابلہ ٹینس کی دنیا میں باقاعدہ قوانین کے تحت منعقد کیے گئے ومبلڈن مینز سنگل چیمپیئن شپ کا فائنل تھا۔ اس میچ کو دیکھنے والے تماشائیوں نے ایک ایک شلنگ (یورپ میں استعمال ہونے والی کرنسی) دے کر اسٹیڈیم میں آنے کی اجازت حاصل کی تھی۔ اس ٹورنامنٹ کے فاتح کا پورا نام سپینسر گوئر تھا جس نے دراصل دنیا کی مہنگی ترین گیموں میں سے ایک گیم ٹینس، ومبلڈن چمپئن شپ جیت لی تھی۔

ٹینس کیا ہے؟
ٹینس دنیا میں بہترین کھیل مانا جاتا ہے لفظ ٹینس اصل میں فرانسیسی لفظ (ٹینز ) سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے روکنا- 1980 میں اسکا نام ٹینس سے ’لان ٹینس‘ رکھ دیا گیا۔ اس کھیل میں ایک کھلاڑی دوسرے کھلاڑی سے مقابلہ کرتا ہے جبکہ دو کھلاڑیوں کی جوڑی بھی دوسری حریف جوڑی سے کھیلتی ہے۔

مردوں اور خواتین کھلاڑیوں کے الگ الگ اور مکسڈ مقابلے بھی ہوتے ہیں جنہیں سنگل، ڈبل یا مکسڈ مقابلے کہا جاتا ہے۔ جیسے کہ مینز سنگل ٹینس، ڈبل ٹینس یا پھر ویمن سنگل ٹینس اور ڈبل ٹینس وغیرہ۔

عام طور پر یہ کھیل وائٹ کالر لوگ ہی کھیلتے ہیں اور دیکھنے والے بھی شوقین مزاج ہوتے ہیں کیونکہ ٹینس دیکھنے کا ٹکٹ بھہی مہنگا ہوتا ہے۔ ٹینس کا کھیل ایسے معذور افراد بھی کھیل سکتے ہیں جو ریکٹ پکڑنے کے اہل ہوں عالمی سطح پر بھی ایسے معذور افراد کے لیے ایونٹس کروائے جاتے ہیں۔

ابتداء میں ٹینس کیسے کھیلی جاتی تھی؟

پہلی بار ٹینس کا کھیل 12ویں صدی میں شروع ہوا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تب لوگ بغیر ریکٹ کے کھیلا کرتے تھے جو بعد میں 16ویں سینچری میں ریکٹ کے ساتھ کھیلا جانا شروع ہوا۔

​1872 میں دو مقامی ڈاکٹروں نے انگلینڈ کے شہر برمنگھم میں ٹینس کا پہلا کلب لیمنگٹن سپا دریافت کیا جہاں اس گیم کو پہلی بار کلب انتظامیہ نے ’لان ٹینس‘ کا نام دیا۔ اندرون ملک کھیل کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے ایک برٹش آرمی آفیسر’والٹر کلوپٹون ونگ فیلڈ‘ نے اس کھیل کو بیرون ممالک متعارف کروانے کا فیصلہ کیا۔

اسپورٹس سے تعلق رکھنے والے تجزیہ کار اس بارے میں لکھتے ہیں کہ ٹینس کو دنیا بھر میں ونگ فیلڈ نے ہی مقبول کرایا۔ ونگ فیلڈ نے اپنے دوستوں کی مدد سے ٹینس کے قوانین بنائے۔ 1873 میں ونگ فیلڈ نے نیٹ،پولز،ریکٹ اور بالز پر مشتمل ایک باکس بنایا جس میں ٹینس کھیلنے کا تمام سامان موجود تھا۔ اس باکس کے ہزاروں سیٹ ونگ فیلڈ نے دوست ممالک میں گفٹ کے طور پر بھیجے تاکہ اس کھیل کو اعلی سطح پر پزیرائی حاصل ہو۔ ان کی اس کاوش سے 1874 میں پہلی بار ٹینس ٹورنامنٹ کا آغاز لمنگٹن سپا کلب میں ہوا۔

اس کے بعد 1877 میں پہلی بار ومبلڈن چمپئن شپ کا آغاز ہوا۔ تاہم اس وقت ہر کلب کے اپنے قوانین ہوتے تھے اس بات کو دیکھتے ہوئے 1881 میں یونائیٹڈ سٹیسٹس ٹینس لان ایسوسی ایشن کا قیام عمل میں آیا، جس نے ٹینس کے قوانین وضع کر کے مختلف ممالک کے مابین ٹورنامنٹس کا انعقاد کروایا۔ اس فیڈریشن کا کام دنیا بھر میں ہونے والے ایونٹس کے قوانین اور شیڈول سیٹ کرنا بھی ہے، جو کہ وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتے آئے ہیں۔

1913 میں انٹرنیشنل لان ٹینس فیڈریشن بنائی گئی جس کو اب انٹرنیشل ٹینس فیڈریشن کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس فیڈریشن کا مقصد دنیا کے تمام ٹاپ پلیرز کو چار بڑے ٹورنامنٹس کھلوانا ہے۔ ان ٹورنامنٹس کو گرینڈ سلیم ایونٹس کہا جاتا ہے۔ ان چار ایونٹس میں سال کی مناسبت سے باالترتیب آسٹریلین اوپن، فرنچ اوپن، ومبلڈن، اور یو ایس اوپن چیمپیئن شپ شامل ہیں۔

اس سال ومبلڈن چمپئن شپ کا 133 واں ایڈیشن یکم جولائی سے شروع ہو چکا ہے اور اس کا فائنل 14 جولائی کو ومبلڈن، انگلینڈ میں کھیلا جائے گا۔

2019 کے کرکٹ ورلڈ کپ کی طرح انگلینڈ میں ٹینس کے اکثر میچز بھی بارش کی نذر ہو جاتے تھے اور شائقین کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا تھا، مگر ٹینس فیڈریشن نے 2009 میں سٹیڈیم کا چھت بنا لیا جس کے بعد بارش کی صورت میں کورٹ کو مصنوعی چھت سے کور کر لیا جاتا ہے۔

اس ٹورنامنٹ میں مینز سنگل وڈبل کے ساتھ ساتھ ویمن سنگل اور ڈبل مقابلے کھیلے جائیں گے۔ پہلی مرتبہ اس ایونٹ میں وہیل چیئرز پر معزور افراد حصہ لے رہے ہیں۔ مینز سنگل کے دفاعی چمپئن نواک جوکوویچ اور ویمن میں انجلیک کوبر اپنے ٹائٹل کا دفاع کر رہے ہیں۔

کرکٹ کی طرح ٹینس میں بھی ریویو ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہے، جسے ’ہاک آئی‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس سسٹم کے تحت ایک کھلاڑی لائن کال دے کر ان یا آؤٹ چیک کر سکتا ہے۔

ٹینس مقابلوں کے کورٹ کس مواد سے بنتے ہیں؟

ٹینس کے موجودہ گرینڈ سلیم مقابلوں میں سے فرنچ اوپن کے مقابلے کلے کورٹ پر منعقد کیے جاتے ہیں۔ کلے کورٹ باریک کیے گئے پتھروں، اینٹوں کے برادے اور دیگر مٹی جیسے مواد سے تیار کیا جاتا ہے۔ آسٹریلین اور یو ایس اوپن ٹورنامنٹس سخت فرش سے بنائے گئے کورٹس پر کھیلے جاتے ہیں جب کہ ومبلڈن اوپن گھاس سے بنائے گئے کورٹ پر کھیلا جاتا ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *