بغیر معاوضہ انٹرن شپ کرنے والوں پر کیا گزرتی ہے؟

بغیر معاوضہ انٹرن شپ کرنے والوں پر کیا گزرتی ہے؟

ملکی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آج کل نوجوانوں کے پاس ڈگری تو ہے مگر تجربہ ناکافی ہے اور کمپنیوں کے پاس نوکریاں تو ہیں مگر تنخواہ دینے کو سرمایہ کم۔ ایسے میں ایک بیچ کی قابل قبول راہ نکالی گئی جسے پروفیشنل دنیا نے انٹرن شپ کا نام دیا۔

انٹرن شپ کیا ہے؟ نوجوانوں کے لیے تجربہ حاصل کرنے کا موقع یا کمپنیوں کے پاس مفت مزدوری لینے کا ایک بہانہ۔ سوشل میڈیا پر گزشتہ کچھ دنوں سے اس موضوع پر بحث جاری ہے۔ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اپنے تجربات کو فیس بک اور ٹوئٹر پر شیئر کر رہی ہے۔

فیس بک پر ایک صارف نے اس بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نہ کچھ کیا اور نہ انہیں کچھ حاصل ہوا، ہوا تو بس وقت اور وسائل کا ضیاع۔ دوسری جانب ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ یہ انٹرن شپ کرنا ان کی زندگی کا بہترین تجربہ تھا جس سے انہوں نے بہت کچھ سیکھا۔

کچھ صارفین کا کہنا تھا کہ ان سے ایسے کام لیا جاتا تھا جیسے وہ انٹرن نہیں بلکہ نوکر ہیں۔ بہت سے ورکرز یہ کہہ کر کہ “آپ کو کچھ نہیں آتا” آپ کو سیکھنے کا موقع ہی نہیں دیتے نہ ہی آپ کو کسی کام میں شامل کرتے ہیں۔ کسی کو سیکھنے کا موقع ملا تو دن رات کام کرا کہ ان کا خون نچوڑ لیا گیا۔

مگر اس درمیان کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جن کا کہنا ہے کہ بروقت اچھا تجربہ حاصل کرنا ان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوا۔

ملکی معیشت اور بے روزگاری کی بڑھتی ہوئی شرح میں کسی بھی کپمنی یا کاروبار کے لیے اپنی ساکھ قائم رکھنا مشکل ہوگیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے کمپنیاں اپنے  ورکرز کو زبردستی نوکری سے فارغ کرنے پر مجبور ہیں۔ ایسے میں تنخواہوں میں کٹوتی اورعدم ادائیگی بھی عام ہے۔

دوسری جانب یونیورسٹی سے دو یا تین سال قبل فارغ ہونے والے اسٹوڈنٹس آج بھی بے روزگار سڑکوں پر گھوم رہے ہیں۔ اس خوف سے نوجوان کسی بھی پیشکش کو ٹھکرانے سے قبل سو بار سوچتے ہیں۔ ان کے لیے ایک اچھی کمپنی کے ساتھ بغیر معاوضہ انٹرن شپ کرنے کا موقع بھی غنیمت ہے۔

نوجوانوں کا کہنا ہے کہ وہ سرکاری و نیم سرکاری سمیت پرائیوٹ اداروں میں تجربہ حاصل کرنے کے چکر میں بغیر کسی معاوضے کے کام کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔ آفس انتظامیہ انٹرنز کو غیر ضروری کاموں میں الجھائے رکھتے ہیں اور انہیں کام سکھانے میں دلچسپی نہیں لی جاتی ہے۔

اس حوالے سے ہیومن ریسورس کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ یونیورسٹویوں میں ڈگریوں کے نام پر محض کتابی علم سکھایا جاتا ہے جس کی عملی زندگی میں کوئی وقعت نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اعلیِ ڈگریوں کے حامل نوجوان بھی عملی تجربہ نہ ہونے کے باعث معمولی نوکری حاصل نہیں کر پاتے۔

سوشل میڈیا پر نوجوانوں کی اس بحث نے ماہرین کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ انٹرن شپ کے نام پر بلا معاوضہ کام لینا جائز یا قانونی ہے؟ کیا ایک مزدور کو اس کی مزدوری کا معاوضہ نہ دینا صحیح ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ زیادہ سے زیادہ تجربہ حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ایسے نوجوان استحصال کا شکار ہو رہے ہیں۔

امریکی تھنک ٹینک اکنامک پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے مطابق ان پیڈ انٹرن شپ سماجی طبقاتی نظام میں تحریک پیدا کرنے کے لیے مضر ہے۔ ادارے کی تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ اس سے وہ نوجوان بھی متاثر ہوتے ہیں جو بلامعاوضہ کام کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ ان کو وقت کا ضیاع اور معاوضے کی عدم ادائیگی کی صورت میں انٹرن شپ کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔

قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھ کر ترتیب دی جانے والی ان پیڈ انٹرن شپ بہت کم منافع بخش ثابت ہوتی ہیں اور اگر کوئی ادارہ آپ کو معاوضہ نہیں دے رہا ہے تو امکان ہے کہ وہ قانونی تقاضوں کا پورا نہیں کر رہا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ملکی وغیر ملکی بیشتر ادارے ایسے ورکرز کے لیے کم از کم اجرت کے قانون پر بھی عمل نہیں کرتے۔

 پاکستان میں اس وقت 64 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جن کی عمر 30 سال سے کم ہے۔ ہر سال لاکھوں نوجوان یونیورسٹیوں سے ڈگریاں لیے جاب مارکیٹ میں شامل ہورہے ہیں۔ ایسے میں دوسروں سے آگے نکلنے کے لیے ڈگری سے زیادہ تجربہ اور ہنر آپ کے کام آئے گا۔ اکبر الہ آبادی نے خوب کہا ہے کہ

ضروری چیز ہے تجربہ بھی زندگانی میں

تجھے یہ ڈگریاں بوڑھوں کا ہم سر کر نہیں سکتیں

مریم خالد

پاکستانی صحافی مریم خالد پاکستان ٹرائب کی ڈپٹی ایڈیٹر ہیں۔ سوشل میڈیا منیجمنٹ سے اپنی پروفیشنل لائف شروع کرنے والی مریم ہم نیوز کا حصہ بھی رہی ہیں۔ حالات حاضرہ اور لائف اسٹائل سمیت دیگر موضوعات پر لکھنے والی مریم ڈیجیٹل میڈیا استعمال ہی نہیں کرتیں، اسے جانتی بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *