جلد 20 کروڑ نوکریوں پر روبوٹ قابض ہو جائیں گے

جلد 20 کروڑ نوکریوں پر روبوٹ قابض ہو جائیں گے

واشنگٹن: برطانوی ادارے کی نئی تحقیق کے مطابق روبوٹ 2030 تک دنیا بھر کے صنعتی شعبے میں 20 کروڑ نوکریوں پر قابض ہو جائیں گے۔ جس سے اقتصادی پیدوار میں اضافہ ہوگا مگر معاشرے میں عدم مساوات کی صورتحال مزید خراب ہوجائے گی۔

آکسفورڈ اکنامکس نامی ادارے کے ماہرین اس تحقیق میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آٹومیشن اور روبوٹ جہاں اقتصادی طور پر کار آمد ثابت ہورہے ہیں وہیں یہ ایسی ملازمتوں کو تیزی سے ختم بھی کررہے ہیں جس کے لیے کم مہارت درکار ہوتی ہے۔ اس صورتحال سے سماجی اور معاشی کشیدگی میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

ادارے کے ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ روبوٹ کے استعمال سے نوکریوں ختم ہونے کا بڑھتا ہوا رحجان اور اس کے اثرات سب کے لیے ایک جیسے نہ ہوں گے۔ یہ دنیا کے تمام ممالک پر مختلف طریقے سے اثر انداز ہوگا یہاں تک کہ ایک ہی ملک میں رہنے والے باسیوں کے لیے یہ عمل کم یا زیادہ متاثر کن ہوسکتا ہے۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ روبوٹس نے صنعت کے شعبے میں کروڑوں نوکریوں سے لوگوں کو بےدخل کرا دیا اور اب یہ سروسز کے شعبے میں قدم جما رہے ہیں۔ مثال کے طور پر کمپیوٹر کی دیکھنے، انسانی آواز کو سننے اور مشین کو سمجھنے کی تمام صلاحیتیں روبوٹ کی مرہون منت ہوتی جارہی ہیں۔

برطانوی ریسرچ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال اور اس کے انسانی روزگار پر مرتب ہونے والے اثرات پر ذورو شور سے بحث جاری ہے۔ ماہرین یہ اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ خودکار گاڑیاں اور ٹرک، روبوٹ کی مدد سے بنائی جانے والی کھانے پینے کی اشیا اور آٹومیٹک فیکٹریاں کیسے انسانوں کی جگہ لیتی جارہی ہیں۔

دوسری جانب بہت سے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ آٹومیشن کے عمل سے پیدا ہونے والے روزگار کی تعداد اس سے ختم ہونے والی نوکریوں سے کہیں زیادہ ہے۔ مگر وہ اس حقیقت کو بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اس ٹرینڈ نے کچھ شعبوں میں ایسا خلا پیدا کردیا ہے کہ بہت سے ماہر ورکرز کو نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑ رہا ہے۔

نئی تحقیق کے مطابق روبوٹائزیشن کی نئی لہر سے پیداوار اور اقتصادی ترقی کو فروغ ملے گا جس سے ممکنہ طور پر نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ ماہرین کی پیشن گوئی کے مطابق 2030 تک اعلیٰ پیدوار کی بدولت عالمی اقتصادیات کو روبوٹس سے پچاس کھرب ڈالر کا فائدہ ہوگا۔

آکسفورڈ اکنامکس کی تحقیق میں شامل ایک مصنف لکھتے ہیں کہ ایسے تمام کام جنہیں ایک ہی طریقے سے بار بار سر انجام دیا جاتا ہے ان کے لیے روبوٹس کی مدد لی جائے گی۔ تاہم ایسے کام جو بے ساختہ ماحول میں کیے جاتے ہیں اور جن کے لیے ہمدردی، تخلیق اور سماجی ذہانت جیسی صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ آگے کئی دہائیوں تک انسانوں کے پاس ہی رہیں گے۔

ماہرین نے واضح طور پر ایسے پالیسی سازوں کے متعلق بھی خبردار کیا ہے جو روبوٹ ٹیکنالوجی کو اپنانے میں سست روی سے کام لے رہے ہیں۔ مصنفین کا کہنا ہے کہ پالیسی سازوں کو اس کے برعکس اپنی توجہ اس امر پر مرکوز رکھنی چاہیے کہ کیسے روبوٹ ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والی آمدنی سے ٹیکنالوجی متاثرین کی مدد کی جائے۔

ٹیکنالوجی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگلی دہائی کا سب سے بڑا چیلنج آٹومیشن کے معاشرتی اثرات کے لیے خود کو تیار کرنا اور اس سے نپٹنے کے لیے مناسب اقدامات کرنا ہوگا۔

مریم خالد

پاکستانی صحافی مریم خالد پاکستان ٹرائب کی ڈپٹی ایڈیٹر ہیں۔ سوشل میڈیا منیجمنٹ سے اپنی پروفیشنل لائف شروع کرنے والی مریم ہم نیوز کا حصہ بھی رہی ہیں۔ حالات حاضرہ اور لائف اسٹائل سمیت دیگر موضوعات پر لکھنے والی مریم ڈیجیٹل میڈیا استعمال ہی نہیں کرتیں، اسے جانتی بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *