کاربن ڈائی آکسائیڈ، کیسے ہو رہی ہے پیسوں میں تبدیل؟

کاربن ڈائی آکسائیڈ، کیسے ہو رہی ہے پیسوں میں تبدیل؟

اگر ماحول خراب کرنے والی گیس کاربن ڈائی آکسائیڈ پیسوں میں تبدیل ہو جائے تو کیسا ہے؟ اچھا ہے ناں۔

 کارخانوں، گھروں، ہوائی جہازوں، اور گاڑیوں سے سالانہ تقریباً 37.1 بلین میٹرک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ ریلیز ہوتی ہے، اور ہوا میں شامل ہو کر موسم اورماحول کو خراب کر رہی ہے۔ ایک درخت سالانہ محض 48 پاؤنڈز کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کر کے ماحول صاف کرتا ہے۔

دنیا بھر کے سائنس دان جرمنی میں مل کر ایک ایسا حل تلاش کر رہے ہیں جس سے یہ گیس ماحول سے استعمال کی جائے اور کچھ کارآمد اشیاء تیار کی جاسکیں تاکہ ماحول کو صاف رکھنے کے ساتھ ساتھ کمائی جاسکے بھاری بھر کم آمدنی۔

اس سے پہلے کارخانوں کے ماحول دوست مالکان ایندھن جلنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو اکھٹا کر کے ساتھ ہی زمین میں دفن کرنے کا سوچ رہے تھے۔ لیکن یہ طریقہ کار نہ صرف مہنگا تھا بلکہ اتنا مؤثر بھی نہ تھا۔

اب سائنس دانوں نے کاربن ڈائی آکسائیڈ سے جان چھڑانے اور فائدہ اٹھانے کے نئے طریقے ایجاد کر لیے ہیں۔ جہاں کاربن ڈائی آکسائیڈ سے سیمنٹ بن رہا ہے وہیں اس سے کھاد بھی بنائی جا رہی ہے۔ جی ہاں ایک تیر سے دو نشانے! بہترین کھاد پودوں کو پروان چڑھانے میں مدد دے گی تو ساتھ ہی آتش دان یا چمنی کی تہہ میں بچ جانے والی راکھ استعمال کر کے کارخانوں میں خاص قسم کا سیمنٹ بنایا جا رہا ہے

کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ماحول سے ختم کر کے مفید اشیاء میں تبدیل کرنا سائنس دانوں کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ اس سے نا صرف ماحول صاف ہو گا بلکہ موسمی تبدیلیوں یعنی گلوبل وارمنگ میں بھی کمی آئے گی۔ پاکستان میں بھی اگر تمام کارخانے یہ طریقہ کار اختیار کریں تو ہماری فضائی آلودگی بھی کم ہوگی اور ہماری معیشت میں بھی بہتری آئے گی۔

ایمن سلیم

ایمن سلیم پاکستان ٹرائب کی ڈپٹی ایڈیٹر ہیں۔ زیر تحریر ناول کے ساتھ اردو ادب کا اچھا ذوق رکھنے والی ایمن بہت عمدہ ویژول آرٹسٹ بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *