رب نو خوش کر، بندے نئیں خوش ہوندے

رب نو خوش کر، بندے نئیں خوش ہوندے

کیسے ہیں بابا جی؟ میں نے جاگِنگ ٹریک سے گزرتے ہوئے ان سے پوچھا تو وہ تسبیح پڑھتے پڑھتے رُک گئے۔ الحمدُلِلّہ! تم کیسی ہو بیٹی؟

میں ٹھیک نہیں ہوں بابا جی! میں نے آہ بھرتے ہوئے کہا، آپ سے مشورہ لینے آئی ہوں۔

شام کو میں جب بھی جاگِنگ پر جاتی تھی تو اَکثر اُنھیں درخت کے ایک طرف جاۓ نماز پر بیٹھے عبادت میں مشغول دیکھتی ہوں، کئی بار اُن سے سلام دُعا ہو جاتی تھی۔

کِیسا مشورہ بیٹا؟ اُنھوں نے عالمِ تشنگی میں دریافت کیا۔ میں چاہتی ہوں کہ میری زندگی میں موجود ہر انسان مُجھ سے خوش ہو جائے۔

ہاہاہاہاہاہا! وہ قہقہ لگا کر ہنسنے لگے۔

کیا ہوا بابا جی؟ میں نے شرمندہ شرمندہ سے لہجے میں پُوچھا۔ تم نے بات ہی ایسی کر دی ہے بیٹا! کیا مطلب؟ ! میں نے مزید پریشان ہو کر پوچھا۔

بیٹا میری پوری عمر ہرکِس و ناکِس کو خوش کرتے کرتے گزر گئی، مگر! وہ کچھ سوچتے ہوئے بولےـ مگر کیا؟ میں نے پوچھا۔

مگر کوئی بھی پوری طرح خوش نہ ہو سکا۔ لڑکپن کھیلتے گزرا، جوانی عشق اور کامیابی کی جستجو میں گزاری، آدھی عمر اولاد کی خواہشیں پورے کرتے کرتے گزری، اور اب بڑھاپے میں اُلٹے سیدھے سجدے مار کر خدا سے بخشیش کی امید رکھتا ہوں۔

میں غور سے سنتی رہی۔ پھر ایک افسوس ناک آہ بھر کر بولے۔ “آج تنِ تنہا ہوں ، اولاد نے بھی بَوجھ سمجھ کر سر سے اتار دیا، بیوی کی بھی کئی برس ہوئے وفات ہو گئی! آج سوچتا ہوں کہ زندگی کے 65 سال ضائع کر چکا ہوں۔

وہ کچھ وقفے کے بعد بولے، “جیے تو بس میں نے یہ تین سال ہی ہیں۔ ایک خیال بار بار تنگ کرتا ہے، کہ اگر ساری زندگی اللہ کو خوش کرنے میں گزارتا تو شاید زندگی کا سفر رائیگاں نہ جاتا۔

پھر میری طرف مڑ کر کہنے لگے، “رب کو خوش کر بیٹا رب کو، وہ تجھے کبھی اکیلا نہیں چھوڑے گا، حی علی الفلاح کو سن، وہ تیرے سب کام بنا دے گا، رب کو خوش کر، بندے نئیں خوش ہوندے، اَو تیرے اَلحمدُلِلّہ تو وی خوش ہو جاندا اے ، بس رب نُو راضی کر پُتر۔

یہ بولتے ہوئے وہ دوسری جانب چلے گئے اور اسی دوران مغرب کا وقت ہو گیا، قریب واقع مسجد سے موذن نے صدا دی تو میرے کانوں میں حی علی الفلاح کی آواز پڑی۔

ایمن سلیم

ایمن سلیم پاکستان ٹرائب کی ڈپٹی ایڈیٹر ہیں۔ زیر تحریر ناول کے ساتھ اردو ادب کا اچھا ذوق رکھنے والی ایمن بہت عمدہ ویژول آرٹسٹ بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *