لارڈز کی کامیابی پر پاکستانی کپتان کی خصوصی تحریر

لارڈز کی کامیابی پر پاکستانی کپتان کی خصوصی تحریر

ہم ایک ٹیم کے طور پر ہارتے ہیں، ہم ایک ٹیم کے طور پر جیتتے ہیں۔ یہ ہی پاکستان ٹیم کی پہچان ہے اور رہے گی۔

جنوبی افریقہ کے خلاف جیت پوری ٹیم کی مکمل کوشش کا نتیجہ ہے۔ ہمیں اس کی سخت ضرورت تھی۔ پچھلاہفتہ بہت مشکل رہا، کیونکہ ہم بھارت کے خلاف بری طرح ہارے تھے اور اس کے بعد تنقید ہوئی جو زیادہ تر جائز تھی۔ ہم نے غلطیاںکیں ، لہذا ہم اس کے مستحق تھے۔ لیکن ہم نے اس تنقید کو مثبت لیا۔ ہم نے دو دن آف کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ ہم تر و تازہ اور ری چارج ہو کر آئیں۔

ہم ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے اور فیصلہ کیا کہ جو بھی ہوا تھا، اسکو بھلا کر آگے بڑھیںگے۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم ایک، ایک میچ لیکر چلیں گے۔ ہم نے ان کےغلطیوں کے بارے میں سوچا اور ہم نے وعدہ کیا اور فیصلہ کیا کہ انہیں دوبارہ نہیں دہرائیں گے۔ یہ ایک طرح سے احتساب نفس تھا۔ان تمام میٹنگز کے بعدہم اتنے پرعزم تھے کہ ہم کم بیک کر سکتے ہیں۔ ہم جانتے تھے کہ ہمارے پاس غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

میں تسلیم کرتا ہوں کہ انگلینڈ کے خلاف سری لنکا کی اپ سیٹ کامیابی ہمارے لئے حوصلہ افزا تھی۔ اس نے یقینی طور پر ٹورنامنٹ کو اوپن کر دیا تھااور ہمیں یقین دیا تھا کہ ہم آخری چار میچوں میں،اگر اپنے ٹیلنٹ کے معیار پر کھیلیں، جیت سکتے ہیں۔

اس مثبت ذھن کے ساتھ ہم لارڈز پہنچے۔لارڈز خود ایک بہت متاثر کن گراؤنڈ ہے جو اچھا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اللہ کے فضل سے سب کچھ ہمارے حق میں گیا۔ ہم نے ایک مشکل پچ پر ایک اچھا ٹاس جیتا۔ اس پچ پر بیٹنگ آسان نہیں تھی، لیکن ہم نے ایک نڈر فیصلہ لیا۔ پچ ڈبل رفتار تھی لیکن نیچے سے خشک تھی۔ مثالی طور پر، بیٹنگ میںآپ ایک اچھا پلیٹ فارم چاہتے ہیں اور امام الحق اور فخر زمان کے ذریعے 81 رنز کا ایک اچھا پلیٹ فارم ہمیں ملا۔پھر حارث سہیل اور بابر زمان نے اننگز کومضبوط کیا۔حارث کی اننگز کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ حارث کی اننگز میچ میں فرق بن گئی۔وہ ایک سخت حالت میں، ورلڈ کپ کا صرف دوسرا میچ کھیل رہا تھا ۔اس نے قیمتی ہیروں سے جڑی اننگز کھیلی۔آخری پندرہ اوورز میں اس نے جوس بٹلر کی طرح کی بیٹنگ کی۔وہ میچ کھیلنے کے لئے بے تاب تھااور اس کی باڈی لینگویج اننگز کے آغاز سے ہی انتہائی مثبت تھی۔حارث اوربابر کی شراکت نے ہمیں ایک ایکس فیکٹر فراہم کیا۔

حارث کی کارکردگی یہ سوال ذہن میں لاتی ہے کہ ہم نے پہلے میچ کے بعدحارث کو کیوں ڈراپ کیا؟ یہ اس لئے تھا کیونکہ ہم ایک مخصوص کمبی نیشن کے ساتھ کھیلنا چاہتے تھے۔ ہم نے ہمیشہ اسکی صلاحیتوں پر یقین کیا ہے لیکن چونکہ ہم مختلف کمبی نیشن کے ساتھ کھیل رہے تھے ، لہذاوہ گیارہ میں نہیں تھے۔ حارث مستقبل کے لئے ایک اہم کھلاڑی ہے اور اس میں بہت ٹیلنٹ ہے لیکن ان کا کیریئر فٹنس مسائل سے دوچار رہا ہے۔ اب مجھے امید ہے کہ یہ اننگز حارث کے کیریئر کو پروان چڑھائے گی۔

ناول ‘کینڈل ٹوٹ گئی’ کی دوسری قسط یہاں پڑھیں

ہم نے بورڈ پر ایک اچھاٹوٹل سجایا۔اننگز کے وقفہ کےدوران ہم جانتے تھے کہ اگر ہم ابتدائی وکٹ لینے میں کامیاب ہوئے تو ہم جنوبی افریقہ پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ ہم یہ بھی جانتے تھے کہ شاداب خان اس پچ پر اھم ہوں گے، کیونکہ عمران طاہر کو بھی پچ سےمدد ملی تھی۔شاداب اور عماد وسیم نےنپی تلی بولنگ کی ۔ ہم نے ابتدائی وکٹ جلدحاصل کی اور پھر درمیانی اوورز میں شاداب شاندار رہا۔ محمد عامراور وھاب ریاض نے دباؤ ڈالا اوراس نے کام کیا۔

ہمارے اگلی مخالف نیوزی لینڈ کی ٹیم ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ وہ ایک خطرناک ٹیم ہے اور فارم میں بھی ہے لہذا ہمیں اپنی اسی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، بیٹنگ میں ایک پلیٹ فارم قائم کرنا اور بولنگ میں ابتدائی وکٹیں لینا، یہی کامیابی کی ضمانت ہوگا۔

ہماری فیلڈنگ پھرپریشان کن رہی ہے۔ ہمیں اسے بہت زیادہ بہتر کرنا ہوگا۔ ہم نے جنوبی افریقہ کے خلاف بھی بہت کیچز گرائے۔ ہم اگر اچھی ٹیموں کو اس طرح ،اور اچھے بیٹسمینوں کو اس طرح، موقعہ دیں گےتو وہ ہمیں خوب سزا دیں گے۔ اگلے چند دنوں میںہم اضافی فیلڈنگ ڈرل کریں گے۔

ہماری کامیابی کسی کی بھی تنقید کا جواب نہیں ہے۔ہم یہاں کرکٹ کھیلنے اور عالمی کپ جیتنے کے لئے آئے ہیں۔ اب ھمارا ہدف اگلے تین میچ ہیں۔ بدھ کو ہم ایک اور مضبوط اوران فارم ٹیم نیوزی لینڈ کے خلاف میدان میں اتریں گے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *