بلاگر بلال خان کا قتل، واقعہ گھر کے باہر ہوا یا اسلام آباد بلا کر قتل کیا گیا؟

بلاگر بلال خان کا قتل، واقعہ گھر کے باہر ہوا یا اسلام آباد بلا کر قتل کیا گیا؟

اسلام آباد: پاکستانی سوشل میڈیا بلاگنگ کے معروف ناموں میں سے ایک کہے جانے والے 23 سالہ بلال خان کو اسلام آباد میں قتل کر دیا گیا۔

اسلام آباد پولیس اور بلال خان کے جاننے والوں کی جانب سے قتل کرنے کے مقام کے بارے میں متضاد دعوے کیے گئے ہیں۔

پاکستانی نیوز ویب سائٹ پاکستان 24 نے پولیس سپریٹنڈنٹ ملک نعیم سے منسوب بیان میں کہا ہے کہ سوشل میڈیا ایکٹویسٹ بلال خان پر جی نائن فور میں حملہ کیا گیا۔ قاتلانہ حملہ میں بلال خان مارے گئے جب کہ ان کے دوست احتشام زخمی ہوئے ہیں۔

پولیس افسر کے مطابق بلال خان کو ٹیلی فون کر کے کسی نے بہارہ کہو سے جی نائن بلایا جہاں پہنچنے پر بلال کو ایک لڑکا جنگل میں لے گیا جہاں ان پر خنجر کے وار کیے گئے۔

اسلام آباد پولیس کے تھانہ کراچی کمپنی سے کچھ دور پیش آنے والے واقعہ کے متعلق پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کی آواز بھی سنی گئی تھی۔

پولیس کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کے تھانہ کراچی کمپنی کی حدود میں واردات کے دوران فائرنگ کی گئی۔ واقعہ کو ڈکیتی قرار دیتے ہوئے پولیس کا کہنا تھا کہ ڈاکوؤں کی فائرنگ سے شہری شدید زخمی ہوا جسے پمز اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا اور انتقال کر گیا۔

محمد بلال خان کے شناسا کیا کہتے ہیں؟

بلاگر اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ محمد بلال کے جاننے والوں نے سوشل میڈیا پر اپنے تبصروں میں دعوی کیا ہے کہ ان کو بہارہ کہو میں گھر سے باہر بلا کر قتل کیا گیا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بلال خان کی حمایت میں گفتگو کرنے والے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ بلال خان بہارہ کہو میں اپنے کزن کے گھر میں کھانا کے لئے بیٹھے ہی تھے کہ انہیں ایک کال آئی۔ ان کے والد کے مطابق عثمان یا رضوان کی کال تھی ۔ انہوں نے کھانا چھوڑا اور اپنے کزن احتشام کے ہمراہ جی نائن فور کی اسٹریٹ 87 میں واقع مسجد حسن پہنچے اور وہاں ان لوگوں سے ملے۔

بلال خان کے شناساؤں کے مطابق ان لوگوں نے بلال پر خنجروں کے وار کیے۔ بلال زخمی حالت میں مسجد کی طرف دوڑے اور امام سے کہا کہ پولیس کو بلائیں ۔ ہمیں یہ لوگ مار رہے ہیں ۔ یہ کہہ کر واپس باہر نکلے جہاں ان کے کزن احتشام کو انہوں نے یرغمال بنا رکھا تھا ۔ بلال پر ان لوگوں نے وہیں فائر کیے اور بھاگ گئے۔

محم بلال خان کی سوشل میڈیا پروفائلز

فیس بک اور ٹوئٹر پر فعال محمد بلال خان مختلف موضوعات پر جارحانہ بلاگنگ کے لیے پہچانے جاتے تھے۔ سوشل میڈیا پروفائلز کے مطابق محمد بلال کے فیس بک پر 34 ہزار سے زائد فالورز تھے جب کہ ٹوئٹر پر 16 ہزار سے زائد لوگ فالو کر رہے تھے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں قتل کیے گئے محمد بلال خان کا تعلق خیبرپختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد کے علاقے شیخ البانڈی سے تھا۔ خاندانی ذرائع کے مطابق بلال کی نماز جنازہ پیر کی سہ پہر ساڑھے تین بجے آبائی گاؤں میں ادا کی جائے گی۔

واقعہ کے بعد سوشل میڈیا پر #Justice4MuhammadBilalKhan کے نام سے ٹویٹس کر کے ذمہ داران کے خلاف فوری اور قرار واقعی کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *