جامعہ کراچی کے اساتذہ پر جنسی ہراسانی کا الزام، پیمرا سمیت سماء، جیو، ہم نیوز کو نوٹس جاری

جامعہ کراچی کے اساتذہ پر جنسی ہراسانی کا الزام، پیمرا سمیت سماء، جیو، ہم نیوز کو نوٹس جاری

کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے جامعہ کراچی کے دو اساتذہ پر جنسی ہراسانی کے الزام سے متعلق یکطرفہ خبریں چلانے کی پاداش میں تین نجی چینلز، طالبات کے نام پر شکایت کرنے والے طالب علم اور پیمرا کو نوٹس جاری کر دیے۔

پاکستان ٹرائب کے نمائندہ کے مطابق جامعہ کراچی کے ایک طالب علم کی جانب سے طالبات کے نام پر درخواست دیتے ہوئے کراچی یونیورسٹی کے دو اساتذہ پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے طالبات کو ہراساں کی اہے۔

جمعہ کے روز سندھ ہائی کورٹ میں جیو نیوز، سماء ٹی وی، ہم نیوز اور تہماس علی خان کے خلاف اسسٹنٹ پروفیسر اسامہ شفیق کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے تمام ٹیلی ویژن چینلز کو جامعہ کراچی کے اسسٹنٹ پروفیسر کے خلاف خبریں چلانے سے روک دیا۔

عدالت نے میڈیا چینلز کو جامعہ کراچی کے استاد کے خلاف ٹاک شوز کرنے سے روکتے ہوئے تہماس (طہماس) علی خان نامی طالب علم کو بھی بیان بازی سے روک دیا۔

سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے چیئرمین پیمرا اور کونسل آف کمپلینٹ پیمرا کو بھی نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ تمام مدعا علیہان 27 مئی تک جواب جمع کرائیں۔

دوران سماعت عدالت نے متعلقہ فورم کے فیصلے سے قبل ہی میڈیا کوریج پر اظہار تشویش کیا۔ جسٹس عقیل احمد عباسی کا ریمارکس میں کہنا تھا کہ کیا میڈیا کو کوئی کنٹرول کرنے والا نہیں، اس طرح تو میڈیا کسی بھی عزت دار کی پگڑی اچھال دے۔

سندھ ہائی کورٹ کے  جسٹس عقیل احمد عباسی نے استفسار کیا کہ پیمرا ان میڈیا چینلز کے خلاف کیا کر رہا ہے۔

عدالت نے مبینہ متاثرہ لڑکی کے سماء ٹیلی ویژن پر نشر کردہ انٹرویو پر اظہار تشویش کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کیا مبینہ متاثرہ لڑکی رجسٹرار جامعہ کراچی کے سامنے خود پیش ہوئی؟

میڈیا کی جانب سے معاملہ اچھالے جانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس عقیل احمد عباسی نے استفسار کیا کہ کیا ٹی وی چینل داد رسی کا درست فورم ہے؟

ہراسانی کے الزام کا نشانہ بننے والے کراچی یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر اسامہ شفیق کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کے خلاف پروپیگنڈہ مہم کے پیچھے فرقہ وارانہ اور سیاسی عوامل کارفرما ہیں۔

جسٹس عقیل احمد عباسی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ عدالت اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھے گی۔

عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر پروجیکٹر پر ویڈیوز چلا کر دکھایا جائے کہ کون سے ٹیلی ویژن چینل نے کیا چلایا ہے۔

معاملہ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اس طرح تو کوئی بھی طالب علم کسی استاد کے خلاف میڈیا ٹرائل شروع کروا دے، پھر معاشرے میں استاد کی عزت اور احترام کا کیا ہو گا۔

اسامہ شفیق کے وکیل ایاز انصاری ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ تین پرچوں میں فیل تہماس علی خان نے پاس کرنے کے لیے دباؤ ڈالا، ٹی وی چینل نے بغیر تحقیقات کے فیل طالب علم کو ہیرو کے طور پر پیش کیا۔

محمد ایاز انصاری ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ جامعہ کراچی کو فرقہ وارانہ اور سیاست مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ پیمرا کو ٹی وی چینلز کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دی جائے۔

کراچی یونیورسٹی ہراسانی معاملہ کیا ہے؟

چند روز قبل سوشل میڈیا سائٹس اور میڈیا کے مخصوص حلقوں کی جانب سے یہ خبر سامنے لائی گئی تھی کہ کراچی یونیورسٹی کے اساتذہ کے خلاف طالبات کو ہراساں کیے جانے کی شکایت درج کرائی گئی ہے۔

تہماس علی خان نامی طالب علم کی جانب سے کہا گیا تھا کہ طالبات نے خود کو ہراساں کیے جانے کی شکایت کی ہے۔ مذکورہ طالب علم خود کو تحریک انصاف یوتھ ونگ کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا رکن بتاتا ہے۔

معاملہ سامنے آنے کے بعد انصاف اسٹوڈنٹ فیڈریشن نے اپنی وضاحت میں کہا تھا کہ اس نام کے کسی فرد کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

Image may contain: text

اسی دوران کراچی یونیورسٹی کی جانب سے یہ وضاحت بھی سامنے آئی کہ ایسی کوئی شکایت درج نہیں کرائی گئی ہے۔

Image may contain: text

شعبہ ابلاغ عامہ (ماس کام ڈیپارٹمنٹ) کی جانب سے معاملہ کے متعلق جاری کردہ وضاحت میں کہا گیا تھا کہ شعبہ کی کسی طالبہ نے کبھی شعبہ کے کسی استاد یا طالب علم کے خلاف جنسی ہراساں کرنے کی شکایت نہیں کی تھی کراچی یونیورسٹی کی (انسداد) جنسی ہراسانی کی قائم کردہ کمیٹی میں شعبہ کی کسی طالبہ کی طرف سے کوئی شکایت نہیں کی گئی۔

وضاحت میں واضح کیا گیا کہ تہماس علی خان نامی ایک طالب علم نے ویڈیو کے ذریعہ شعبہ کے استاد پر سنگین الزامات عائد کیے، ابھی کمیٹی نے تحقیقات بھی شروع نہیں کیں کہ میڈیا پر شعبہ کو بدنام کرنے کی مہم شروع کر دی گئی۔

جامعہ کراچی کی اسٹوڈنٹس ایڈوائزری کونسل کی جانب سے طالب علم کو اظہار وجوہ کا نوٹس بھی جاری کیا جا چکا ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *