مقامی حکومت: پنجاب میں دیہی یونین کونسلوں کی جگہ 22000 پنچائتیں بنیں گی

مقامی حکومت: پنجاب میں دیہی یونین کونسلوں کی جگہ 22000 پنچائتیں بنیں گی

لاہور: پنجاب کا نیا بلدیاتی نظام عوامی امنگوں کا ترجمان اور نچلی سطح تک اختیارات کی صحیح معنوں میں منتقلی کا ذریعہ ہوگا جس کی تیاری کے لئے ہرمرحلے میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کے ویژن اور راہنمائی کو مدنظر رکھا گیا ہے۔

صوبائی وزیر قانون ، پارلیمانی امور و لوکل گورنمنٹ محمد بشارت راجہ نے آج ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ پنجاب حکومت نے وزیراعلی عثمان بزدار کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف کے منشور کے ایک اہم جزو پر عملی اقدامات کا آغاز کردیا ہے اور نئے بلدیاتی قانون کا مسودہ آج وزیراعظم کے سامنے پیش کیا گیا۔

انہوں نے نئے بلدیاتی قانون کے نمایاں نکات بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ عوام کو صحیح معنوں میں بااختیار کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں براہ راست مالی وسائل منتقل کرے گا جنہیں وہ اپنی مرضی سے اپنی ضرورت کے مطابق خرچ کرنے کے اہل ہوں گے۔

یہ بھی دیکھیں: عمران خان کے سٹیزن پورٹل پر شکایت درج کرانے والے کی جان کو خطرہ

دیہی اور شہری علاقوں میں الگ نظام

انہوں نے کہا کہ نئے بلدیاتی نظام کو شفافیت ، احتساب اور پائیدار ترقی کا ضامن بنایا گیا ہے جس میں دو درجاتی انتظامی ڈھانچہ متعارف کروایا جارہا ہے۔

دیہی سطح پر سابقہ نظام کی ضلع کونسل اور یونین کونسل کو ختم کرکے تحصیل کونسل اور پنچائت جبکہ شہری سطح پر سب سے نچلا بلدیاتی یونٹ نیبر ہڈ کونسل ہوگا نیز ڈویژنل سطح پر میٹروپولیٹن کارپوریشن اور تحصیل سطح پر میونسپل کارپوریشنز کام کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ نئے نظام میں سابقہ 3100یونین کونسلوں کی جگہ 22000 پنچائتیں جگہ لیں گی جن سے نمائندگی بہت زیادہ وسیع ہو جائے گی اور انہیں 40ارب روپے کے فنڈز براہ راست منتقل کئے جائیں گے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں‌پارلیمانی کی جگہ صدارتی نظام رائج کرنے کی گونج

وزیر بلدیات نے کہا کہ نئے نظام میں پہلی دفعہ اقلیتوں کو اپنے اکثریتی علاقوں میں بلدیاتی سربراہ بننے کا موقع ملے گا جس سے وہ مساوی اختیارات کے مالک بن جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے تحت پنچائت اور نیبرہڈ کونسل کے انتخابات غیرجماعتی جبکہ باقی اداروں کے انتخابات جماعتی بنیادوں پر براہ راست ہوں گے۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ جتنی جلد ہو نیا نظام نافذ ہو جائے جس کے ساتھ ہی سابقہ نظام ختم ہو جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ عبوری دور میں بلدیاتی اداروں کے سٹاف کی تربیت کی جائے گی تاکہ وہ نئے نظام کو احسن طریقے سے چلا سکیں اور وزیراعظم پاکستان کے ویژن کے مطابق اپنے عوام کی خدمت بہتر سے بہتر انداز میں کرسکیں۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی حکومت کا نیا پاکستان ہاوسنگ منصوبہ حقیقت بننے کے مزید قریب

صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے بشارت راجہ نے بتایا کہ پارلیمانی سیکرٹریوں کے محکموں کا نوٹیفکیشن جلد کردیا جائے گا۔

 

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

One thought on “مقامی حکومت: پنجاب میں دیہی یونین کونسلوں کی جگہ 22000 پنچائتیں بنیں گی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *