جعلی خبروں کی شناخت کیلیے علی بابا کی ڈیمو اکیڈمی نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹول تیار کر لیا

جعلی خبروں کی شناخت کیلیے علی بابا کی ڈیمو اکیڈمی نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹول تیار کر لیا

بیجنگ: معروف ای کامرس پلیٹ فارم علی بابا کے تحقیق سے متعلق ادارے ڈیمو اکیڈمی (اکیڈمی برائے ڈسکوری، ایڈونچر، مومینٹم اور آؤٹ لک) نے جعلی خبروں کی پہچان کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹول تیار کرنے کا دعوی کیا ہے۔ ایک ایپلیکیشن کی شکل دیے گئے اس ٹول کو ریومر شیڈر کا نام دیا گیا ہے۔

ڈیمو اکیڈمی کی تیار کردہ ایپلیکیشن کے متعلق کہا گیا ہے کہ یہ مستقبل میں صارف کے سوشل میڈیا کے استعمال یا انٹرنیٹ براؤزنگ کے دوران نظر آنے والے مواد کا جائزہ لے کر جعلی خبروں وغیرہ کی نشاندہی کرتی رہا کرے گی۔

ریومر شیڈر ‘Rumour Shredder’ نامی ایپلیکیشن کسی پوسٹ یا خبر کا جائزہ لیتے ہوئے دیکھے گی کہ اسے سب سے پہلے کس نے اور کہاں شیئر کیا ہے، پہلی مرتبہ پبلش کرنے والا فرد یا پلیٹ فارم کتنا سچا اور قابل اعتماد ہے۔ ایپلیکیشن حقائق کی تلاش کے عمل کے دوران خبر کے اولین ذریعہ کی جانب سے دی ئی گزشتہ اطلاعات کا جائزہ بھی لے گی اور دیکھے گی کہ بات کہنے والا فرد یا ادارہ ماضی میں کتنی مصدقہ اطلاعات دیتا رہا ہے۔

جعلی خبروں کی شناخت کے لیے ایپلیکیشن کے پس پردہ موجود الگورتھم خبر میں پیش کردہ اہم نکات کا جائزہ لے کر اسے معروف حقائق یا پہلے سے دستیاب اطلاعات کی بنیاد پر پرکھے گا۔

یہ بھی دیکھیں: عمران خان کے سٹیزن پورٹل پر شکایت درج کرانے والے کی جان کو خطرہ

علی بابا کی ڈیمو اکیڈمی کا ارادہ ہے کہ وہ ایپلیکیشن میں نیا فیچر شامل کریں جو یوزر کو کوئی بھی اطلاع سامنے آتے ہی اس کے مصدقہ یا غیر مصدقہ ہونے کے متعلق فوری اطلاع دے سکے۔

اس ایپلیکیشن کی موجودگی میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والا صارف جیسے ہی کسی خبر یا پوسٹ کو پڑھے گا تو اس کے غلط ہونے کے صورت میں جعلی خبر کا نوٹیفیکیشن موصول ہو گا۔ اس وقت تجرباتی مراحل میں موجود ایپلیکیشن کے متعلق ڈیمو اکیڈمی کا منصوبہ ہے کہ جلد اسے اتنا طاقتور بنا دیا جائے کہ یہ پڑھنے والے کو سامنے موجود خبر یا اطلاع کی صحت کے متعلق اسی وقت آگاہ کیا کرے۔

ریومر شیڈر نامی ایپلیکیشن کے متعلق کہا گیا ہے کہ یہ اپنے ابتدائی مرحلہ پر 81 فیصد درستی کے ساتھ جعلی خبروں کی شناخت کا کام کر سکتی ہے۔

ایپلیکیشن بنانے والوں کو توقع ہے کہ ریومر شیڈر کو بناتے وقت جن امور کا خیال رکھا گیا ہے ان کی وجہ سے یہ نت نئی جعلسازی کی شناخت کے لیے اپنے آپ کو خودکار طریقہ سے تیار یا اپ ڈیٹ کر سکے گی۔

انٹرنیٹ خصوصا سوشل میڈیا پر جعلی خبروں کی موجودگی اور ان کا پھیلاؤ سنجیدہ حلقوں کے لیے مسلسل باعث تشویش رہا ہے۔ انٹرنیٹ پر دستیاب مواد کے جائزہ پر مبنی رپورٹوں میں کئی بار یہ نشاندہی کی گئی ہے کہ سماجی رابطوں کے پلیٹ فارمز پر جعلی خبریں زیادہ تیزی سے پھیلتی ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں‌پارلیمانی کی جگہ صدارتی نظام رائج کرنے کی گونج

عالمی سطح پر کام کرنے والے کاروباری و دیگر اداروں کے ساتھ مختلف ممالک بھی جعلی خبروں کے خلاف اقدامات کرنے کا اعلان کرتے رہتے ہیں۔ ان اقدامات کو جہاں ایک جانب پزیرائی ملتی ہے وہیں مخالفین کے مواد کو جعلی قرار دینے پر یہ طعنہ بھی سننا پڑتا ہے کہ جعلسازی پر قابو پانے کی آڑ میں من پسند اطلاعات کو پھیلنے کی اجازت اور دیگر حقائق کو دبانے کی سعی کی جاتی ہے۔

اس وقت تک جعلی خبروں کی شناخت کے لیے مختلف ویب سائٹس وغیرہ موجود ہیں جو صارفین کو یہ سہولت دیتی ہیں کہ وہ کسی مخصوص لنک کی صداقت پرکھ سکیں۔ اس مقصد کے لیے صارف کو پوسٹ یا تحریر کا یو آر ایل یا لنک کاپی کر کے ان ایپلیکیشنز میں پیسٹ کرنا ہوتا ہے جو اپنے پاس موجود ڈیٹا کی بنیاد پر اس کے صحیح یا غلط ہونے کے حوالے سے رائے قائم کرتی ہیں۔ ان ویب سائٹس کے لیے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ وہ فیس بک، ٹوئٹر یا واٹس ایپ وغیرہ پر مسلسل اور تیزی سے سامنے آنے والی خبروں کو اسی وقت درست یا غلط قرار دے سکیں۔

فوزان شاہد

مطالعہ اور لکھنے کا عمدہ ذوق رکھنے والے فوزان شاہد پاکستان ٹرائب کے ڈپٹی ایڈیٹر ہیں۔ وہ سیکیورٹی ایشوز سمیت سماجی، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر لکھتے ہیں۔ Twitter: @FawzanShahid

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *