اس جوڑے کے مرد و عورت سے متعلق روایات کے برخلاف عمل نے سبھی کو چونکا دیا

اس جوڑے کے مرد و عورت سے متعلق روایات کے برخلاف عمل نے سبھی کو چونکا دیا

کراچی سے تعلق رکھنے والے جوڑے نے مرد و عورت کے کرداروں سے وابستہ روایات کو مزاح کی شکل دیتے ہوئے نمایاں کیا ہے کہ پاکستان میں بیویوں کے ساتھ کیا معاملہ روا رکھا جاتا ہے۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے میاں بیوی دی میولی ویڈز کے نام سے پوسٹ کیا کرتے ہیں۔ دونوں نے دلچسپ کیپشن کے ساتھ دو تصاویر شیئر کیں جس کے بعد کمنٹس نے نئی بحث کھڑی کر دی۔

تصاویر میں ولید نامی مرد کو ساڑی اور سیاہ رنگ کا شفاف دوپٹہ پہنے دکھایا گیا ہے۔ ولید نے دوپٹے سے اپنا چہرہ بھی ڈھانپ رکھا ہے۔

تصویر کے ساتھ درج کیپشن میں تحریر کیا گیا ہے کہ یہ چہرہ ایک ایسی بیوی کا ہے جس نے شوہر کو دیکھے بغیر 30 گھنٹے گزارے ہیں۔ یہ پاکستان میں 2018 کے عام انتخابات سے پہلے کا وہ وقت ہے جب شوہر نے مسلسل دو روز تک کام کیا حتی کہ الیکشن سے قبل آخری رات بھی گھر نہیں آ سکا۔ یہ تصویر الیکشن سے ایک دن بعد کی ہے جب وہ صبح واپس آیا اور 10 تا 12 گھنٹوں کی بہترین نیند لی، اس دوران اس نے مجھے اور سنو وائٹ کو ہزاروں بار آغوش میں لیا۔ مجھے یاد ہے کہ اس روز میں پرسکون نیند سوئی اور اس کی گھر میں موجودگی کے باعث خوش خوش جاگی کیونکہ مجھے علم تھا کہ وہ میرے اور سنو وائٹ کے پاس ہے، اور میرے کانوں میں اس کے خراٹے گونج رہے تھے۔ مجھے وہ رات بھی یاد ہے جب وہ کام پر تھا اور میں گھر میں تھی: اس رات میں معمول کے مطابق سو نہیں سکی، میں بستر میں کمبل اوڑھے صرف اپنے دل کی دھڑکن ہی سن پا رہی تھی۔

 

View this post on Instagram

 

This is the face of a wife that spent around 30 hours without seeing her husband. This was right before the General Election Day in Pakistan, #ge2018 , and he worked for two days straight, couldn’t even come home the night before the election day. This photo is from the morning after the election night; he came back home, slept for a good ten-twelve hours, gave me and Snow White a thousand cuddles both before and while falling asleep. I remember going to sleep in peace and waking up happy when I knew he was home, curled up around me and Snow White, snoring away in my ear. I also remember the night he spent at work and I was at home: falling asleep did not come as naturally to me as it usually does, my anxious heartbeat was all I could hear as I lay in bed, wrapped in the blanket. You know what was the funniest thing? My ears felt the void because he wasn’t there to snore in them. There was a time when I couldn’t fall asleep because of his snoring; now I have trouble falling asleep without it. How does this even work, how does love work… I don’t know, it just works in the strangest of ways. It was a difficult night despite the knowledge that he’d come home the next day, despite him calling me every now and then to check up on me, despite me being safely at our home and in our bed… Well, what do they say about homes? Sometimes, home is a person. It’s scary how dependent one can become on another human. I know it shouldn’t be like this; as an adult, as a woman that’s independent in many ways and on many levels… I should be okay with this. But I’m not, and right now that’s all I know. . . . . #love #life #newlyweds #husband #wife #wemetoninstagram #instagramlovestory #marriage

A post shared by The Mewly Weds (@themewlyweds) on

پوسٹ میں مزید لکھا کہ آپ کو معلوم ہے سب سے دلچسپ بات کیا تھی؟ میرے کان اس کے خراٹے نہ سن کر خالی سے محسوس ہو رہے تھے۔ ایک ایسا وقت بھی تھا جب میں اس کے خراٹوں کی وجہ سے نہیں سو سکتی تھی لیکن اب اس کے خراٹوں کے بغیر سونا محال ہے۔ میں نہیں جانتی کہ یہ کیسے چل سکے گا، محبت کیسے مفید ثابت ہو گی، غالبا یہ عجیب طریقوں سے ہی فائدے دے سکتی ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ اس نے اگلی صبح آنا ہے، وہ رات مشکل تھی، حالانکہ میں اپنے گھر اور ہمارے بیڈ میں محفوظ تھی لیکن وہ میرے بارے میں باخبر رہنے کے لیے مسلسل رابطے میں تھا، وہ لوگ گھر کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ کبھی کبھار گھر ایک فرد ہوتا ہے۔یہ بات تشویشناک ہے کہ ایک فرد دوسرے پر اتنا انحصار کیوں کرنے لگتا ہے۔ ایک بالغ فرد کے طور پر میں جانتی ہوں کہ یہ سب ایسے نہیں ہونا چاہیے۔ مجھے اس سب کے ساتھ معمول کے مطابق رہنا چاہیے لیکن میں جانتی ہوں کہ میں نہیں رہ سکتی۔

دوسری تصویر کے ساتھ دیے گئے کیپشن میں درج تھا کہ یہ میرے شوہر ہیں، میں گزشتہ رات انہیں کھانے کے لیے باہر لے گئی۔ دنیا کوئی اچھی جگہ نہیں ہے اس لیے میری خواہش تھی کہ وہ گھر پر ہی رہیں، لیکن چونکہ وہ میرے ساتھ تھے اس لیے مجھے کوئی تشویش نہیں ہوئی۔ مجھے اچھا لگتا ہے جب وہ بہترین طریقے سے خود کو ڈھانپ کر رکھتا ہے گویا وہ کوئی کھلی تجوری ہو۔ میں اسے کام کرنے اور ڈرائیو کرنے کی اجازت بھی دیتی ہوں اس پر میرے لیے میڈل تو بنتا ہے؟

جوڑے کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ تصاویر اور ان کے کیپشن خوب سوچ سمجھ کر دیے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ جن لوگوں کو یہ برے لگنے ہیں انہیں برے لگیں۔

اپنی طنزیہ تحریر کو جاری رکھتے ہوئے جوڑے نے لکھا کہ مردوں کی آزادی کے متعلق تحریک مغرب کا پروپیگنڈہ ہے تاکہ انسان اللہ کے احکامات سے روگردانی اختیار کر لے۔مردوں کو کتاب میں تمام حقوق دیے گئے ہیں، انہیں شکر گزار ہونا چاہیے کہ ہم عورتیں انہیں ڈرائیو کرنے اور ملازمت کی اجازت دیتی ہیں۔

جوڑے کی تصاویر اور ان کے تبصروں پر متعدد افراد نے اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے۔ کچھ لوگوں نے انہیں توجہ حاصل کرنے کا شائق قرار دیا جب کہ کچھ ان کے ماضی کی پریشانیوں کو ان حرکتوں کا سبب قرار دیتے نظر آئے۔

خود کو ایک بلی کے والدین کے طور پر متعارف کرانے والا کراچی سے تعلق رکھنے والا جوڑا سوشل میڈیا پر اس طرح کی بلاگنگ کے لیے جانا جاتا ہے۔

Ali Khan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

فی الوقت ای کھوکھا مصنوعات کی ڈیلیوری صرف اسلام آباد میں دی جا رہی ہے۔ Dismiss