پاکستان میں‌پارلیمانی کی جگہ صدارتی نظام رائج کرنے کی گونج

پاکستان میں‌پارلیمانی کی جگہ صدارتی نظام رائج کرنے کی گونج

اسلام آباد: پاکستان میں رائج پارلیمانی نظام کو تبدیل کر کے ملک میں صدارتی نظام رائج کرنے کے متعلق دبے لفظوں ہونے والی گفتگو اب اسلامی صدارتی نظام کی اصطلاح اختیار کر کے مزید شدت اختیار کر رہی ہے۔

چند روز قبل پاکستانی اداکاری حمزہ علی عباسی کی جانب سے کی گئی ٹویٹ میں صدارتی نظام کے فوائد کا ذکر کرتے ہوئے اس کے حق میں رائے دی گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ صدارتی نظام کے تحت ناصرف طاقتور ایم پی ایز، ایم این ایز سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے بلکہ بڑے صوبوں کو ختم کر کے انتظامی بنیادوں پر چھوٹے صوبے بھی بنائے جا سکتے ہیں۔

پارلیمانی یا صدارتی نظام کے متعلق گفتگو یہاں رکی نہیں بلکہ سوشل میڈیا باالخصوص ٹوئٹر پر اس کی حمایت و مخالفت میں خیالات ظاہر کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔

اتوار کے روز نجی نیوز چینل بول کے میزبان سمیع ابراہیم کی جانب سے صدارتی نظام سے متعلق پروگرام کیا گیا، اس کے ساتھ ساتھ ٹوئٹر پر ایک پول بھی کرایا گیا جس میں شرکاء سے کہا گیا کہ کیا پاکستان میں اسلامی صدارتی نظام کا نفاذ ہونا چاہیے؟

پیر کی شام تک اس پول میں تقریبا 8 ہزار افراد نے رائے دی، ان میں 84 فیصد نے نئے نظام کے حق میں رائے دی۔

پیر ہی کے روز پاکستانیوں کی ٹوئٹر ٹائم لائنز پر #نظام_بدلو_پاکستان_بچاؤ کا ٹرینڈ بھی گردش کرتا رہا۔ اس ٹرینڈ میں شامل متعدد اکاؤنٹس وفاق سمیت خیبرپختونخوا اور پنجاب میں حکمراں جماعت تحریک انصاف کے حامیوں کی بھی تھے۔

ٹرینڈ میں گفتگو کرنے والوں کا کہنا تھا کہ پاکستان کا موجودہ نظام کسی دیرپا تبدیلی کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

ٹوئٹر پر جاری گفتگو میں کچھ افراد نے صدارتی نظام کی حمایت میں پروگرام کرنے پر سمیع ابراہیم کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ سینئر صحافی اور اپنی معنی خیز ویڈیوز کی وجہ سے سوشل میڈیا کے معروف ناموں میں سے ایک مطیع اللہ جان نے ان کی امریکی شہریت کا ذکر بھی کیا۔

بابا جی امریکہ والے نامی ٹوئٹر ہینڈل نے ایک قدم آگے بڑھ کر ناصرف صدارتی نظام لانے کی مخالفت کی بلکہ ماضی میں حکمراں رہنے والے آمروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے عرصہ اقتدار میں ہم صدارتی نظام برت چکے ہیں۔ اس اقتدار کے دوران ہم نے آدھا ملک گنوایا، دو جنگیں لڑیں، نو گیارہ کا واقعہ ہوا اور افغانستان کا مسئلہ پیدا ہوا۔

اس وقت ریاستی انتظام کے لیے پاکستان میں پارلیمانی نظام رائج ہے۔ اس نظام کے تحت قومی و صوبائی اسمبلیاں الیکشن کے ذریعے منتخب کی جاتی ہیں۔ پاکستان میں ہونے والے انتخابات میں دھاندلی اور پس پردہ قوتوں کی جانب سے نتائج میں مداخلت کے الزامات بھی تواتر سے سامنے آتے رہے ہیں۔

فوزان شاہد

مطالعہ اور لکھنے کا عمدہ ذوق رکھنے والے فوزان شاہد پاکستان ٹرائب کے ڈپٹی ایڈیٹر ہیں۔ وہ سیکیورٹی ایشوز سمیت سماجی، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر لکھتے ہیں۔ Twitter: @FawzanShahid

2 thoughts on “پاکستان میں‌پارلیمانی کی جگہ صدارتی نظام رائج کرنے کی گونج

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *