آصف علی زرداری اور سندھ کارڈ‎

آصف علی زرداری اور سندھ کارڈ‎

ہم سب جانتے ہیں کے پاکستان کی سیاست دائروں میں گھومتی رہتی ہے اور ایک منجمد جوہڑ کی طرح ہے جس کا پانی گدلا اور آلودہ ہو چکا ہے- اس کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کے ہماری سیاست صرف چند سو خاندانوں اور ان کے حواریوں کے قبضے میں ہے۔

ان چند سو خاندانوں نے کچھ سیاسی کارڈ بنا لیے ہیں جنہیں وہ اے ٹی ایم کارڈ کی طرح جب جی چاہتا ہے استعمال کرتے ہیں- سندھ کارڈ، جنوبی پنجاب کارڈ، بلوچستان کارڈ، کرپشن کارڈ، جمہوریت کارڈ، حب الوطنی کارڈ، انڈیا کارڈ،جمہوریت کارڈ، اور مذہب کارڈ وہ چند مثالیں ہیں جو ہماری ستر سالہ تاریخ میں بار بار استعمال ہوئی ہیں اور انہیں استعمال کرنے والوں کو کبھی مایوسی نہیں ہوئی، مگر پاکستان تیزی سے بدل رہا ہے اور ان کارڈوں کی حقیقت سے اب لوگ بخوبی واقف ہو چکے ہیں۔ انہی کارڈوں کی وجہ سے موجودہ نظام ناکام ہوا اور پاکستان ایک قوم نہ بن سکا۔

کل جب آصف زرداری اور بلاول صاحب نے سندھ کارڈ دکھا کر اسے کیش کرنے کی دھمکی تو مجھے بہت زیادہ حیرت اور تعجب نہیں ہوا۔ اس کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ جب ہم ایک نئے نظام کی تعمیر کی بات کر رہے ہیں تو یہ ثبوت ڈھونڈنا ضروری ہے کہ کیا موجودہ نظام سے لوگ مایوس ہو چکے ہیں اور اس سے جان چھڑانا چاہتے ہیں یا نہیں۔

موجودہ نظام میں لوگوں کو ان کی ذات، پات، رنگ مذہب اور نسل کی بنیاد پر بانٹا گیا ہے۔ اسی تقسیم در تقسیم کی وجہ سے وہ سیاسی کارڈ وجود میں آئے جن کا میں نے اوپر ذکر کیا۔

زرداری صاحب پرانی سیاست کے آدمی ہیں اور اب بھی یہ سمجھتے ہیں کے سندھ کے عوام میں پی پی پی مقبول ہے اور وہ سندھ کے عوام کو ذاتی مقاصد کیلئے استعمال کر سکتے ہیں۔ زرداری صاحب کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کے سندھ میں حکومت انہیں تیسرے امپائیر نے بلوچستان کی منتخب حکومت گرانے کے صلے میں دی تھی اور وہ عوام کے ووٹوں سے سندھ میں حکومت میں نہیں آئے۔ یہ حقیقت زرداری صاحب کو بھی اچھی طرح معلوم ہے اسی لیے ان کی پارٹی نے اس پارلیمانی کمیٹی میں دلچسپی نہیں لی جو تیسرے ایمپائر کی الیکشن میں دھاندلی کی تحقیقات کیلئے بنی تھی۔

یہ پیپلز پارٹی ہی تھی جنہوں نے حکومتی وزیر کا نام اس کمیٹی کے چئرمین کیلئے تجویز کیا یعنی چور سے کہا کے خود ہی اپنی چوری پکڑے۔ میں یہ چاہتا ہوں کے وہ سندھ کارڈ استعمال کریں تاکہ ہمیں بھی پتہ چلے کے وہ اور ان کی جماعت سندھ میں کتنے مقبول ہیں اور اس کارڈوں کے نظام پر لوگ اب بھی اعتماد کرنے کو تیار ہیں یا نہیں۔ میں یہ بھی سمجھتا ہوں کے بہت ممکن ہے اس لانگ مارچ کی دھمکی میں تیسرے امپائیر کے بھی کچھ فائدے پوشیدہ ہوں۔

میں حزب اختلاف کا حصہ ہوں اور پی پی پی کے لیڈران سے رابطہ میں رہتا ہوں مگر سندھ کارڈ کے استعمال کا اعلان کرنے سے پہلے زرداری صاحب اور ان کی پارٹی نے کوئی مشورہ نہیں کیا اور نہ انہوں نے یہ بتایا کے سندھ کے عوام کے وہ کونسے مسائل ہیں جن کیلہے انہیں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنا چاہیے۔

اس لیے نہ میں اس سیاسی تحریک کا حامی ہوں نہ یہ سمجھتا ہوں سندھ کے عوام کو مزید ذاتی سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یقیناً کچھ لوگ ان کے ساتھ ضرور نکلیں گے مگر سندھ کی اکثریت اب اکیسوی صدی میں رہتی ہے اور اپنے مسائل اور ان کے حل میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے۔

موجودہ نظام اور اس نظام سے فائدہ اٹھانے والے سیاستدان عوام کا اعتماد کھو چکے ہیں اسی لیے زیادہ تر لوگو ں نے اس بات کا فیصلہ کیا کے وہ الیکشن میں ووٹ نہیں ڈالیں گے اور گھر بیٹھ کر اس نظام کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔ مگر میری ان تمام مایوس لوگوں سے گزارش ہے کہ ایک نئے نظام کی تعمیر میں ہمارا ہاتھ مضبوط کریں اوراس میں عملی حصہ لینے کیلئے تیار رہیں۔

عبد القیوم خان کنڈی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *