ہری پور میں‌زیادتی کے بعد قتل ہونے والے 7 سالہ عمر کے ملزم کی گرفتاری کا دعوی

ہری پور میں‌زیادتی کے بعد قتل ہونے والے 7 سالہ عمر کے ملزم کی گرفتاری کا دعوی

ہری پور: صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع ہری پور میں پولیس نے عمر نامی سات سالہ طالب علم کو زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کرنے کے الزام میں ایک فرد کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔

ہری پور پولیس کا کہنا ہے کہ بچے کو درندگی کا نشانہ بنانے والے ملزم کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے جس کے بعد حقائق جاننے کے لیے مزید تفتیش جاری ہے۔

جمعہ کو سامنے آنے والی اطلاع میں پولیس نے کمسن عمر کے قتل اور افسوسناک واقعہ کی دیگر تفصیل بھی نشر کی ہیں۔ ضلعی پولیس ترجمان حسن عطا الرحمٰن نے بتایا کہ قتل کیے گئے بچے کی شناخت عمر کے نام سے ہوئی ہے۔

پولیس کے مطابق بچے کو پہلے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور بعد پھندے کے ذریعے گلا گھونٹ کر معصوم عمر کی جان لے لی گئی۔

ہری پور پولیس نے تصدیق کی ہے کہ مقامی لوگوں نے صبح سویرے جھوگیا گاؤں کے قریب کچرے کے ڈھیر میں بچے کی لاش دیکھ کر پولیس کو افسوسناک واقعہ کی اطلاع دی تھی۔

واقعہ کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس نے نعش کو ہری پور کی تحصیل خان پور کے اسپتال منتقل کیا جہاں پوسٹ مارٹم میں بچے کے ساتھ جنسی زیادتی اور  کپڑے کی مدد سے گلا گھونٹ کر قتل کرنے کی تصدیق ہوئی ہے۔

مقامی افراد اور پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ سات 7 سالہ عمر خان پور، ہری پور کے علاقہ جھوگیا میں قائم گورنمنٹ پرائمری اسکول میں اول جماعت کا طالب علم تھا۔ عمر نے اپنے اسکول میں منعقدہ گزشتہ امتحان نمایاں نمبروں سے پاس کرتے ہوئے 92 فیصد نمبروں کے ساتھ کلاس میں چوتھی پوزیشن حاصل کی تھی۔

کمسن عمر کے ساتھ زیادتی کی اطلاع سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ مختلف فیس بک اور ٹوئٹر صارفین کی جانب سے واقعہ کی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے ملزم کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

متعدد سوشل میڈیا صارفین نے ایسے واقعات کے تدارک میں ناکامی پر حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ہری پور پولیس کی جانب سے ملزم کی گرفتاری کا دعوی تو کیا گیا ہے تاہم اس رپورٹ کے فائل کیے جانے کے وقت تک اس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔

فوزان شاہد

مطالعہ اور لکھنے کا عمدہ ذوق رکھنے والے فوزان شاہد پاکستان ٹرائب کے ڈپٹی ایڈیٹر ہیں۔ وہ سیکیورٹی ایشوز سمیت سماجی، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر لکھتے ہیں۔ Twitter: @FawzanShahid

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *