مبینہ زبردستی تبدیلی مذہب: لڑکیاں اسلام آباد میں، پولیس کی تلاش پنجاب تک محدود

مبینہ زبردستی تبدیلی مذہب: لڑکیاں اسلام آباد میں، پولیس کی تلاش پنجاب تک محدود

کراچی: گزشتہ چند دنوں میں مبینہ اغوا کے بعد تبدیلی مذہب کا نشانہ بننے والی ہندو لڑکیوں کے متعلق تازہ اطلاع میں کہا گیا ہے کہ دونوں بہنیں اسلام آباد پہنچ چکی ہیں۔

آزاد پاکستانی نیوز ویب سائٹ پاکستان 24 کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مبینہ تبدیلی مذہب کا نشانہ بننے والی لڑکیاں اسلام آباد پہنچ گئی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں لڑکیوں اور ان کے شوہروں کی جانب سے اسلام آباد ہائی یکورٹ میں دائر کردہ درخواست میں وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر ایف ٹین کا پتہ لکھا گیا ہے۔

سندھ پولیس کے آئی جی نے کہا ہے کہ لڑکیوں کی تلاش جاری ہے اور پولیس کی ایک ٹیم پنجاب کے علاقے رحیم یار خان میں موجود ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کردہ درخواست میں لڑکیوں نے اپنے وکیل کے توسط سے کہا ہے کہ انہوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کرنے کے بعد پسند کی شادی کی ہے تاہم ان پر دباؤ ڈال کر واپس آبائی گھر آنے کا کہا جا رہا ہے۔

راؤ رحیم نامی قانون دان کے توسط سے دائر کردہ درخواست میں لڑکیوں اور ان کے شوہروں نے تحفظ فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔

قبل ازیں سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سندھ کے ضلع گھوٹکی سے تعلق رکھنے والی دونوں بہنوں کو رحیم یار خان سے گوجرانوالہ منتقل کیا جا چکا ہے۔

ابتدائی رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ گھوٹلی سے تعلق رکھنے والی دو بہنوں نے اسلام قبول کر کے رحیم یار خان کے نوجوانوں سے شادی کر لی تھی۔ واقعہ کے بعد سامنے آنے والی اطلاعات میں دعوی کیا گیا کہ دونوں بہنوں کو زبردستی ہندو سے مسلمان کیا گیا ہے۔

معاملہ پر شور شرابا ہونے کے بعد وزیراعظم نے کارروائی کے احکامات جاری کیے تھے جس کے بعد رحیم یار خان سے پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

مبینہ تبدیلی مذہب اور زبردستی شادی کا نشانہ بننے والی دونوں لڑکیوں کے اہل خانہ سے منسوب ایک ایف آئی آر بھی درج کی گئی ہے جس میں دونوں کی عمریں 13 اور 15 سال بتائی گئی ہیں۔

اسلام قبول کر کے شادی کرنے والی لڑکیوں کے والدین کی جانب سے 21 مارچ کو درج کردہ ایف آئی آر کا عکس
اسلام قبول کر کے شادی کرنے والی لڑکیوں کے والدین کی جانب سے 21 مارچ کو درج کردہ ایف آئی آر کا عکس

مبینہ تبدیلی مذہب اور زبردستی شادی کی اطلاع کے مطابق رینا اور روینا نامی نامی دونوں بہنوں کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے۔ اسلام قبول کرنے کےبعد رینا کا نام نادیہ اور روینہ کا نام آسیہ رکھا گیا ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *