عورت یومِ خواتین کے تناظر میں – شہزادی کوثر

عورت  یومِ خواتین کے تناظر میں – شہزادی کوثر

عورت کے لفظ میں بہت سے معنی و مفاہیم پوشیدہ ہیں۔ اس کا خمیر محبت ہمدردی، رحم شرافت اور حیا سے اٹھا ہے۔ ماں کے روپ میں دنیا خالق کی محبت کا عکس دیکھتی ہے، وہ اولاد کے لیے سب کچھ قربان کرتی ہے، اس کی مامتا کے آگے بڑے بڑے سنگ دل ریت کی دیوار ثابت ہوتے ہیں۔

بہن بن جائے تو بھائی کی غیرت، بیٹی بن کر باپ کا فخر کہلاتی ہے، اور شریک حیات کی صورت میں اپنے مجازی خدا کی ہمدم وغمخوار جو زندگی کے گرم وسرد کو سہنے کا حوصلہ دیتی ہے۔

عورت کے دم قدم سے ہی زندگی واقعی جینے کے قابل بن جاتی ہے۔ تصویرکائنات کی رنگ آمیزی وجود زن سے ہی ممکن ہوئی۔ دنیا کو حیرت میں ڈالنے والے عظیم انسانوں کی پرورش عورت ہی کی گود میں ہوئی، اس لیے ماں کی گود کو بچے کی اولین درس گاہ قرار دیا جاتا ہے، جو آنے والے زمانوں کے لیے اس ننھی کلی کی آبیاری اپنے لہو سے کرتی ہے۔

انتہائی کٹھن حالات کا مقابلہ کرنے کی ہمت اور ان پر غالب آنے کا گُرُ عورت ہی سکھاتی ہے۔ دین کے لیے قربانی دینے کی بات ہو یا دنیاوی فتوحات، میدانِ جنگ میں خدمات انجام دینی ہو یا حالتِ امن میں درپیش ذمہ داریاں عورت ہر میدان میں کامیاب وکامران اور با عفت و باعصمت رہی ہے، لیکن آج کی عورت کو کیا ہوا ہے کہ اپنے مقام سے گرنے کی حکمتِ عملی خود بنا کر اس پر عمل بھی کر رہی ہے۔

وہ ایسی مغرب ذدہ ذہنیت کے ساتھ زندگی کے میدان میں کود پڑی ہی کہ اس کی شناخت بھی کھو رہی ہے۔

8 مارچ پوری دنیا میں خواتین کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے اس مرتبہ خواتین مارچ  کے نام پر ہم نے اپنے ملک میں جو دیکھا اس کو بیان کرنے کا حوصلہ نہ مجھ میں ہے اور نہ میرے قلم میں۔

انتہائی واہیات اور بیہودہ باتیں لکھ کر دنیا کو کیا پیغام دینا چاہ رہی ہیں۔ جس آزادی کی بات یہ مغرب ذدہ خواتین کر رہی ہیں  وہ صرف فحاشی اور عریانی کے سوا کچھ بھی نہیں، بحیثیت عورت اسلام نے جو مقام ہمارے لیے مختص کیا ہے اس کی مثال دنیا کا کوئی اور مذہب یا معاشرہ نہیں دے سکتا۔

جدید دنیا جن حقوق کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے وہ ایک مسلمان عورت کو چودہ سو سال پہلے مل چکے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ اس کی عزت اور آبرو محفوظ ہے،وراثت میں اسے حقوق دئیے گئیے ہیں، وہ تعلیم حاصل کر سکتی ہے، اپنے خاندان کی کفالت میں حصہ دار بن سکتی ہے۔

اسلام نے اس پر بے جا پابندی نہیں لگائی، اور نہ ہی معاشرے میں اس کے لیے کسی قسم کی رکاوٹ ہے۔ وہ اپنے حدود کے اندر رہتی ہوئی باآسانی حلال رزق کا بندوبست کر سکتی ہے۔ لیکن جدید دور کی عورت خود کو شوپیس بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

شرم وحیا کو خداحافظ کہہ کر جو دل میں آے کر رہی ہے کوئی پوچھنے والا نہیں، اس کے غیرت مند باپ اور بھائی کی غیرت کہاں سو رہی ہے؟  گھروں میں تقریبات کے نام پر ناچ گانے کی محفلیں سجتی ہیں تو جوان بہن بھائی اور ماں باپ مل کر ناچتے ہیں اور بڑے فخر سے دوسروں کو بتایا اور دکھایا جاتا ہے۔

دوپٹہ ان کے سر سے پھسل کر کندھے پر آیا تھا اب وہاں بھی نظر نہیں آتا،جینز کے بغیر لباس کا تصور ان کے لیے گناہ ہے، ان سب کا ذمہ دار کون ہے؟

عورت۔۔۔۔  صرف عورت نہیں مرد بھی ہے، باپ اور بھائی کو دوسروں کی بیٹی میں سب خرابیاں تو نظر آتی ہیں مگر اپنے گھر کی ؑ عورت کی کوتاہیاں وہ نہیں دیکھ پاتا۔ اپنے گریبان میں شہتیر نظر نہیں آتا دوسرے کے گریبان کے بال پر فورا نظر پڑتی ہے۔

صبح گھر سے نکلنے والی بیٹی کیا پہن کر جاتی ہے  اس پر تھوڑی سی توجہ گھر والے دے دیں تو معاشرہ عریانیت سے بچ جائے گا۔ سارا کچھ لا کر ماں پر ڈالنا کہاں کا انصاف ہے، اگر بیٹی اچھی اور نیک ہوئی تو کریڈٹ باپ کو جائے گا اور خاکم بدہن معاشرے کے لیے کلنگ کا ٹیکہ بن گئی تو ذمہ دار ماں کو قرار دیا جاتا ہے۔ بچوں کی تباہی میں عورت قصور وار تصور ہو گی جب کہ ان کی کامیابی کا سہرا باپ کے سر رکھا جاتا ہے۔

یہ ایسا بڑا مسلہ ہے کہ صرف ایک عورت یا مرد ذمہ دار نہیں ہوتا، جس طرح دونوں زندگی کی گاڑی کے دو پہیے تصور کیا جاتے ہیں، زندگی کو کامیاب بنانے میں دونوں پہیوں کا توازن برابر ہونا ضروری ہے ورنہ یہ سفر منزل تک کبھی نہیں پہنچ سکے گا، اگر معاشرے میں بے حیائی اور بگاڑ عورت کی طرف سے پیدا ہو رہا ہے تو مرد حضرات بھی سن لیں کہ۔۔۔ کسی حد تک شریکِ جرم آخر تم بھی ٹھہرو گے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *