بالاکوٹ میں بھارتی حملہ کے دوران کیا ہوا؟ | pakistantribe.com/urdu/

پاکستان پر انڈین سرجیکل اسٹرائک ایک ناکام آپریشن تھا؟ ڈیجیٹل فارنزک ماہرین حقائق سے پردہ اٹھاتے ہیں

اسلام آباد/واشنگٹن: انڈین جنگی طیاروں کی جانب سے پاکستانی علاقے میں جیش محمد کے مبینہ تربیتی مرکز کو ہدف بنانے کا دعوی حقائق نے ناصرف مشکوک بلکہ غلط ثابت کیا ہے۔

ڈیجیٹل میڈیا فارنزک سے متعلق ایک امریکی ادارے کی جانب سے انڈین جہازوں کا نشانہ بننے والے بالاکوٹ کے قریب جابہ ٹاپ نامی علاقے کی سیٹیلائٹ تصاویر، ویڈیوز کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔

جمعرات کو سامنے آنے والے جائزہ میں ڈی ایف آر لیب انڈین دعوے اور پاکستانی افواج کی جانب سے پیش کی گئی تصاویر کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔

امریکی ادارے نے واقعہ کے فارنزک جائزہ سے متعلق اپنی رپورٹ میں تسلیم کیا ہے کہ انڈین جنگی جہازوں نے پاکستانی علاقے کو نشانہ بنایا لیکن آزاد ذرائع سے دستیاب ثبوت واضح کرتے ہیں کہ یہ ایک ناکام آپریشن تھا۔

واقعہ کیا اور کیسے ہوا؟
چھ فروری کو مقامی وقت کے مطابق علی الصبح ساڑھے تین بجے کے قریب میراج 2000 کے 12 طیاروں نے خیبرپختونخوا کے ضلع مانسہرہ کے علاقہ بالاکوٹ کے قریب جیش محمد کے ایک مبینہ کیمپ کو نشانہ بنایا۔ ڈی ایف آر لیب نے آزاد ذرائع اور ٹیکنالوجی کی مدد سے حملہ کے مقام اور اس پر ہونے والے نقصان کا ابتدائی جائزہ لیا۔ ابتدائی رپورٹس میں بی بی سی سمیت متعدد اداروں نے اسے بالاکوٹ کے قریب کی گئی کارروائی قرار دیا جب کہ عرب میڈیا سمیت متعدد ویب سائٹس نے بالکل درست مقام کی نشاندہی کرتے ہوئے اسے بالاکوٹ سے دس کلومیٹر دور واقع گاؤں جابہ میں ہوا واقع قرار دیا۔

بھارتی دعوی میں بیان کردہ مقام کی شناخت
پاکستانی علاقے میں انڈین طیاروں کی دخل اندازی کے متعلق 26 فروری کی صبح تقریبا چار بجے سے اپ ڈیٹس فراہم کرنے والے پاکستانی مسلح افواج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے انڈین فائرنگ سے متاثرہ علاقے کی تصاویر ٹویٹ کیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستانی حدود میں داخل ہونے والے انڈین جہاز ناکامی کے بعد فرار ہوتے ہوئے اپنا اضافی بوجھ گرا گئے جو بالاکوٹ کے قریب گرا۔

پاکستانی افواج کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ تصاویر کے جائزہ سے واضح ہوا کہ یہ متاثرہ علاقے کی درست تصاویر ہیں جو ٹویٹ میں دیے گئے بیان سے متعلق ہیں۔ درختوں سے گھرے علاقے کی تصاویر میں کسی جانی یا انفراسٹرکچرل نقصان کی نشاندہی نہیں ہو رہی تھی۔

دو تصاویر انڈین جنگی جہازوں سے گرائے گئے بارودی مواد کی نشاندہی کر رہی تھی۔ ایک تصویر میں پروں یا اطراف کا حصہ نمایاں تھا جب کہ دوسری ہدف کو نشانہ بنانے کے نظام پر مبنی تھی۔

یہ بھی دیکھیں: گرفتار بھارتی پائلٹ بہتر سلوک پر پاکستانی فوج کا شکر گزار

پروں والے حصہ کی تصاویر زیادہ قابل شناخت رہی، یہ تصویر اسرائیل کے تیار کردہ سپائس 2000 (SPICE.2000) نامی ہتھیار کی تھیں جو ہدف کو خودکار طریقہ سے درست نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ سپائس 2000 میں آئی این ایس/جی پی ایس کوآرڈینیٹس استعمال ہوتے ہیں جو اس کی آزادانہ حرکت اور دیے گئے ہدف کو شناخت کر کے نشانہ بنانے کے لیے مستعمل ہیں۔ پریسیشین گائیڈڈ میونیشن (پی جی ایم) کہلانے والے یہ ہتھیار بنانے والے اسرائیلی ادارے رافیل کے مطابق ہتھیار میں نصب الیکٹرو آپٹیکل سینسر پہلے سے فیڈ کیے گئے مناظر کی وجہ سے ہدف کو درست طور پر نشانہ بناتے ہیں۔

ابتدائی رپورٹس میں کہا گیا کہ میراج طیاروں نے ہدف پر ایک ہزار کلوگرام کے بم گرائے، سپائس 2000 کا وزن بھی اتنا ہی ہے۔ بعد میں آنے والی رپورٹس نے بھی واضح کیا کہ حملہ میں سپائس 2000 نامی میزائل یا بم استعمال کیا گیا ہے۔ یہ ہتھیار لڑاکا طیاروں کے ذریعے پھینکے جانے اور ہدف کو نشانہ بنانے کے قابل ہیں۔

حملہ کا مقام
پاکستانی افواج کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ تصاویر کے علاوہ ابتداء میں ہی حملہ کے مقام سے متعلق ایک ویڈیو سامنے آئی جو دوسرے متاثرہ علاقہ کی نشاندہی کر رہی تھی۔ ویڈیو میں مقامی افراد حملہ کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے اور دھماکہ کی گونج وغیرہ کا نشانہ بن کر ایک فرد کے زخمی ہونے کی تفصیل بیان کرتے دیکھے اور سنے جا سکتے ہیں۔

فیس بک اور ٹوئٹر پر پوسٹ کی گئی اس ویڈیو میں وہی مناظر موجود تھے جو پاکستانی مسلح افواج کے ترجمان کی جانب سے شیئر کیے گئے تھے۔ ایک پہاڑی چوٹی پر کچھ عمارتیں نمایاں تھیں۔ اپسالا یونیورسٹی کے پروفیسر اور یونیسکو چیئر اشوک سوائن کی جانب سے جانب سے ٹوئٹر پر عمارتوں کا کلوزاپ بھی شیئر کیا گیا جس میں مناظر زیادہ واضح ہیں۔

ان تصاویر کا جائزہ لے کر امریکی ڈیجیٹل فارنزک ادارہ نے نتیجہ اخذ کیا کہ حملہ کا مقام جابہ ٹاپ کا قریبی علاقہ ہی تھا۔ درختوں اور عمارتوں کا جائزہ لینے پر بھی یہ واضح ہوا کہ یہ ایک جیسی تصاویر ہیں جو اسی علاقہ کی ہیں۔

ان مناظر کا جائزہ لینے سے یہ تصدیق بھی ہوئی کہ پاکستانی ملسح افواج کے ترجمان کی جانب سے شیئر کی گئی تصاویر متاثرہ مقام کی ہی ہیں۔ نیچے نظر آنے والی تصاویر گوگل ارتھ اور پاکستانی فوج کی جاری کردہ ہیں۔ ایک ہی علاقہ کی دونوں تصاویر میں سے ایک سیٹیلائٹ سے لی گئی جب کہ دوسری زمین سے لی گئی ہے۔

بھارتی فوج کے ریٹائرڈ کرنل ونائک بھٹ اس تجزیہ سے متفق ہیں، حملہ کے فورا بعد انڈین ویب سائٹ دی پرنٹ میں لکھے گئے اپنے مضمون میں انہوں نے اسی علاقہ کے سیٹیلائٹ مناظر شیئر کیے۔

بھارتی خبر رساں ادارے ایشین نیوز انٹرنیشنل (اے این آئی) نے حملہ کا ہدف بننے والے مقام کی مزید تصاویر ٹوئٹر پر جاری کیں۔ انڈین ادارہ کی جاری کردہ تصویر میں ایک داخلی راستہ اور دروازہ نمایاں ہے۔ کرنل ونائک بھٹ کے پیش کردہ سیٹیلائٹ مناظر میں نمایاں جگہ اور یہ تصویر ملتی جلتی نظر آتی ہے۔

سامنے اور دائیں جانب سے موجود سڑک پر پھیلا ہوا نیلا چھت یہ نتیہ اخذ کرنے میں معاون ہے کہ دونوں عمارتیں ایک جیسی ہیں۔

نقصان کا تجزیہ
انڈین دعوی کے بعد ہندوستانی میڈیا نے دعوی کیا کہ بھارتی طیاروں نے پاکستانی حدود میں قائم مبینہ تربیتی مرکز کو نشانہ بنا کر تباہ کیا ہے جس میں تین سو سے زائد مبینہ دہشتگرد مارے گئے ہیں۔ امریکی ادارہ نے اپنے فارنزک تجزیہ میں ایک اور ویڈیو کا جائزہ لیا جس سے واضح ہوا کہ حقیقی نقصان کتنا ہے؟

اس ویڈیو میں درختوں پر مشتمل علاقہ کا بڑا حصہ نمایاں ہے جو بموں کا نشانہ بنا دیکھا جا سکتا ہے لیکن اس میں کسی زخمی کی موجودگی یا عمارتی ڈھانچے کے کسی نقصان کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

تجارتی بنیادوں پر سیٹیلائٹ مناظر (تصاویر، ویڈیوز) فراہم کرنے والے بین الاقوامی ادارہ پلانٹ لیب کے ڈیٹا میں انڈین حملہ سے قبل اور بعد میں علاقہ میں چھوٹی سی تبدیلی دیکھی جا سکتی ہے۔ ان مناظر میں حملہ کی تاریخ 26 فروری کی تصاویر شال نہیں تاہم ایک دن قبل 25 فروری اور ایک دن بعد 27 فروری کی تصاویر دیکھی جا سکتی ہیں۔ ان تصاویر کے ذریعہ بہتر طریقہ سے صورتحال کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

مناظر کا فرق نمایاں کرتا ہے کہ کارروائی کا نشانہ صرف درختوں پر مشتمل علاقہ بنا ہے، اس میں انڈین دعوی کے مطابق قریب واقع کسی بھی مقام کا کوئی نقصان نظر نہیں آتا۔

نتیجہ یہ نکلتا ہے:
آزاد ذرائع سے دستیاب ثبوت اور سیٹیلائٹ مناظر کا جائزہ لے کر امریکی ادارہ ڈی ایف آر لیب نے تصدیق کی کہ انڈین حملہ کا مقام بالاکوٹ کے قریب تھا۔ انڈین کارروائی کا اصل نشانہ جیش محمد کے زیرانتظام فعال دینی تعلیمی ادارہ (مدرسہ) تھا، دیگر رپورٹس نے تصدیق کی کہ متاثرہ مقام سے تقریبا سو میٹر دور واقع مدرسہ کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

سپائس 2000 فائر کرنے سے پہلے ہی ہدف فیڈ کیے جانے کے باعث نشانے کو یقنی طور پر ہدف بنانے والا بم کہلاتا ہے، اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ اپنا ہدف مس نہیں کرتا جب کہ حالیہ معاملہ میں یہ دینی تعلیمی ادارے یا مدرسہ سے درجنوں میٹر دور گرا ہے۔ اس بم کی جدید شکل یہ سوال اور گھمبیر بنا دیتی ہے کہ بم نے ہدف کو نشانہ کیوں نہیں بنایا، سیٹیلائٹ مناظر میں کوئی تباہی نظر نہیں آتی اور واضح ہے کہ بم گرنے کے قریب موجود رہائش گاہیں محفوظ رہی ہیں۔ تمام تر دستیاب شواہد واضح کرتے ہیں کہ ہندوستان کی بیان کردہ تباہی کی کہیں کوئی علامت نہیں ہے۔

انٹلانٹک کونسل کی ڈیجیٹل فارنزک ریسرچ (ڈی ایف آر) لیب سے ڈیجیٹل فارنزک ریسرچ ایسوسی ایٹ کے طور پر وابستہ مائیکل شیلڈن نے اپنے تحقیقی جائزہ میں ذکر کیا ہے کہ وہ صورتحال میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیتے رہیں گے۔

نوٹ: ڈی آر ایف لیب کی یہ تحقیق پاکستان ٹرائب کے ڈیجیٹل میڈیا ڈیسک نے حقائق پرکھنے (فیکٹ چیک) کے تعلیمی مقصد کے تحت آپ تک پہنچائی ہے۔ اصل انگریزی تحریر کے جملہ حقوق ڈی آر ایف لیب کے لیے مختص ہیں۔ (ادارہ)

پاکستان پر انڈین سرجیکل اسٹرائک ایک ناکام آپریشن تھا؟ ڈیجیٹل فارنزک ماہرین حقائق سے پردہ اٹھاتے ہیں” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں