گرفتار بھارتی پائلٹ بہتر سلوک پر پاکستانی فوج کا شکرگزار | pakistantribe.com/urdu

عمران خان کی جانب سے انڈین پائلٹ کی رہائی کو بھارتی انتہا پسند امن کی علامت ماننے سے منکر

اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے گزشتہ روز گرائے گئے انڈین فائٹر جیٹ کے پائلٹ ابھے نندن کی رہائی کے اقدام کو انڈین سوشل میڈیا صارفین کی اکثریت امن کی علامت تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔

جمعرات کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان کل جمعہ کو گرفتار انڈین پائلٹ کو رہا کر دے گا اور ایسا امن کی خواہش کی علامت کے طور پر کیا جائے گا۔

عمران خان کے اعلان کے فورا بعد انڈیا میں سوشل میڈیا باالخصوص ٹوئٹر پر #WelcomeBackAbhinandan کا ٹرینڈ بنا۔ اس ٹرینڈ میں گفتگو کرنے والے بیشتر انڈین صارفین نے رہائی کے اعلان کو امن کی علامت کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

انڈین سیاستدانوں، ریٹائرڈ فوجی افسران اور نریندرا مودی کی جماعت کے حامیوں کا کہنا تھا کہ پاکستان کو انڈیا کی بھرپور اور جارح سفارت کاری کے بعد یہ اعلان کرنا پڑا ہے۔

کچھ انڈین صارفین ذرا دور کی کوڑ لائے اور کہا کہ رہائی کا یہ اعلان جنیوا کنونشن کے تحت عائد ہونے والی پابندیوں کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ پاکستان کے پاس اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا۔

ابھے نندن کی رہائی کیسے ہوئی؟

حکومت پاکستان نے ابھے نندن کی رہائی کو امن کی علامت قرار دیا تاہم سینئر پاکستانی صحافی طلعت حسین نے ٹوئٹر پر کہا کہ سفارتی حلقے اسے امریکی مداخلت کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔

نونیت مندھرا نامی انڈین ٹوئٹر صارف کا کہنا تھا کہ عمران خان نے مودی سے مقابلہ چھین لیا، انڈین ونگ کمانڈر کو گرفتار کرنے اور اخلاقی حوالہ دے کر رہا کرنے کے اعلان سے بالادستی حاصل کر لی ہے۔

امریکی اور یورپی میڈیا نے عمران خان کی جانب سے رہائی کے اعلان اور اسے امن کی علامت قرار دینے کو مثبت انداز میں رپورٹ کیا۔

گزشتہ روز گرفتار بھارتی پائلٹ کی ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں وہ پاکستانی فوج کے حسن سلوک کو سراہتے دیکھا جا سکتا تھا۔ ابھے نندن کا کہنا تھا پاک فوج نے اسے مشتعل افراد کے قبضہ سے چھڑایا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں