سردیوں میں ہمارا وزن کیوں بڑھ جاتا ہے؟ | pakistantribe.com/urdu/

سردیوں میں ہمارا وزن کیوں بڑھ جاتا ہے؟

اکثرافراد سردیوں کے موسم میں وزن بڑھنے کی شکایت کرتے ہیں اوراس کا ذمہ داراپنی خوش خوراکی کو قرار دیتے ہیں، لیکن طبی اور غذائی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ زیادہ کھانا ہی موٹاپے کی وجہ نہیں بلکہ موسم سرما سے جڑے دیگر کئی عوامل ایسے ہیں جو ہمارا وزن بڑھنے کی وجہ بنتے ہیں۔

اگر آپ کے ذہن میں بھی یہ سوال ہے کہ سردیوں میں ہمارا وزن کیوں بڑھ جاتا ہے؟ تو یقین مانیں کہ آپ درست جگہ پہنچے ہیں۔

پاکستان ٹرائب ہیلتھ ڈیسک نے طبی و غذائی ماہرین کی آراء کو مدنظر رکھ کر ذیل میں کچھ ایسے عوامل مرتب کیے ہیں جو سردیوں میں ہمارے وزن میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ آپ بھی ان معاملات کے متعلق خبردار رہتے ہوئے وزن کو بڑھنے سے روک سکتے ہیں۔

سردیوں میں گھرمیں زیادہ رہنا
سردی کے موسم میں زیادہ ٹھنڈ کے باعث ہر انسان کی کوشش ہوتی ہے کہ باہر جانے کے بجائے گھر میں زیادہ سے زیادہ رہے۔ گھر میں زیادہ وقت گزارنے سے انسان ورزش سے بھی دور رہتا ہے جب کہ اسے دھوپ بھی نہیں ملتی۔

لمبی راتیں
سردیوں کے دن چھوٹے اور راتیں لمبی ہوتی ہیں، جس کے باعث انسان زیادہ سوتا اور آرام پسند ہوجاتا ہے جس کے باعث ’باڈی سائیکل‘ بھی سست روی کا شکار ہوجاتی ہے جو وزن میں اضافہ کا باعث بنتا ہے۔

لو بلڈ پریشر کا انوکھا اور آسان علاج

سردی میں اچھا کھانا
سردیوں کے موسم میں انسان اچھا کھانا پسند کرتا ہے۔ زیادہ موسمی پھل اور مختلف کھانے آپ کے جسم کو بہت زیادہ موٹا بنا دیتے ہیں۔

میٹابولزم کا بڑھنا
میٹابولزم کا بڑھنا صحت کے لیے اچھا عمل ہے لیکن اس عمل کا ایک دم اضافہ وزن بڑھنے کا بھی باعث بنتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق جب ہمارے جسم کی کیلوریز یکا یک کم ہوتی ہیں تو ہمیں بھوک بھی بہت لگتی ہے اور ہم زیادہ کھاتے ہیں جس سے موٹاپے کا شکارہوجاتے ہیں۔

موسمی تبدیلی
موسم میں تبدیلی انسان کی صحت کو بہت زیادہ متاثرکرتی ہے، کچھ تو اس حد تک متاثر ہوجاتے ہیں کہ ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں، خود کو موسمیاتی تبدیلیوں سے بچانے کے لیے لوگ گھروں میں قید ہوجاتے ہیں جس کے باعث وہ موٹاپے کا شکار ہوجاتے ہیں۔

سردیوں میں میٹھا کھانا
جس طرح سردی کے موسم میں اچھا کھانے کو دل چاہتا ہے بالکل اسی طرح ٹھنڈ کے موسم میں میٹھا کھانے کو بھی دل چاہتا ہے اور جسم کو ضرورت سے زیادہ مٹھاس ملے تو موٹاپا بہت جلدی آپ کو آ گھیرتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں