عام انتخابات میں آر ٹی ایس کیسے فیل ہوا؟ نادرا نے رپورٹ جمع کرا دی

عام انتخابات میں آر ٹی ایس کیسے فیل ہوا؟ نادرا نے رپورٹ جمع کرا دی

اسلام آباد: 25 جولائی کو پاکستان میں ہونے والےعام انتحابات 2018 کے موقع پر نتائج کی بروقت ترسیل کے لیے قائم کردہ نظام آر ٹی ایس فیل ہونے کے متعلق رپورٹ نادرا نے الیکشن کمیشن کو بھیج دی ہے۔

پاکستان ٹرائب کے نمائندہ اسلام آباد کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی جانب سے بھیجی گئی رپورٹ موصول ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔

نادرا نے رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ آرٹی ایس 25جولائی کو ٹھیک کام کررہاتھا۔ الیکشن کے دن شام   6بجے سے 27 جولائی شام  4بجے تک آر ٹی ایس سے نتائج موصولی کا عمل جاری رہا۔

عمومی تاثر کی نفی کرتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نادرا نے آرٹی ایس کے آپریشن کو محفوظ رکھنے کے لیے بین الاقوامی معیار کا بیک اپ تیار کیا تھا۔

نادرا نے واضاحت کی ہے کہ آر ٹی ایس کا بالواسطہ یابالاواسطہ اس کام سے کوئی تعلق نہیں تھا کہ وہ کسی حلقے کے نتائج مرتب کرے۔ رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم (آر ٹی ایس) اور رزلٹ مینجمنٹ سسٹم (آر ایم ایس) میں کوئی مماثلت بھی نہیں تھی۔

نادرا کی آر ٹی ایس سے متعلق رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ آرٹی ایس میں ڈیٹا فیڈ کرنے کا اختیار صرف پریزائڈنگ اور اسٹنٹ پریزائیڈنگ افسران کوتھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ابتداء میں آرٹی ایس کے ذریعے رزلٹ کی آمد جاری رہی، انتخابی عملے کو آرٹی ایس سافٹ وئیر کے استعمال کرنے میں مختلف وجوہات رکاوٹ کاباعث بنی۔

نادرا کی رپورٹ میں ان اسباب کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انٹرنیٹ کی عدم دستیابی بھی رزلٹ فارم کی آرٹی ایس سے ترسیل میں بڑی رکاوٹ بنی رہی جب کہ بیشتر پریزائیڈنگ اور اسٹنٹ پریزائیڈنگ افسران کے پاس اسمارٹ فون دستیاب نہیں تھے۔

نتائج میں تاخیر کی ممکنہ وجوہات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پریزائیڈنگ افسران کی اسمارٹ فون سے کم واقفیت، موبائل چارجنگ کے مسائل اور ڈیٹا پیکجز نہ ہونے کے باعث نتائج آر ٹی ایس کے زریعے نہ بھیجے جا سکے۔

نادرا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بیشتر پریزائیڈنگ اور اسٹنٹ پریزائیڈنگ افسران ٹیکنالوجی کے استعمال کی مہارت نہیں رکھتے تھے جب کہ الیکشن کمیشن کی رات 2 بجے سے قبل غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کا پریشر بھی ناکامی کا سبب بنا رہا۔

الیکشن کمیشن نے اس ڈیڈ لائن کو حاصل کرنے کے لیے احکامات جاری کیے کہ آر ٹی ایس کو بائی پاس کر دیا جائے۔

25 جولائی کو ہونے والے انتخابات کے نتائج تاخیر سے آنے کو الیکشن میں دھاندلی قرار دیتے ہوئے متعدد سیاسی جماعتوں نے مطالبہ کیا تھا کہ اس ناکامی کی ذمہ داری الیکشن کمیشن پر عائد ہوتی ہے۔ مختلف رپورٹس میں نادرا کو آر ٹی ایس سسٹم تیار کرنے اور چلانے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اس ناکامی کا حصہ دار کہا گیا تھا۔ تاہم قومی ادارے کا کہنا تھا کہ اس کا تیار کردہ نظام فیل نہیں ہوا ہے۔

ویب ڈیسک

یہ پاکستان ٹرائب کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *