اے آر وائی اور بول نیوز کے دفاتر سیل کرنے کا فیصلہ معطل | pakistantribe.com/urdu

اے آر وائی اور بول نیوز کے دفاتر سیل کرنے کا فیصلہ معطل

اسلام آباد:‌سپریم کورٹ آف پاکستان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا وہ فیصلہ معطل کر دیا ہے جس میں نجی ٹیلی ویژن چینلز اے آر وائی اور بول نیوز کے رہائشی علاقوں‌ میں‌قائم دفاتر بار بار کے نوٹسز کے باوجود منتقل نہ کرنے کی پاداش میں‌ سیل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی عدالت نے پیر کے روز مقدمہ کی سماعت کرتے ہوئے حکم دیا تھا کہ دونوں ٹی وی چینلز کے دفاتر سیل کر دیے جائیں۔

سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے دو نجی چینلز کو سیل کرنے کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے سی ڈی اے کو فوری طور پر نجی چینل اے آر وائی اور بول نیوز کے دفاتر کو ڈی سیل کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

دونوں چینلز کی جانب سے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔

درخواست گزار کے وکیل فیصل چوہدری نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ ہائی کورٹ نے بغیر سنے فیصلہ دیا ہے۔ سی ڈی اے کی جانب سے دفاتر سیل کرنے کی وجہ سے نشریات میں تعطل پیدا ہو گیا ہے۔

سپریم کورٹ نے منگل کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے چیئرمین سی ڈی اے کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

عدالت عظمی میں نجی چینلز کی درخواست پر کارروائی چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کرے گا۔

پیر کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسلام آباد بھر سے تجاوزات کے خاتمے کا معاملہ سنا تھا۔ اس موقع پر صدر ڈسٹرکٹ بار کونسل نے فٹبال گراؤنڈ پر وکلاء کے قبضہ کے دفاع میں دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ شہر میں قبضہ تو صحافیوں نے بھی کیا ہوا ہے۔ صدر ڈسٹرکٹ بارکونسل نے عدالت سے کہا تھا کہ سی ڈی اے پریس کلب کے خلاف کارروائی نہیں کرتا کہ ان کے خلاف خبریں لگ جائیں گی۔

عدالت نے ریمارکس دیے تھے کہ ہم نے تجاوزات کرنے پر مخلتلف چینلز کو نوٹسز جاری کیے کچھ نے جگہ خالی بھی کردی ہے۔

سی ڈی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ ہم پریس کلب کے خلاف آپریشن کریں گے۔ تاحال دو نجی چینلز کی طرف سے دفاتر رہائشی علاقوں سے منتقل نہیں کیے گئے۔

عدالت نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو حکم دیا کہ آج ہی دونوں نجی چینلز کے خلاف آپریشن کیا جائے۔ نجی چینلز کے نمائندوں نے عدالت سے مزید دو ماہ کے مہلت کی استدعا کی جسے عدالت نے مسترد کر دیا تھا۔

عدالت عالیہ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اس موقع پر وکلاء نمائندوں کو فٹ بال گراؤنڈ خالی کرنے کی حکمت عملی بنانے کے لیے 15 دن کی مہلت دے دی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں